انتہاپسندوں کو مرکزی دھارےمیں لانے کی سیاسی حکمت عملی کیاہے؟

مقتدر قوتیں انتہا پسندوں کو مرکزی قومی سیاست کے دھارے میں شامل کرکے ایک نیا تجربہ کرنے جارہی ہیں۔ تاثر ہے کہ یہ جلدبازی میں بنایا گیا ایک اور منصوبہ ہے جس کے لیے نہ تو کھلی بحث کی گئی اور نہ ہی کوئی جامع حکمتِ عملی ترتیب دی گئی ۔ عام طور پر ایسے امور کے لیے پارلیمنٹ اور سول سوسائٹی کی رائے درکار ہوتی ہے ۔ اگر تاریخ سے کوئی سبق سیکھا جاسکتا ہے تو شاید ایک عشرہ بعد ریاست بادلِ ناخواستہ تسلیم کرلے کہ یہ ایک اور غلطی 27x8 Ad (1)تھی ۔
اس نام نہاد پالیسی کی سب سے پہلے تصدیق ایک ریٹائرڈ جنرل اور حکمران جماعت کے کچھ رہنماؤں نے کی اور مقامی اور انٹر نیشنل پریس نے اسے اچک لیا۔ اس کی روایتی طور پر تردید کی گئی لیکن بعد میں پیش آنے والے واقعات نے ثابت کیا کہ اس تجربے کی بنیاد رکھی جاچکی تھی ۔ لاہور کے حلقے ، این اے 120 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل )، جسے حافظ سعید کی حمایت حاصل ہے ، نے اپنا ’’غیر سرکاری‘‘ امیدوار میدان میں اتارا۔ ایک اور انتہا ئی نظریات رکھنے والی جماعت، لیبیک یا رسول اﷲ ﷺ نے بھی اپنا امیدا ر کھڑا کردیا ۔ یہ امیدوار ڈالے گئے ووٹوں کا چھے فیصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔ اس گروہ کا اہم انتخابی نعرہ ممتاز قادری ’’شہید ‘‘ کی عظمت کو اجاگر کرناتھا۔ ایک اور جہادی لیڈر،فضل الرحمان خلیل نے بھی اپنی سیاسی جماعت بنانے کا عندیہ دیا ہے ۔ فضل الرحمان خلیل اور حافظ سعید ، دونوں کو امریکہ نے عالمی دھشت گرد قرار دے رکھا ہے ۔ بھارتی دباؤ پر امریکہ نے حافظ سعید کے سر کی قیمت دس ملین ڈالر بھی مقرر کی ہوئی ہے ۔
پاک فوج کے ترجمان نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان گروہوں کے لیے ایک تعمیری کردار کا منصوبہ موجود تھا۔ اٹھائیس جولائی کو نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے دوہفتوں کے اندر اندر ہی یہ منصوبہ عملی شکل میں سامنے آگیا ۔ میڈیا رپورٹس اور نوازشریف کے حامیوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ سابق وزیرِ اعظم کے سامنے بھی رکھا گیا تھا لیکن اُنھوں نے اسے مسترد کردیا ۔ ہوسکتا ہے کہ نوازشریف کے جانشیں اس منصوبے سے متفق ہوجائیں ، لیکن اگر پاکستان میں بنائی اور نافذ کی جانے والی سکیورٹی پالیسی کو دیکھیں تو ہمارے ہاں سولینز کی رائے محض ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے ۔
اس وقت تین عوامل کارفرما ہیں۔ پہلا ، پاکستانی ریاست پر عالمی دباؤ موجود ہے کہ وہ گزشتہ تین دہائیوں پر میں پروان چڑھنے والے نجی جہادی شعبے کا خاتمہ کرے ۔ امریکیوں اور اور بھارتیوں کے اس مطالبے میں اب چین نے بھی اپنی آواز شامل کرتے ہوئے چند ہفتے پہلے BRICS اعلامیے کے ذریعے ایک واضح پیغام دیا ہے ۔ دوسرا، سکیورٹی اسٹبلشمنٹ کے لیے یہ معاملہ ضربِ عضب کے آغاز سے ایک درد سربناہوا ہے ۔ اس نے پاکستانی طالبان کے خلاف بہت موثر جنگ کی ہے ، لیکن یہ اپنے سابق پراکسی دستوں کے مستقبل کے بارے میں شدید الجھن کا شکار ہے ۔ تیسرا ، حالیہ دنوں شاید اس کی فوری ضرورت اس لیے پیش آئی کہ اس حربے کے ذریعے نواز شریف کے ووٹ بنک کو تقسیم کرنا مقصود تھا۔ دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے گروہ روایتی طور پر نواز شریف کے حامی رہے ہیں، لیکن نواز شریف کو متعدل مزاج اور مرکزی سوچ کی طرف مائل ہوتے دیکھ کر بریلو ی ووٹرناراض ہے ۔
یہ کوئی نیا منصوبہ نہیں۔ 1980 ء کی دہائی میں اسٹبلشمنٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی حمایت کو زک پہنچانے کے لیے ایسی ہی سکیمیں شروع کی تھیں۔ اس مقصد کے لیے فرقہ وارانہ اور لسانی گروہوں کی حوصلہ افزائی کی گی، بلکہ اُنہیں مسلح بھی کیا گیا۔ اس پالیسی کی ملک کو ایک قیمت چکانی پڑی۔ آج جب کراچی کو جرائم پیشہ عناصر اور مافیا زسے پاک کرنے کا کریڈٹ سینے پر سجایا جارہا ہے تو اس کا ذکر کوئی نہیں کررہا کہ ملک کے سب سے بڑے شہر اور معیشت کے مرکز میں مسلح گروہ کیسے نمودار ہوئے اور کیوں ؟1980 ء کی دہائی میں انتخابی اکھاڑے کے لیے اسلامی جمہوری اتحاد(آئی جے آئی ) کا نسخہ آزمایا گیا ۔ پی پی پی کو انتخابات میں شکست سے دوچار کرنے کے لیے تمام دائیں بازو کے گروہوں کو آئی جے آئی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کردیا گیا ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نوازشریف بھی اُس سیاسی انجینئرنگ میں شامل تھے ۔ آج تین عشرے بعد سیاسی دھارے کا رخ بدل چکا ہے ۔ اب، جیسا کہ عمران خان کے راز داں، شیخ رشید اور اداکار، حمزہ علی عباسی کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے ، پرانے مشروب کونئی بوتلوں میں بند کردیا ہے ۔
آئی جے آئی کی ساخت اور موجودہ گروہوں میں فرق یہ ہے کہ یہ گروہ مسلح ہیں۔ اگر یہ شدت پسند گروہ ہتھیار ڈالے اور اپنے نظریات اور تنظیم کو ترک کیے بغیر سیاسی دھارے میں شامل ہوجاتے ہیں تو یہ اقدام معاشرے کو مزید انتہا پسند بنا دے گا۔ لاہور کے ضمنی انتخابات کے دوران اور ان کے بعد ہم دیکھا کہ کس طرح انتہا پسند جماعتیں ’’توہین ‘‘ کے ایشو پر بپھر گئیں۔ ان نامعقول آوازوں کی گھونج سے بھی فضا مرتعش ہے کہ نواز شریف کو ممتاز قادری کو پھانسی دینے پر سزا دی جائے ۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے ۔
اسی طرح یہ بیان ، کہ جہاد کا اعلان کر نا صرف ریاست کا حق ہے ، بھی مذہبی طبقے کو بہت بھایا ہے ، اور اسے دھشت گردوں کے پراپیگنڈے کا توڑ سمجھا گیا ہے ۔ لیکن اگر ان جہادی تنظیموں کو نہ توڑا گیا تو وہ اسی بیانیے کو مرکزی سیاسی دھارے میں لے آئیں گی۔ ایسے بیانیے اس تقابلی جائزے کی حدت کو بھی دوچند کردیں گے کہ سیاسی میدان میں اسلامی احکامات پر کون زیادہ کاربند ہے ۔ دنیا کے ہمارے حصے میں مذہبی اشتعال سے زیادہ کوئی کرنسی فعال نہیں ہے ۔ بھارت میں مذہبی قوم پرستی کے ابھرنے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس صورتِ حال کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ، بلکہ یہ نوآبادیاتی دور سے گزرنے والے معاشروں کو درپیش شناخت، نیولبرل اور جدید تصورات کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل کا ردعمل ہے ۔
اگر ان گروہوں کو مرکزی دھارے میں ضرور شامل کرنا ہے تو پھر پہلے ان سے ہتھیار رکھوائے جائیں اور ان کے شدت پسندانہ نظریات کا کوئی تدارک کیا جائے ۔ انہیں عوام کے پاس بھیجنے سے پہلے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ریاست کے سکیورٹی اپریٹس کے لیے ضروری ہے کہ وہ برملا خود کو ان انتہا پسند گروہوں کی سیاسی سرگرمیوں سے الگ رکھے ۔ کسی نیشنل کمیشن کی نگرانی میں ا ن گروہوں سے ہتھیار رکھوائے جائیں اور ان کے عسکری ونگز کا خاتمے کیا جائے ۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ایسے تجربات کامیاب ثابت ہوئے اور انتہا پسند گروہ اپنے سابق نظریات ترک کرکے سیاسی دھارے میں شامل ہوگئے ۔ یہ وہ مقام ہے پاکستانی پارلیمان کا کردار بہت اہم ہوجاتا ہے ۔ پاکستان کوئی خانہ جنگی کا شکار ریاست نہیں ہے ۔ اس کے سیاسی ادارے تمام تر نامساعد حالات کے باوجود کام کررہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اکیلی فوج یہ تمام مسائل اپنے طور پر نہیں نمٹا سکتی۔ اسے تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور دانشور طبقے کی معاونت درکار ہوگی تاکہ آئینی فریم ورک کے اندر یہ گروہ مرکزی سیاسی دھارے میں شامل ہوں۔
افسوس، تاحال ایسے کوئی شواہد دکھائی نہیں دیتے جن سے پتہ چلتا ہوکہ قومی سطح پر ایسی کوئی بحث ہورہی ہے، یا ہونے کا امکان پایاجاتا ہے ۔ اس کی بجائے دکھائی یہ دیتا ہے کہ ان گروہوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا مقصد بھارت کے مقابلے میں تزویراتی اہداف کو آگے بڑھانا اور نوازشریف کے پر کاٹنا ہے ۔ چنانچہ ضروری ہے کہ میڈیا اس تمام صورتِ حال کو مانیٹر کرے اور آنے والے مہینوں میں اس عمل کی شفافیت کا تقاضا کرتا رہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *