اوریا مقبول کے تازہ افکار عالیہ کا تجزیہ

اوریا مقبول جان اپنے تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو اللہ تعالیٰ نے اس ملک کا اقتدار ایک آزمایش کے طور پر دیا تھا۔ ان کے نزدیک وہ اس آزمایش میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد اب اللہ کی پکڑ میں ہیں ۔ ان کے نزدیک ان کے تین بڑے جرائم ہیں۔ ان کی وجہ سے وہ اللہ کے عذاب کا نشانہ بن
27x8 Adچکے ہیں ۔یہ تین جرائم ان کے خیال میں یہ ہیں : سود کو جاری رکھنا۔ ممتاز قادری کو پھانسی دلوانا اور جمعہ کی چھٹی منسوخ کرنا ۔
ان کی معلومات کے کباڑخانے سے جاری نفسیاتی عوارض سے آلودہ ان فتاویٰ کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ موصوف کی ’’بوٹ پالش ‘‘ کرنے کی عادت نے ان کی کامن سنس تک کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ ویسے توالاماشاللہ ان کے تمام ارشادات عالیہ ’’ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ ‘‘ کی بہترین تفسیر ہوتے ہیں
لیکن موصوف نے اس معاملے میں جہالت کی جو چوٹیاں سر کی ہیں، اس کی داد دیے بغیر ہم نہیں رہ سکتے ۔
سب سے پہلے تو ان کے اس دعوے کو لیجیے کہ اقتدار کی ہما نواز شریف پر اس لیے بیٹھی کہ اللہ نے ان کوآزمانا تھا۔اب یہ بات تو طے ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو آزمایش میں اسی وقت ہی ڈالتا ہے جب بندہ اس آزمایش میں کامیابی کا اہل ہو تا ہے۔اگر نواز شریف اس قابل نہیں تھے تو نعوذ باللہ پروردگار پر یہ الزام عاید ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتا ہے ۔ اور یہ بات قرآن کے خلاف ہے ۔ اس لیے ماننا پڑے گا اگر اقتدار نواز شریف کے لیے آزمایش تھی تو وہ یقیناًاس کے اہل تھے۔ لیکن اوریامقبول جان کے قارئین جانتے ہیں وہ عرصے سے یہ لکھ لکھ کر ہلکان ہوتے رہے ہیں نواز شریف سے بڑھ کر پاکستان میں کوئی نااہل اور نالائق حکمران نہیں آیا۔ دور کیوں جائیے اسی کالم میں وہ لکھتے ہیں :’’اللہ تبارک وتعالیٰ نے بار بار اس فرد پر اپنی عنایات کا دروازہ کھولتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ سب کچھ تمہاری صلاحیتوں ، طاقتوں اور ذہانت کی بنیاد پر نہیں ہو رہا ہے، تمھاری جیسی ذہانت والے سرمایہ داروں کے لڑکے چیمبر آف کامرس کی راہداریوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔‘‘
پہلے تواس جملے میں تضادات کا ہجوم ملاحظہ کیجیے۔ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ یہ اقتدار ، طاقت اور دولت اصل میں نواز شریف پر اللہ کی عنایات ہیں ، اب سوال یہ ہے کہ انسان پر عنایاتِ خداوندی انعام کے طور پر ہوتی ہیں یا آزمایش کے طور پر ؟ پھر اسی جملے میں اپنی ہی بات کی تردید کرتے ہوئے خود ہی فیصلہ فرماتے ہیں کہ نواز شریف میں تو ایسی کوئی صلاحیت ہی نہ تھی یہ تو محض اس کا زعم باطل تھا ۔ شاید موصوف کو لفظ ’’عنایت ‘‘کا مطلب نہیں آتا یا وہ سمجھتے ہیں اللہ ان کو بھی آزماتا ہے جن میں کوئی صلاحیت ہی موجود نہیں ہوتی ۔ لیکن پھر وہ اسے عنایات کیوں کہہ رہے ہیں ؟چلیں اب اس گورکھ دھندے سے آگے بڑھتے ہیں ۔
ان کا پہلا ارشاد یہ ہے کہ 1991میں عدالت نے سود کے خلاف حکم دیا تھا اور حکومت کو چھے ماہ کا وقت دیا تھا کہ وہ سود کا خاتمہ کر دے جو نواز شریف نے نہیں کیا ۔ اور یوں قرآن کے حکم کے مطابق نواز شریف نے اللہ کے ساتھ جنگ شروع کر دی جس کا انھیں خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اب پہلی الجھن یہ ہے کہ سود 1991 میں عدالت کے فیصلے کے بعد حرام ہوا تھا یا بعد میں ؟ جہاں تک ہمیں یاد پڑتا ہے سود تو خاصا عرصہ پہلے حضور ﷺ کے دور ہی میں حرام ہو گیا تھا، لیکن پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسی دور میں حرام کیا گیا تھا تو اس کو ختم نہ کرکے اللہ تباک و تعالیٰ سے جنگ کا اعلان تو قائداعظم سمیت سبھی حکمرانوں نے کیا تھا ۔ بلکہ سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے وقت قائداعظم نے موقع کی مناسبت سے بطور خاص فرمایا تھا کہ ہم نہ سرمایہ دارانہ نظام چاہتے ہیں نہ کمیونزم ، ہم تو اسلا م کا عادلانہ نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود نہ انھوں نے کچھ کیا اور نہ اس کے بعد کسی دوسرے حکمران نے ۔ ان پراوریا مقبول جان نے کوئی فتویٰٰ نہیں لگایا ۔ اسی لیے ہمیں شک پڑتا ہے کہ کہیں وہ یہ نہ سمجھتے ہوں کہ سود کو 1991ہی میں حرام کیا گیا تھا۔ ہاں یاد آیا،’ امیر المومنین حضرت ضیاالحق ‘نے ضرور اس طرح کی کوئی ’ حرکت ‘ کی تھی ۔لیکن اگر انھوں نے سود کا نظام ٹھیک طرح سے نہیں بدلا تھا تو سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں بدلاتھا؟ اور کہیں اس جرم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو طیارے میں زندہ جلنے کی سزا تو نہیں دی تھی؟معاملہ پھر الجھ گیا ہے ۔لیکن یہ الجھن بھی تو کوئی حل کرے کہ نواز شریف کے علاوہ بے نظیر بھٹو ،پرویز مشرف اور پی پی کی پورے پانچ برس حکومت رہی ، ان پر اللہ کی پھٹکار کیوں نہ پڑی؟ یہی وہ موقع ہے جب ہمیں یاد آیا کہ ایک پنجابی مصرعے کی ’ وجہ نزول‘ کبھی سمجھ میں نہ آئی لیکن اوریا مقبول جان کے اس فرمان کو دیکھ کر بخوبی سمجھ گئے اس ناہنجار شاعر نے اصل میں ان کے جذبات کی ترجمانی کی تھی ۔مصرع یہ تھا :
کھوتی چڑھی کھجور تے ٹک ٹک نبو کھاوے !
نواز شریف کا دوسرا جرم یہ بیان کیا گیا ہے کہ انھوں نے قاتل ممتاز قادری کو پھانسی لگوایا تھا۔ ایک تو ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جو سعادت ’ ملعون حاضر گورنر سلمان تاثیر ‘کو قتل کرکے ممتاز قادری نے حاصل کی و ہ انھوں نے خود کیوں نہ حاصل کی ؟ایک دوسرا سوال یہ بھی ذہن میں آتا ہے اگر امام ابوحنیفہ ؒ اس دور میں ہوتے تو کیا فیصلہ ہوتا ؟ کیونکہ وہ تو شتم رسول کی سزا قتل نہیں سمجھتے تھے ۔ چنانچہ سلمان تاثیر کو تو وہ کسی قیمت پر موت کی سزا کے قابل نہ سمجھتے کیونکہ وہ براہ راست اس جرم کا مجرم بھی نہ تھا ۔ چنانچہ جب وہ ایسا نہ کرتے تو اوریا مقبول جان کی کسوٹئ ایمان پر پورا اترتے یا نہیں ؟ اور اس موقع پر کوئی نابکار دشمن دین کسی کی اکساہٹ پر امام ابوحنیفہ ہی پرہاتھ اٹھا لیتا تو کیاہوتا ؟ اگر یہ سوال مشکل ہے اور اس میں کچھ زیادہ ’ اگر مگر ‘ ہیں تو میں اوریا مقبول جان سے ایک براہ راست سوال کرنے کی اجازت چاہوں گا ۔ حضور یہ فرمایے کہ جس آدمی کے گھر ایسی کتاب ہو جس میں رسول اللہ ﷺ کے خلاف واضح الفاظ میں گستاخی کی گئی ہو اور وہ شخص اس کتاب اور صاحب کتاب سے بڑی عقیدت رکھتا ہو ، اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہو گی ؟ میرا اشارہ تو وہ سمجھ ہی گئے ہوں گے، اس لیے اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ اگر ایسی ہی ایک اور کتاب بھی کسی کے گھر میں موجود ہو جس میں انبیاء علیھم السلام پر انتہائی گھناؤنے الزام اور گستاخیوں کی انتہا کر دی گئی تو کیا اس کتاب کو شائع کرنا ، عزت واحترام سے رکھنا ، اس کی سرِ عام فروخت کرنا گستاخی ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں بائیبل کیوں شائع ہو رہی ہے؟ کیا آپ کا ممتاز قادری والا فتویٰ اس پر وارد نہیں ہوتا؟ اس موقع پر انھوں نے ’غازی علم دین ‘ کا بھی تذکرہ کیا ہے، اس حوالے ایک معصوم سا سوال یہ ہے کہ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے قائداعظم نے ’غازی علم دین کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ انھوں ایسا کیوں کیا تھا ؟ اس حوالے بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ ’غازی علم دین ‘ کو شہید کا مقام دلوانے میں قائد کا بھی حصہ ہے۔ کیا اس حوالے سے وہ کسی عذاب الٰہی کا شکار کیوں نہ ہوئے ؟
رہا تیسرا مقدمہ تو جمعہ کے بارے میں قرآن مجیدکا حکم یہ ہے :
’’پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (سورۃ الجمعہ :۹؛۱۰)
اس آیت کو پڑھ کر تو معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بطور خاص جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد کام کاج کرنے کا اگر مشورہ نہیں تو اسے جائز ضرور قرار دے رہے ہیں اور یہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے جس پر کوئی اختلاف نہیں ۔ یوں ہماری سمجھ میں نہیں آتا جمعہ کی چھٹی نہ کرنے میں آخر ایسی کون سی قباحت ہے جس کی وجہ سے نواز شریف پر عذاب آیا ؟ لیکن بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہ کوئی گناہ کبیرہ ہے تو پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جمعہ کی چھٹی بحال نہ کرنے کا جرم تو بے نطیر ، پرویز مشرف اور آصف زرداری کے دور میں بھی ہوا تھا ، ان پر کیوں عذاب نہ آیا ؟ اور یہ کوئی جرم تھا توقائد اعظم سمیت تمام حکمران اتوار کی چھٹی کر کے اس کے مرتکب بھی ہو چکے ہیں ، پھر ان پر یہ عذاب کیوں نہ آیا ؟ بلکہ آپ غور کریں تو جن جرائم کا مجرم اوریا صاحب بے نواز شریف کو گردانا ہے ان تینوں جرائم کا صدور قائداعظم محمد علی جناح سے بھی ہوا ہے اور اگر کل کو عمران خان وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ بھی ایسا ہی کریں گے ۔ تو پھر اوریا صاحب کا یہ’ فلسفہ عذاب‘ کہاں جائے گا ؟
کاش ہم اتنے خوش نصیب ہوتے کہ اوریا مقبول جان، نواز شریف کی دشمنی میں بھونڈی فتویٰ بازی کے بجائے یہ کہتے کہ نواز شریف کا اصل جرم یہ ہے کہ انھوں نے اپنی ذات اور خاندان کو مقدم رکھا ، ان کا یہ جرم جمہوری اقدار کے لیے زہر قاتل ہے ، کاش وہ یہ کہتے کہ ان کی حکومت ترقیاتی منصوبوں میں درست ترجیحات قائم کرنے میں ناکام رہی ۔ کاش وہ ان پر یہ تنقید کرتے کہ موجودہ حکومت نے اصولوں پر توکل کرنے کے بجائے بے فائدہ قسم کی منافقت کی حکمتِ عملی اپنائی ۔ لیکن ایسی تنقید کرتے ہوئے وہ اپناوزن جمہوریت کے حق میں ڈالتے لیکن وہ جمہوریت کے بجائے فوجی اور مذہبی پاپائیت کی آمریت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اس سسٹم کو ’’باطل ، طاغوتی، شیطانی ‘‘ سمجھتے ہیں ۔ ہم نواز شریف کو ہر گز آئیڈیل نہیں کہتے لیکن ان کی اصلاح نظام لپیٹ کر نہیں نظام کے اندر رہ کر کرنا چاہتے ہیں ۔حکومتوں کو مصنوعی قسم کی الزام ترشیوں اور زیر بحث کالم میں بیان کردہ بیہودہ قسم کے مذہبی الزامات کے ذریعے سے ختم نہیں کرنے کے بجائے اس کے حامی ہیں کہ عوامی شعور اس قدر بلند ہو جائے کہ وہ مذہبی ، طبقاتی اور گروہی عصبیتوں کے باطل اصولوں کے بجائے خالص کارکردگی اور فلاحی نقطہ نظر سے اپنے ووٹ کا استعمال کریں ۔ اگر ایسا ہونے کا موقع دیا گیا تو دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے پہلے جمہوریت میں عوام ’کم برے‘ کے اصول پر ووٹ دیتے ہیں پھر وہ’ زیادہ اچھے ‘ کی بنیاد پر اپنے حکمرانوں کا انتخاب کرتی ہے ۔ لیکن کاش کوئی اس سسٹم کو چلنے تو دے !
ہماری کم نصیبی دیکھیے کہ قوم کو اس وقت جمہوریت کا جو نمایندہ لیڈر دستیاب ہے وہ نواز شریف جیسا مغفل ومقفل ہے اور اس کے باوجود ہماری حمایت کا حقدار ۔کیونکہ وہ موجودہ سیاسی قیادت میں نسبتاً سب سے اہل ہے۔اور جو اہل دانش ملے وہ اوریا مقبول جان جیسے متعصب دشمن جمہوریت، جو اہل قلم میں بظاہر سب سے زیادہ پڑھے لکھے لیکن حقیقت میں اتنے ہی اندھے راہ دکھانے والے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *