کیا ہم اپنی زندگی کے بڑے فیصلے عقلی بنیاد پر کرتے ہیں؟ ایک حیران کن تجزیہ

life changesکیا بڑے فیصلے عقلی نہیں ہوتے؟
زندگی میں ہر کوئی ایسے چوراہے پر ضرور آتا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے جیسے نوکری کا انتخاب، بیرون ملک سفر یا بچوں کی پیدائش وغیر ہ وغیرہ۔
فطری طور پر ہم یہ سب مستقبل کو ذہن میں رکھ کر طے کرتے ہیں اور اندازہ لگاتے ہیں کی کون سا عمل ہماری خوشی کا باعث بنے گا۔ یا ہم مشورہ کرتے ہیں یا حالات سے اندازاہ لگاتے ہیں۔ ہمیں سب باتوں کی فہرست بھی بنانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن چیپل ہل میں موجود نارتھ کیرولینا یونیوررسٹی کے فلاسفر ایل اے پال کے نزدیک یہ ناممکن عمل ہے۔ زندگی میں بہت سے معاملات ہماری شناخت بدل دیتے ہیں۔ کچھ اہم فیصلوں سے قبل ہم ان کے اثرات کا اندازہ لگانے یا مستقبل کو ان کے مطابق پرکھنے میں ہم اکثر ناکام رہتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں آج آپ نہیں طے کر سکتے کہ مستقبل میں آپ باپ بننا پسند کریں گے یا نہیں۔
پروفیسر خاتون نے یہ سب اپنے ہاں بچوں کے پیدائش کے بعد زندگی کے تجربات سے سیکھا ہے۔ انہیں معلوم ہوا کہ والدین بننے کے بعد اکثر لوگوں کے رویہ میں تبدیلی آتی ہے اور انسان بچوں کی خاطر ہر طرح کی قربانی دینے کےلیے تیار نظر آتا ہے۔ یہ چیز انسان علم سے نہیں بلکہ تجربہ سے سیکھتا ہے۔
تغیراتی تجربات کے لیےعلم کااور ذاتی تجربہ ہونا دونو ں ہونا ضروری ہے ۔مثال کے طور پر نشہ لینا، چاند پر جانا، جنگ میں جانا، کسی کو مارنا، روحانی طور پر دوبارہ جی اٹھنا یابہت خطرناک حادثے سے دوچار ہونا۔( ظاہر ہے یہ سب مثالیں آپ کی مرضی نہیں تغیراتی ہیں۔ )ممکنہ تغیرات کا سامنا کرتے ہوئے در پیش مسائل کے بارے میں پال نے یوں وضاحت کی :" یہ خیالات اور تصورات آپ کو بدل دیں گے یہ سوال اتنے سیدھے اور آسان نہیں کی کون سی زندگی اچھی ہے۔ ہر طرح کی زندگی کی قیمت کا فیصلہ آپ خود کرتے ہیں ۔ آپ پہلے سے ہی طے نہیں کر سکتے کہ کون سی زندگی اچھی ہے یا کون سی زندگی آپ چاہتے ہیں ۔ یہ سب سوچنا ممکن نہیں۔ "
پال تجزیاتی فلاسفر ہیں نہ کہ کانٹینیٹل فلاسفر جو کہ دو مختلف شعبے ہیں۔ کانٹیننٹل فلاسفر 2000 سال پرانے کسی فلاسفر کی سوچ پرکھتے ہیں جیسے پلاٹو، ارستو، نطشے اور سارتر۔اس فلاسفی کا مطالعہ 20 ویں صدی میں شروع ہوا۔ یہ ایسے خیالات کا جواب دینے پر آمادہ نہیں جس کی لاجک نہ ہو(جیسا کہ کیا خدا موجود ہے؟)۔ اور اس کے اندر غیر واضح ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ تجزیاتی فلاسفی امریکہ اور برطانیہ میں عام ہے ۔ پال نے اس شعبہ میں بہترین کار کردگی دکھائی اور اس شعبہ کی امتیازی شخصیت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *