‘‘جناح کی والدہ نے آخری بار کہاتھا’’تم بڑے آدمی ضرور بنوگے اور میں تم پر فخر کروں گی

jinnah 2ترجمہ :جہاں آراء سید 

قسط نمبر 9:
جناح بھائی نے بیٹے کو ممکنہ حد تک کفایت شعاری سے کام لینے کی جو تعلیم دی تھی ، وہ اب ان کے کام آرہی تھی ۔ محمد علی جناحؒ نے والد کی بھیجی ہوئی رقم کو سمجھداری سے خرچ کرتے ہوئے ، دو کی بجائے چار سال تک چلایا۔ یہی نہیں بلکہ چار سال بعد جب گھر لوٹنے کا وقت آیا تو ان کے پاس بچت کی صورت میں 70پاؤنڈز موجود تھے ۔اس میں سے واپسی کا کرایہ ادا کرنے کے بعد بھی ان کے پاس کچھ پیسے بچ گئے تھے ۔یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ تھا جس میں یقیناًقائداعظم ؒ کی کوششوں کا بڑا دخل تھا۔ گو کہ اس دوران انہوں نے دو ایک چھوٹے موٹے پارٹ ٹائم کام بھی کئے تھے ، تا ہم اس بچت کا بڑا سبب اپنے بجٹ کو احتیاط کے ساتھ مرتب کرنا تھا۔اگر دیکھا جائے تو روپے پیسے کے معاملے میں محمد علی جناح ؒ اور ان کے والد میں کفایت شعاری کی مشترک نظر آتی ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنے والد سے بہت مختلف تھے ۔ جناح بھائی کے نزدیک پیسے کی بہت اہمیت تھی ۔یہی وجہ تھی کہ کاروبار میں نقصان کے بعد جب ان کے پاس پیسے کی آمد نہیں رہی تو وہ انتہائی دل شکستہ اور مایوس رہنے لگے ۔ اس کے برعکس محمد علی جناح ؒ باوجود اس کے کہ والد کی مانند کفایت شعاری کی عادت پر عمل پیرا رہے ،لیکن پیسے کی کمی کو انہوں نے دل کا روگ نہیں بنایااور اپنے حوصلے ہر صورت بلند رکھے ۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ ان باتوں سے بالا تر تھے ۔ وہ پیسا کمانے کے قائل تو ضرور تھے لیکن اسے ضروریات پوری کرنے کے ذریعے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے ۔
جناحؒ انگلینڈآنے کے بعد اپنی کامیابی کی راہیں تلاش کرنے کیلئے کوشاں تھے ، اس راستے پر آگے بڑھتے ہوئے انہیں جو پہلا نقصان اٹھاناپڑا ، وہ ایک گہرا ذاتی صدمہ تھا۔ان کی والدہ کراچی میں اپنے ساتویں بچے کو جنم دیتے ہوئے فوت ہوگئی تھیں ۔یہ واقعہ ان کی انگلینڈ آمد کے تقریباََدس ماہ بعد پیش آیا۔ مٹھی بائی کی وفات کے بعد جناح بھائی کا بزنس خسارے کا شکار ہوا تھا، گو کہ یہ بات واضح نہیں کہ ان کے دیوالیہ ہونے کاسبب ان کا اہلیہ کی وفات تھی ،لیکن محمد علی جناحؒ کیلئے تو یہ صدمہ بہت بڑا تھا ۔ ان کی نوعمر اہلیہ ایمی بائی بھی ان کے انگلینڈ آنے کے بعد انتقال کر گئی تھیں ، تاہم والدہ کے انتقال کا صدمہ ان کے لئے جانکاہ ثابت ہوا۔ یہ خبر موصول ہونے کے بعد وہ کئی گھنٹوں تک روتے اور سسکتے رہے تھے ۔ محترمہ فاطمہ جناحؒ کے مطابق اس صدمے سے وہ بہت متاثر ہوئے تھے کیونکہ اپنی والدہ سے انہیں بے حد محبت تھی جنہیں میں وہ دنیا میں سب سے بڑھ کر عزیز رکھتے تھے ۔ والدہ ہی دراصل بڑا آدمی بننے کا خیال ان کے دل میں ڈالا اور پروان چڑھایا تھا۔

محمد علی جناحؒ گھر سے دور تھے ، لہٰذا نہیں یہ صدمہ اکیلے ہی سہنا تھا۔ ان لمحات میں انہیں کراچی سے روانہ ہوتے وقت والدہ سے جدائی کا منظر یاد آرہا تھاجسے وہ کبھی بھی بھول نہیں سکتے تھے ۔ تب انہوں نے جناحؒ سے کہا تھاکہ ’’ میرے بیٹے میں تم سے دور ہونا نہیں چاہتی لیکن مجھے پوری امید ہے کہ انگلینڈ کا یہ سفر تمہیں بڑا آدمی بننے میں تمہارا مددگار ثابت ہوگا اور یہی میری زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے ۔‘‘محمد علی جناحؒ خاموشی سے ان کی بات سن رہے تھے ۔ وہ کہنے لگیں ، ’’ محمد علی ؒ تم ایک لمبے سفر پر جارہے ہو اور مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ جب تم انگلینڈ سے واپس آؤ گے تو میں تمہیں دیکھنے کیلئے زندہ نہیں ہوں گی !‘‘اس کے بعد وہ رونے لگی تھیں ، تا ہم محمد علی جناحؒ نے حوصلے سے کام لیتے ہوئے اپنے جذبات پر قابو پالیا تھا۔ ان کیلئے والدہ کے الوادعی الفاظ تھے کہ ’’ خدا تمہاری حفاظت کرے گا، تم بڑے آدمی ضرور بنو گے اور میں تم پر فخر کروں گی ۔ ‘‘ ان کے یہ الفاظ جناحؒ کے ذہن میں گونجتے رہتے تھے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *