اُنیسویں صدی میں ایرانی عورتوں کی خوبصورت کا معیار موٹاپا اور طرح دار مونچھیں

دیا ناصرiranian 2

اگرچہ آج کی ایرانی عورت جسمانی افزائش کے لیے ناک، سینے اور کولہوں کے لیے سرجری کرواتی ہیں۔ لیکن انیسویں صدی کے ایران کی خوبصورتی کا مطلب آج کی خوبصورتی کے مطلب سے بلکل مختلف تھا۔موٹاپا اس زمانے میں عورت کےوجود میں خوبصورتی کاسب سے اہم فیچر تھا جتنی وہ بھاری جسامت کی ہوتی مرد کے لیے اتنی ہی دلجو ہوتی۔عورتوں کی مونچھیں ان کی خوبصورتی میں اضافی کا باعث تھیں اسی لیے غیر ضروری بالوں کے خاتمے کی کریمیں دو صدیاں پہلے  اتنی مشہور نہ تھیں۔

ناصرالدین شاہ بہت سیiranian 5 شادیوں کے بعد بھی زندگی کی لذت کا متلاشی تھا اور اس کے گرد موجود لوگوں کو اس کی یہ بات پسند نہ تھی۔ایرانی بادشاہ کو اپنے بچپن سے ہی فوٹو گرافی کا بہت شوق تھا۔ جب وہ تخت نشین ہوا تو اس نے ایک تصویر کشی کا کمرہ بنوایا اور ایک رشین فوٹو گرافر اینٹوین سیوروجین کواپنےذاتی فوٹوگرافر کے طور پر  تہران بلایا۔فوٹوگرافر کو صرف بادشاہ کے خاندان اور محل کے باشندوں کی تصویر کشی کی اجازت تھی۔ ایرانی بادشاہ نے اپنے iranian 3حرم سرائے کی عورتوں کی تصویر کشی کروائی جو کہ  تقریبا 100 تھیں۔پھر اس نے تصاویر کو دھلوایااور  گلستان محل  میں رکھوا دیا جو آج کل تہران میں ایک نمائش میں شامل ہے۔ اس وقت، شیعی مسلک اور رسم ورواج iranian 4کے مطابق تصویر کشی منع تھی، لیکن صرف بادشاہ حدود پھلانگ سکتا تھا۔

اگر ناصر الدین کی بیویوں کا کیمرہ کے سامنے تاثر دیکھا جائے تو وہ بہت پر سکون اور خوش دکھائی دیتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ناصر دین کی بیویاں بھی کسی اونچے طبقے یا امراؤں کے خاندان سے تھیں جو شاید اسی لیے سماجیروایات کو نظر انداز کر سکتی تھیں۔

تصاویر سے بیویوں  کے بیچ دوستی کی جھلک نظر آتی ہے جو کہ عام  توقع کے بر عکس ہے۔  جیسا کہ وہ کیمرہ کے سامنے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی نظر آتی  ہیں۔وہ ایک ساتھ سفر کرنے میں بھی مشہور تھیں ۔

بہت ساری تصاویر میں ناصرالدین کی بیویوں نے چھوٹی سکرٹس بھی پہنی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایرانی بادشاہ نے روس کے  ڈانس شو میں شرکت کی ۔ اس iranian 6شو میں اس نے ناچنے والیوں کے چھوٹےسکرٹس کی تعریف کی اور اپنی بیویوں اور حرم سرائے کی عورتوں کے لیے ویسے  سکرٹس بنوائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *