کیا سپریم کورٹ آف انڈیا کے ہندو ججز تین طلاقوں پر فیصلہ دینے کے اہل ہیں؟

Shajahanشاہجہاں مادم پت

سپریم کورٹ کے ایک ساتھ تین طلاقوں کے فیصلے نے عالم اسلام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کچھ لوگوں نے اس فیصلے کو سراہا جیسا کہ پرایم منسٹر   نرندرہ مودی نے مبارک باد ٹویٹ کی  اور  جمیعت علمائے ہند کی سٹیٹمنٹ  بھی آئی ، اور دوسروں  لوگوں نے  بھی اس  برے  عمل کی لیگل طریقے سے روک تھام کی تعریف کی۔  1986کے شاہ بانو کیس کے فیصلے کے برعکس اس بار  بہت سے لوگ سپریم کورٹ کی حمایت کرتے نظر آئے۔ تب بھی ایسے ہی فیصلے کے رد عمل میں بہت کم لوگوں نے سپریم کورٹ کو سراہا تھا ۔ موجود ہ دور میں اس فیصلے پر مسلمانوں کی کھلے عام حمایت کا راز بدلتے ہوئے سیاسی حالات ہیں۔

اس کیس اور شاہ بنو کی سنوائی کے کیس کے تین جز ایک سے ہیں ۔ پہلا یہ کہ دونوں کیسز میں ججز نے قرانی تفسیر پر اثر انداز ہو کر فیصلہ کی وضاحت کی۔  دوسرا دونوں کیسوں میں مسلمان عورت کو مسلمان مرد سے تحفظ دلانا مقصد تھا، جو مذہب  کو نا انصافی اور زن بیزاری کے دفاع میں بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ تیسرا،دونوں کیسز میں مردوں کو  معاشرتی قیادت  کا رہبر دکھایا گیا۔ یہ  دونوں کیس انٹر اسلامک اتحاد کی ایک نایاب مثال ہیں جس میں عورتوں کی جائز شکایات اور تکالیف کا مداوا کیا گیا۔ ۔ یہاں تک کہ موجودہ  کیس میں کچھ مسلمان گروپ انسٹینٹ تین طلاقوں کے مخالف تھے؛ جیسے کہ اسلامسٹ اور سلفی ، نے  مسلم پرسنل لاء بورڈ  کی رجعت پسندی پر تنقید سے گریز کیا ۔ یہ ستم ظریفی ہے  کہ  مسلمانوں کو ایسے موقع پر متحد ہوتے دیکھا گیا جب ایک کمزور طبقہ کے حقوق کو تحفظ دیے جانے کے معاملے کی مخالفت کی جا رہی تھی۔

اس آرٹیکل کا مقصد نہ تو عدالتی فیصلہ کا تجزیہ کرنا ہے اور  نہ ہی   اسلام میں ذاتی مسائل پر  تحقیق۔  دونوں  اسلامی اور غیر اسلامی پہلووں پر وسیع تجزیہ  کیا گیا ہے اور  بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔  میں دو بنیادی  دلائل  پیش کرنا چاہوں گی جو  امید ہے کہ  اس بحث کو تاریخ اور سیاست کے حوالے سے بڑے پیمانے پر دیکھنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔  پہلی بحث عدالت عظمی  کے  متضاد رویہ پر روشنی ڈالتی ہے جس میں اپیکس کورٹ کا کام شہریوں کے برابری کے حقوق کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا تھا نہ کہ اسلامی تعلیمات اور مذہبی تاویلات کی روشنی میں۔ دوسری بحث تقسیم ہند کے بعد مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے قبل از تقسیم ڈھائی سو سال کے دور سے موازنہ ہے جب مسلمان دنیا بھر میں اعلی مقام کے حامل تھے۔ دونوں مباحث سے ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ انڈیا میں مسلم کمیونٹی کے  خراب معاملات کی بنیادی وجہ ان کی مذہبی، سماجی اور سیاسی لیڈر شپ کا فقدان ہے جس کی وجہ divorceسے مسلمان دنیا بھر میں رسوائی کا سامنا کر رہے ہیں۔

ججز کا تھیولوجین کا کردار  

معزز ججوں نے قران کے مفسرین کا روپ دھار لیا۔ علما کی شکایت بجا ہے کہ ججز اسلامی تعلیمات کا علم حاصل کیے بغیر قران کی تفسیر پر کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ججوں کو مذہبی کتابوں کی تشریح کا اضافی بوجھ اٹھانے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔لیکن ججز بھی مجبور ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا پیمانہ موجود نہیں جس کی بنا پر وہ مذہبی معاملات سے متعلقہ کیسز نمٹا سکیں۔  کیونکہ کچھ معاملات میں مفسرین نے اخلاقی حدوں کو پھلانگتے ہوئے نا انصافی برتی ہے جس کو واضح کرنا ججز کا فرض ہے۔ خاص طور پر ٹرپل طلاق کے معاملہ میں  جن آیات کا مسلم لاء بورڈ نے حوالہ دیا ان کا پیغام یکسر مختلف تھا۔

ایسا ذیادہ تر طلاق کی کیس میں ہوتا ہے جبکہ ساری قرآن کی آیات مکمل طور پر اس سب کی تعید نہیں کرتیں جو مسلم لاء بورڈ کے تحت لاگو ہوتی ہیں۔  کچھ خود ساختہ اسلام کے محافظ  لا دینی ججزہیں جو کورٹ کو اسلام کے اصولوں کے خلاف فیصلہ کرنے کا کہتے ہیں۔ججز نے اسلام کے ٹھیکیداروں کو بتایا کہ وہ ایسا فیصلہ چاہتے ہیں جو اسلام کے سرا سر منافی ہو۔

 مسلمانوں کواپنے لیڈرز کی معاشرتی اور مذہبی ناکامی کی وجہ سےذلت  برداشت کرنی پڑتی ہے ۔1986 کے شاہ بنو کیس میں بہت سارے مواقع تھے کہ غلطیاں اور کوتاہیاں درست کی جائیں، لیکن ان مواقع کو  ضائع کر دیا گیا۔ اس وقت کی دوستانہ گورنمنٹ تھی،  پادری فرقہ کمزور تھا ۔  مسلمان انڈیا میں شاید اپنے جانی دشمنوں سے کامیابی سے لڑ پاتے لیکن صرف خدا ہی ہے جو ان کو ایسے دوستوں سےبچا سکتا ہے۔یہ زیادہ تکلیف دہ اس وقت ہو جاتا ہے جب یہ محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے سیکولر مدافعین ہندوتوا کے سامنے بے بس ہیں ۔ وہ مسلمان جو رد عمل کی سیاست کرتے ہیں جن میں مسلم لا بورڈ اور دوسرے ایسےکمیونٹی گروپس شامل ہیں انہیں بھی ہندو توا کے مخالفین بھی مہرے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔  جس لمحے آپ سوالات کرنا شروع کرتے ہیں وہ آپ پر کود جاتے ہیں اور گالی گلوچ کرنے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے ارادے اچھے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کے دلوں میں اینٹی divorce 2 ہندوستان کیمپ کے خلاف کوئی رغبت رہے۔   

معمہ یہ ہے کہ بھارت میں موجود مسلم لیڈر شپ   اندورنی اصلاحات کی سے انکار کی عادت پوری کمیونٹی کو ہندو رائٹ ونگ کا آسان ہدف بنا رہی ہے ۔ ہندو توا ہروقت کسی ایسے ثبوت کی تلاش میں رہتی ہے جس کے ذریعے مسلمانوں کے تعصبات اور نفرت کو عیاں کیا جا سکتاہو۔ اس لیے یہ خوشحال مسلمانوں کے لئے اشد ضروری ہے کہ خارجی چیلنجوں کے باوجود وہ اندرونی اصلاحات کی فہرست کو اس ایجنڈے کا حصہ بنائیں ۔

مسلمانوں کی شروعاتی آزادی کی تحریک

کمیونٹی میں اصلاحات کے خلاف مزاحمت کو اگر ہم ساؤتھ ایشیاء کے 18 ویں اور 19 ویں صدی کے مسلمانوں کے حالات سے موازنہ کر کے دیکھیں تو حیرت ہو گی۔ جیسا کہ فرانسس  رابنسن نے  بتایا ہے کہ 19ویں صدی میں  برصغیر کے مسلمانوں  کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا تھا۔ اس دور میں انڈیا سے 18ویں صدی کے اسلامی سکالرز مکہ اور مدینہ بھیجے جاتے تھے۔   اگر ہم 18 ویں اور 19 ویں صدی کے غالب رجحانات کا موازنہ کریں تو  کمیونٹی کی اصلاح میں موجودہ مزاحمت حیران کن  معلوم ہوتی ہے۔ البرٹ ہورانی  نے انڈیا کواس وقت "اسلامی دنیا کا رہنما ملک " قرار دیا۔"18ویں صدی میں  انڈیا مکہ اور مدینہ میں اچھے  اسلامی سکالرز اور ٹیچرز بھیجنے کا مرکز تھا۔ انڈیا کی سکالر شپ میں یہ خدمات قاہرہ کی الاظہر  یونیورسٹی  میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل تھیں ؛ اور  19ویں صدی میں انڈیا کی ٹیکسٹ بکس اسلامی دنیا کےبہت سے حصوں میں استعمال کے لیے حاصل کی  گئیں۔  یہاں یہ بتانا اہم ہے کہ مسلمانوں کی کمزور سیاسی طاقت کے باوجود دنیا بھر میں برصغیر کے مسلمانوں کو سب سے زیادہ عزت اور مرتبہ حاصل تھا۔

اس وقت کے برصغیر کے علما کا ویژن اور وسعت نظر قابل دید تھا۔ سید احمد اور شاہ ولی اللہ سے لے کر سر سید، اقبال، مولانا عبدالکلام آزاد اور ویکوم مولوی تک سماجی اور فکری معاملات کی نوعیت یہ تھی کہ بہت سے سکالر اس کا مغرب کی نشاط ثانیہ سے موازنہ کرتے تھے۔ اس زمانہ کی مذہبی تبدیلیوں  کے نتیجہ میں بھی ایک خاص فرق نظر آیا اور مسلمانوں کے تقوی اور آخرت کے بارے  میں عقائد بلکل بدلے ہوئے نظر آئے اور ایک انقلابی سماجی اصلاحات کی نئی جہت متعارف ہوئی۔ آج کے مقابلے میں 18ویں اور 19ویں صدی  میں برصغیر کے مسلمان بہت زیادہ کھلے ذہن کے مالک تھے۔

پھر تقسیم ہند کا واقعہ پیش آیا۔ بدلتے ہوئے حالات کے نتیجہ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ جیسی جماعتیں وجود میں آئیں۔ جب تک اس طرح کے چھوٹے دماغ اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرنے والے لوگوں کے پاس کنٹرول رہے گا، تب تک بر صغیر میں اصلاحات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ قرآن میں اللہ تعالی فرماتے ہیں: اللہ کسی بھی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل لیں۔ شاید قران کی 13 ویں صورت کی 11 ویں آیت اسی مایوسی کی حالت کو بیان کرتی ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *