رینجرز تنازع اور نواز شریف کی غلطیاں

wajidواجد شمس الحسن
دوسری بار وزیرِاعظم بننے کے بعدمیاں محمد نواز شریف نے اسلام آباد کے میر یٹ ہوٹل میں خطاب کرتے ہوے کہا تھا کہ سیاست میں اُن کی کامیابی کا راز اُن کی ’’ سامنا کرنے‘‘ کی پالیسی ہے۔ دراصل اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ اُن کی پالیسی ابھی بھی یہی ہے۔اُن کا تعلق برج جدی سے ہے تو یہ سمجھنا تو آسان ہے کہ خود ساختہ غرور اُن کی ذات کا خاصہ ہے اور اکثر یہ اُن کے لئے بیکار ہی جاتا ہے۔

بہتر ہے کہ اُن کے بارے میں بات نا ہی کی جائے جو اب خود اپنے زخموں کو چاٹ رہے ہیں۔لیکن ایک تاریخ کا طالبِ علم ہونے کی وجہ سے جب میں اُن کو ماضی کی غلطیاں دہراتے دیکھتا ہوں تو مجھے افسوس ہوتا ہے۔پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں وزیرِ اعظم کی پیشی کے وقت جو بھی ہواُ س نے 1997کی یاد دلا دی۔

یہ شائد ہماری تاریخ کا شرمناک ترین دن تھا۔سب سے پہلے تو ججز کو خرید کر چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو اُتارنے کی کوشش میں ایک اندرونی بغاوت کو مداری کا تماشہ بنا دیا گیا اور جب اس سے بھی کام نا بنا تو تو پی ایم ایل (ن) کے غنڈوں کو بشمول کئی وزراء کے چیف جسٹس کو ہراساں کرنے کی مکمل آزادی دی گئی۔اُنہوں نے سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا اور پہلے جسٹس سجاد علی شاہ کااستعفیٰ لیا گیا اور بعد میں صدر فاروق لغاری کا۔اب اس طرح کے ہتھکنڈوں کے استعمال کے بعد اُن کی امیر المومنین بننے کی خواہش پوری تو نہیں ہو سکتی تھی اور شکر ہو اُن کی اپنی شاندار غلطیوں کاکہ اُن کا یہ خواب ایک خواب ہی رہا۔
پچھلی حکومت کے لئے بھی اپنے پانچ سال پورے کرنا کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی۔سب سے پہلے تو اسٹیبلشمنٹ ہی اُن کی گرد پر سوار تھی، دوسرا نواز شریف حزبِ اختلاف میں کھڑے ہو کر اپن کو گرانے کی کوشش کرتے رہے اور تیسرے نمبر پر میڈیا، جس کو آخری دن تک لگتا رہا کہ حکومت اگلے منٹ، اگلے گھنٹے یا اگلے مہینے ختم ہو جائے گی۔

سب کو اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح نواز شریف نے شہید بینظیر بھٹو کی ’’ ریاست کے اندر ریاست‘‘ کی پالیسی سے کھلم کھلا چشم پوشی اختیار کی۔محمد نواز شریف اور اُن کے ساتھیوں کو جیت کی بھینی بھینی خوشبو اس قدر بھائی کے وہ قانون کی بالا دستی کے نام پر چیف جسٹس کی بحالی کی تحریک کا حصّہ بننے کے لئے تیار ہو گئے۔
اُس وقت بحال ہونیوالے چیف جسٹس کے ساتھ نواز حکومت کے تعلقات اس قدر کشیدہ تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ چیف جسٹس کا کام عدالتی مسائل کا حل نہیں بلکہ حکومت کا تختہ اُلٹنا ہے۔میمو گیٹ خود ایک گھٹیا ہتھیار تھا لیکن پی پی پی حکومت کا جانا اتنا پکا تھا کہ خود نواز شریف نے کالا کوٹ پہن کر عدالت میں بیٹھنا چاہا۔

محمد نواز شریف کے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ سے خراب تعلقات یا پھر وزیرِ داخلہ راؤ احسن کے الفاظ میں ’’ ریاست کے اندر ریاست‘‘ اور کچھ نہیں بلکہ اُن سب لوگوں کی ایک طرح سے ناشکری ہے جن کے بھروسے شریف فیملی نے تیس سال حکومت کی۔

اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو ایسا لگتا ہے کہ سپریم عدلیہ نے ہمیشہ ہی نواز شریف کا ساتھ دیا۔ جب 1993میں صدر غلام اسحٰق نے نواز شریف کو کرپشن کے کیس میں برطرف کیا تو یہ عدلیہ کے بلند مرتبہ لوگ ہی تھے جنہوں نے نواز شریف کے خلاف فیصلے کو غیر آئنی قرار دے کر اُن کو واپس بحال کر دیا جبکہ انہی ججز نے بینظیر بھٹو کو انہی سب الزامات کے تحت بر طرف کر دیا تھا۔تب ایسے ایک مفروضے نے جنم لیا کہ شائد قوانین دو طرح کے ہیں ایک سندھی وزیرِ اعظم کے لئے اور ایک پنجابی وزیرِ اعظم کے لئے۔

اور صرف نواز شریف خود ہی نہیں بلکہ اُن کے اکثر وزراء بھی بد دماغ، غصیلے اور جھگڑالو سے ہیں۔اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ نون لیگ کے کئی وزراء کی آپس میں ہی بول چال نہیں ہے۔ جیسے چوہدری نثار کی خواجہ آصف کے ساتھ کھلی جنگ کا سب کو پتہ ہے جبکہ خواجہ آصف خود بھی خواتین پارلیمنٹیرینز کے ساتھ بدتمیزی کی وجہ سے کافی بدنام تھے۔اب جب نواز شریف نے خود کبھی پارلیمنٹ کی عزت نہیں کی اس لئے اُن کے وزراء بھی اُن کے ہی نقشِ قدم پر چلتے نظر آتے ہیں اور اُنہوں نے ایسا کر کے خود باقی اداروں کو دعوت دی کہ وہ پارلیمنٹ کے معاملات میں بولیں پھر چاہے وہ عدلیہ ہو یا ’’ ریاست کے اندر ریاست‘‘۔
کوئی نہیں جانتا کہ پیر کے روز کس نے عدالت کے باہر رینجرز کو تعینات کیا لیکن جس نے بھی کیا خوب کام کیا۔جس کا بھی یہ کام تھا لگتا ہے کہ وہ نواز پارٹی کی جھگڑالو طبعیت کو جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اگر رینجرز تعینات نا کیے گئے تو کسی بھی وقت نواز لیگ کے سپاہی عدالت میں کوئی بھی گندی گیم کھیل سکتے ہیں۔ان حالات سے نپٹنے کے لئے عدالت نے پہلے ہی کہہ دیاتھا کی عدالت میں داخلہ صرف اُن کو ملے گا جن کے ہاتھ میں پاس ہو گا۔

حلانکہ حالات تو تب بھی خراب ہوے جب خود نواز حکومت کے وزراء ہی خود کو حزبِ اختلاف کا حصّہ سمجھنے لگے۔ذمہ داری کا ثبوت دینے کے بجائے ہمارے اپنے وزیرِ داخلہ نے خود قانون ہاتھ میں لے لیا جب اُن کو اور دیگر وزراء کو اندر جانے سے روکا گیا۔اور تب سے وہ غصّے میں بھڑکے ہی جا رہے ہیں۔

اُن کے مطابق ریاست کے اندر ریاست نہیں ہو سکتی۔جبکہ اُنہوں نے زمہ داران کا تعین نا ہونے کی صورت میں استعفیٰ دینے تک کی دھمکی دے ڈالی۔لیکن کہا یہ جا رہا ہے کہ حکومت نے خود ہی رینجرزکے اختیارات کی مدت میں حکومتی ارکان اور عمارات کی حفاظت کے لئے آرٹیکل 245کے تحت تین ماہ کا اضافہ کیا تھا ۔اداروں کے درمیان اختلافات کو خود پیدا کیا گیا اور نواز حکومت کو لگا کہ اس سے شائد اُن کو فائدہ ہو گا لیکن ایسا نہیں ہو گا۔جبکہ نواز حکومت کے خلاف پارٹیز اپنی تمام چالوں میں کامیاب ہوے جا رہی ہیں اور یہ مانتی ہیں کہ جلد یا بدیر نواز اپنے ہاتھوں سے کھودی قبر میں سکون سے جا سوئیں گے۔

بشکریہ: ڈیلی ٹائمز

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *