اگر عمران خان نا اہل ہو گئے تو کیا ہو گا؟

فہد حسینfahad hussain

عمران خان کے خلاف بنی گالہ پراپرٹی کے بارے میں سپریم کورٹ میں  کیس اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔ عمران خان کی لیگل ٹیم اپنے لیڈر کو بے گناہ ثابت کرنے اور بنی گالہ پراپرٹی کو جائز قرار دلوانے میں بہت مشکل سے گزر رہی ہے۔ ایک لاکھ پاونڈ کی رقم کی منی ٹریل پیش کرنا عمران خان کی ٹیم کے جان جوکھوں کا کام بن چکا ہے۔ ممکن ہے کہ ابھی کیس میں ڈرامائی تبدیلی آجائے اور عمران خان باعزت بری ہو جائیں ۔ دوسری طرف عمران خان کو نا اہل بھی قرار دیا جاسکتا ہے اور وہ 2018 کے الیکشن میں حصہ لینے کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ہم دیکھتےہیں کہ کس صورت میں کیا نتیجہ نکلے گا:

1۔ اگر پی ٹی آئی خورشید شاہ کو اپوزیشن لیڈر کی کرسی سے محروم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کےلیے اچھا شگون ہو گا کہ پی ٹی آئی اپنا اپوزیشن لیڈر سامنے لانے کے قابل ہو جائے گی۔ لیکن چونکہ شاہ محمود کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی تجویز پر پارٹی رہنماوں نے اتفاق نہیں کیا اس لیے اب فواد چوہدری کے مطابق عمران خان ہی اپوزیشن لیڈر کے امیدوار ہوں گے۔ لیکن اگر وہ نا اہل ہو گئے تو؟

2۔ اگر کیس کے فیصلے سے قبل اپوزیشن لیڈر عمران خان کو بنا دیا گیا اور فیصلہ عمران خان کے خلاف آ گیا اور عمران خان کو نا اہل قرار دے دیا گیا  تو ایک نیا مسئلہ پیش آئے گا۔

3۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے سپریم کورٹ نے پہلے وزیر اعظم کو نکال باہر کیا اور پھر اپوزیشن لیڈر سے بھی چند ہفتوں میں چھٹکارا پا لیا۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان کے پاس یہ اعزاز بھی ہو گا کہ وہ محض چند دن اپوزیشن لیڈر رہنے کےبعد اپنے عہدہ سے بر طرف ہو جائیں گے۔

4۔ اسی وجہ سے عمران خان خورشید شاہ کو اپنی سیٹ محروم کرنے میں جلدی نہیں دکھا رہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہیں ایسے اہم وقت میں اس بڑے فیصلے  کے نتائج کا اندازہ ہے۔

5۔ کچھ دوسرے مسائل بھی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: ہو سکتا ہے کہ فیصلہ محفوظ کر لیا جائے۔  یا فیصلہ کرنے میں بہت وقت لگ جائے اور پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا پڑے کہ اس کے پاس اس قدر پارلیمنٹیرین ہیں کہ وہ اپنا اپوزیشن لیڈر لا سکیں؟

6۔ اگر پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں اتنے رفیق بنا لیتی ہے کہ وہ اپنے امیدوار کا اعلان کرے تو: یا وہ عمران خان کو امیدوار بنا کر ان کی نااہلی کا رسک اٹھائے گی یا: شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے لا کر پارٹی میں اختلافات بڑھانے کا رسک اٹھائے گی۔ ان میں سے جو بھی راستہ اختیار کرے، نتائج بہت معنی خیز ہوں گے۔

7۔ اگر نتائج اچھے نہیں نکلتے اور عمران خان نا اہل قرار پاتے ہیں تو کیا صورت حال ہو گی ۔ پہلے تو پی ٹی آئی کو الیکشن جیتنے کی صورت میں اپنے وزیر اعظم کے امیدوار کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ عمران خان کی غیر حاضری میں یہ معاملہ بہت مشکل صورتحال اختیار کر لے گا۔ شاہ محمود قریشی کی اپوزیشن لیڈر نامزدگی کے طور پر دیکھ لیں کہ کیسا رد عمل دیکھنے میں آیا تھا۔ پارٹی دھڑوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ یہ ممکن ہے کہ عمران خان اسد عمر، شاہ محمود، جہانگیر ترین ، فواد چوہدری میں سے کسی سینئر ترین شخص کو اپنا جانشین مقرر کر دیں لیکن پھر بھی پارٹی میں اختلافات کے چانسز کو رد نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔

8۔ سب سے زیادہ نقصان پارٹی کا مورال کم ہونے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ عمران خان نے جس طرز سیاست کا انتخاب کر رکھا ہے  اس کے بعد ان کی نااہلی کی صورت میں انہیں بھی  عوام نواز شریف کی طرح شکی نظروں سے دیکھیں گے۔ اگر ن لیگ کارڈز کھیلنے میں عقلمندی کا ثبوت دیتی ہے توعمران خان کی نا اہلی سے ن لیگ کے بہت سے نقصان کی تلافی ممکن ہو جائے گی۔

9۔ اگر نواز شریف اور عمران خان دونوں اگلے الیکشن کےلیے نا اہل ہو گئے تو  دو سوالات کھڑے ہوں گے: الف: جس نظام میں سب سے بڑے اور متاثر کن لیڈران کو نا اہل قرار دیا جائے وہاں عام سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کی کیا وقعت ہے؟  کیا جمہوریت کو طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا گیا ہے؟

10۔ عمران خان کےنا اہل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ان کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ حیران کن بات یہ ہو گی کہ وہ اسی آئین کی شق کا سہارا لیں گے جس کو وہ اب تک سخت تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں۔ اور اگر عمران خان نا اہل قرار دے دیے گئے تو ایک بار پھر سیاست، احتساب، عدالتوں اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر نئی بحث شروع ہو جائے گی۔

اس لیے ضروری ہے کہ سیاستدان ہوش کے ناخن لیں اور اپنے فیصلے عقل اور ہوش سے لینے کی روش اختیار کریں۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *