کتابوں کی باتیں

kitabon ki batainسید مظہر علی شاہ
کتابوں کی باتیں کر نے سے پہلے ہم ملک کے وہ کتب فروشوں یعنی سعید بک بینک اور مسٹر بکس کے مالکا ن کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جو کہ اب ہم میں موجود نہیں ہیں ان دونوں شخصیات کا حال ہی میں یکے بعد دیگرے انتقال ہو گیا آج کل ہمارے زیر مطالعہ تین کتابیں ہیں وہ انگریزی زبان میں لکھی ہوئیں اور ایک اردو میں اتفاق سے یہ تینوں کتابیں گرامر کے بارے میں ہیں انگریزی کی کتابیں جنیوتی سنیال اور خالد حسن مرحوم لکھی ہیں جن کے نا indishاور stylebookاور اردو کی کتا ب جو نصیر ترابی صاحب نے لکھی ہے اس کا نام شعریات ہے اس کتاب کا ہلکا سا ذکر ہم نے اپنے ایک کالم میں پہلے بھی کیاتھاآج ذرا اس کتاب کے بارے میں تفصیل سے بحث ہو جائے ترابی صاحب نے اردو شائری میں جہاں اجازت اور ممانعت یعنی شاعری یاتدابیر الشعر ایا اجازہ شاعر کا تذکرہ بھی کیا ہے کہ جسے انگریزی زبان میں Poetic licenceکہتے ہیں وہاں ان گرامر کی غلطیاں بھی اجاگر کی ہیں جو ہم جیسے لکھاریوں سے روزانہ کسی نہ کسی شکل میں سر زد ہوتی رہتی ہیں صحافیوں کو تو چلو اس با ت کا گلہ نہیں دیا جاسکتا کہ انہوں نے گھڑی میں دےئے گئے وقت کے ساتھ دوڑ لگا کر تیزی میں لکھنا ہوتا ہے تب ہی تو انگریزی میں صحافت کو Literature in hasteکا نام دیا گیا ہے یعنی عجلت میں لکھا گیا لٹریچر پر ناول یا کسی اور مصنف میں لکھی گئی تحریروں میں گرامر کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے نصیر ترابی صاب کی کتاب کے مطالعے سے ہم نے جو سمجھا ہے اس کا خلاصہ ہم آپ کیلئے درج ذیل کرتے ہیں اس پڑھیے گرامر کی باریکیوں کا لطف اُ ٹھائیے اور کوشش کیجئے اپنی تحریروں سے آپ ان سے فائد ہ اُٹھاسکیں ہم اپنی اکثر تحریروں میں قرض حسنہ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں یہ غلط ہے ترکیب ’’ قرض حسن ‘‘ ہے ناوقت کا مرکب غلط ہے اس کی جگہ بے وقت درست ہے بنفس نفیس کی ترکیب کسی دوسرے کیلئے استعمال ہوتی ہے اپنی ذات کیلئے احتراماََکچھ کہنا مہذباغلط ہے آپ کبھی بھی یہ نہ لکھیں ’’سمجھ نہیں آتی ‘‘صیح جملہ ‘‘سمجھ میں نہیں آتا ‘‘ ہے آج کل بیشتر مکتبہ فکر ‘‘ لکھا جارہا ہے یہ غلط ہے اس کی جگہ مکتب فکر درست ترکیب ہوگی ۔ قابل شرم کی ‘‘ کی ترکیب غلط ہے اس کی جگہ شرمناک ‘‘ ہونا چاہئے عربی لفظ قصاص کی وجہ سے قصائی ص سے لکھا جاتا ہے یہ غلط ہے قصائی کو ’’سین ‘‘ سے قسائی لکھنا چاہئے کہ ریہ لفظ قساوت سے تراشا گیا ہے قسائی کی ثانیت کو قسائنی لکھنا مناسب ہے غضب عربی کا لفظ ہے اور اس میں ’’ ض ‘‘ ہے ایک دوسرا لفظ ہے غیظ اس میں ’’ظ‘‘ ہے غیظ وغضب مستقل مرکب ہے اس کو عمو ماََ غیض وغضب لکھا جاتاہے یہ صیح نہیں ہاتھ کو غالب ’’ ہات ‘‘ اور ہاتھی کو ’’ ہاتی ‘‘ لکھتے تھے چاقو کو چاک کردن ‘‘ سے مشق مان کر چاکو لکھا کرتے عندلیب اپنی خوش رنگی اور خوش نوئی کی وجہ سے بلبل کی مترادف ہے لہٰذا مونث لکھی جاتی ہے بقول شاعر
کہتے ہیں فصل گل تو چمن سے گزر گئی
اے عندلیب تو نہ قفس بیچ مرگئی
بلبل اپنی نازک اندامی اور حسن کے اعتبار سے مونث ہے بعض اسے مذکر لکھتے ہیں سید انشاء کے مطابق بلبل اداس بیٹھی ہے اک سوکھی شاخ پر میر انیس کے ہاں
بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میں
اقبال کے نزدیک ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
صاحب’’ منشورات‘‘ پنڈت وتاتریہ کہتے ہیں کہ اگر یہ تسلیم کرلیاجائے کہ بلبل پھول پر عاشق ہے اور عاشق مذکر ہوتا ہے تو ہمیں یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ پھول چونکہ مذکر ہے اور بلبل اس پر عاشق ہے اس لئے مذکر کی عاشق مونث ہی ہوسکتی ہے کچھ ایسے الفاظ ہیں جو کبھی مذکر تھے لیکن بعد میں مو نث ہوگئے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *