عامر لیاقت ختم نبوت کاز کو نقصان نہ پنچائیں

syed arif mustafa

 

دشمنی آدمی کو اس قدر اندھا کردیتی ہے ،،، کہ وہ گندگی کے اس درجہ پست ترین مقام تک گر سکتا ہے ،،، یہ اندازہ عامر لیاقت کے 4 اکتوبر کے پروگرام ایسے نہیں چلے گا کو دیکھ کے ہوا ۔۔۔ اس میں موصوف جنگ دشمنی میں اندھے ہو کے اس تاریخی فیصلے کی اشاعت پہ ہی غصے میں پاگل ہوگئے کہ جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کچھ عرصہ قبل دیا تھا ۔۔۔۔ اس سے قطع نظر کے موصوف اس ادارے کا راتب کامل 14 برس تک چاٹتے رہے ہیں اور اب تیشہ و کدال تھامے منہ میں غیض و غضب کا جھاگ بھرے اسکے انہدام کے مواقع کھوجتے پھرتے ہیں ۔۔۔ انکا کہنا یہ تھا کہ یہ تفصیلی فیصلہ اتنے دنوں بعد کیوں شائع کیا گیا ۔۔۔ جبکہ ختم نبؤت کے قانون میں تبدیلی کی حکومتی حماقت کا موقع ہی تو وہ درست موقع تھا کہ اسے ایک یاد دہانی کے طور پہ شائع کیا جائے کیونکہ تحریک ختم نبؤت کا ساتھ دینے میں‌اس اخبار کا کردار ہمیشہ ہی نہایت مستحسن رہا ہے- عامر لیاقت کے اس اوچھے پن کو دیکھتے ہوئے یہ جی چاتا ہے کہ انہیں کوئی دردمند جاکے یہ ممشورہ دے کہ جناب آپ بھلے کسی سے بھی اپنی ذاتی دشمنی نکالیئے لیکن اس کو ختم نبؤت جیسے ارفع مقصد کے ساتھ آمیز قطعاً نہ کریں کیونکہ اس عظیم کاز کی آڑ میں کسی سے ذاتی خبث باطن کے نکاس کی کوئی گنجائش برداشت نہیں کی جاسکتی

زندہ و بیدار مغز معاشروں میں یہ بات بہت اہم ہے کہ وہ اچھے کاموں اور انکو کرنے والو‌ں کو ہمیشہ اچھے انداز میں یاد رکھتے ہیں اور یہاں ختم نبؤت کی تحریک کے حوالے سے ادارہء جنگ کے نہایت مثبت کردار کو یکسر بھلادینا نہایت تنگ دلی اور کم ظرفی کی بات ہوگی - مجھے اچھی طرح سے یاد ہے 43 برس قبل بھی جب یہ تاریخی فیصلہ آیا تھا اس موقع پہ بھی اس اخبار نے خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا تھا اور اس کے بعد سے ہر برس اس فیصلے کی سالگرہ کے موقع پہ بھی اکثر ایسے مضامین کو خصوصی طور پہ شائع کیا جاتا رہا ہے کہ جن سے اس فیصلے کی یاد دہانی اور تجدید ستائش مقصود ہوتی ہے - اور اس حوالے سے یہ بات بھی اس ادارے کے نہایت مثبت کردار ہی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے کہ خود تحریک ختم نبوت کے بلند مقام اصحاب جیسے حضرت مولانا یوسف بنوری، مولانا شامزئی ، مولانا جلالپوری اور مولانا عبدالرزاق اسکندر وغیرہ اس اخبار کے لیئے مستقل کالم اور خصوصی مضامین لکھتے رہے ہیں لیکن عامر لیاقت جیسے لوگ جنکی آنکھوں پہ جوش انتقام نے پردہ ڈال رکھا ہے وہ جانتے ہوئے بھی اس حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں

سچ تو یہ ہے کہ نواز شریف حکومت کے کارپردازوں کی غلطی سے نئے الیکشن بل میں ختم نبت کے قانون کی جو شق بدلی گئی تھی اسکی بحالی کی مد میں 3 اکتوبر کی شام تک ارباب حکومت گو مگو کی کیفیت میں تھے کیونکہ یقینی طور پہ ان پہ منفی قؤتیں بھی اپنا دباؤ ڈال رہی ہونگی اور اس تذبذب کو دیکھتے ہوئے یہی تو وہ صحیح وقت تھا کہ جب حکومت پہ اخلاقی دباؤ ڈالنے کی ضرورت تھی اور اس سلسلے میں پاکستانی معاشرے کے ہرطبقے کی طرف سے اپنا حصہ ڈالنا از بس ضروری تھا تاکہ ختم نبوت کے قانون میں ہوجانے والی حکومتی غلطی کو بہر صورت واپس لیا جائے کیونکہ وزیراعظم کی جانب سے اس غلطی کو منسوخ کرنے کا عندیہ دیئے جانے کے باوجود ان خفیہ ہاتھوں کی نشاندہی نہیں ہوسکی تھی کہ جو مغربی آقاؤں کے ایماء پہ اس خرابے کے ذمے دار تھے - گویا یہ ناگزیر تھا کہ تمام طبقات اس دباؤ کو شدید تر بنانے کے لیئے جو بھی ممکن ہو کر گزریں کیونکہ منفی طاقتیں حکومت کو ختم نبوت کے حوالے سے سرزد ہونے والی اس غلطی کی تنسیخ اور پرانی شق کی بحالی سے روکنے کے لیئے ہر ممکن کوششیں کرسکتی تھیں کیونکہ اس ایک حکومتی غلطی کی وجہ سے 1974 میں ختم نبؤت کا بل منظور ہونے کے 43 برس بعد احمدیوں کو پھر نقب لگانے کا موقع ہاتھ آگیا تھا

ان منفی قؤتوں کو بھرپور خدشہ تھا کہ رائے عامہ کے دباؤ کے نتیجے میں‌احمدیوں‌کو انکا مسلمانوں والا تشخص دلانے کی مغربی سازش کامیاب ہوتے ہوتے پھر ناکامی سے دوچار ہوسکتی تھی لہٰذا جہاں وہ اپنا بھرپور دباؤ ڈال رہی تھیں‌کہ اب ہفتہ بھر پہلےوالی صورت بحال نہ ہوسکےتو انکی اس ہی بات کو بھانپ کے معاشرے کے سبھی طبقات اس سازش کو ناکام بنانے کے لیئے میدان عمل میں اترآئے اور سب نے اپنے اپنے انداز میں اس دباؤ کو بڑھانے میں جو سرگرمی دکھائی اس میں اہل صحافت کے لیئے بھی ناگزیر تھا کہ ارباب حکومت کو جھنجھوڑنے کے لیئے اس بابت تاریخی حوالوں اور فیصلوں کو بھی سامنے لائیں‌ اور جنگ گروپ نے اس نازک موقع پہ ناموس سالت کے قانون کی بابت جسٹس شوکت صدیقی کے تاریخی فیصلے کی قسط وار اشاعت کا اقدام روبہ عمل لاکے نہایت مستحسن اقدام کیا اور اس سے قبل وہ اس تایخی مقدمے کی تمام سماعتوں کا تفصیلی احوال بھی شائع کرتا رہا ہے اس مقدمے کے فیصلے کے تمام اہم نکات بھی بروقت شائع کرچکا ہے لہٰذا اس مد میں عامرلیاقت کی یوں پھاپھاں کٹنی والے انداز میں کی گئی طعنہ زنی اور تبرہ بازی صرف جلے دل کے پھولے پھپھوڑنے کا دلچسپ نظارہ بن کے رہ گئی ،،، مجھے یہ کہتے ہوئے بہت طمانیت محسوس ہو رہی ہے کہ قوم کے سبھی طبقات کی یہ مشترکہ جدو جہد بالآخر رنگ لے آئی اور سب نے دیکھا کہ مل جل کے ڈالے گئے اس عوامی دباؤکے نتیجے میں حکومت کو جھکنا پڑا اور یہ سب کاوشیں الحمدللہ بالآخر اس سازش کی ناکامی پہ ہی منتج ہوئیں-

arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *