جناح چوتھی کوشش میں تمام پرچے کلیئر کرنے میں کامیاب ہوگئے

jinnah 2ترجمہ :جہاں آراء سید
قسط نمبر :10
اس صدمے نے یہ عزم ان کے دل میں پختہ کر دیا تھا کہ ماں نے ان پر جو یقین کیا تھا، اسے کسی طور ٹھیس نہیں پہنچنی چاہیے۔ یہی وجہ تھی کہ اس خبر کے بعد سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گھر پہنچنے اور بزنس میں والد کا ہاتھ بٹانے کی بجائے وہ پوری تند ہی کے ساتھ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہوگئے ۔ انہوں نے لنکنز اِن کو جوائن کرلیا اور قانون کی تعلیم حاصل کرنے میں خود کو مشغول کرلیا ۔ انہوں نے اپنے لئے ایک اضافی کو رس بھی منتخب کیا جو ان کے خیال کے مطابق بھارت میں کیر ےئر بنانے کے سلسلے میں سود مند ثابت ہو سکتا تھا۔ وہ اپنے ساتھی طلبہ سے قطعی مرعوب نہیں تھے جبکہ ان میں سے بیشتر یونیورسٹی گریجویٹس تھے ۔ انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ان سب سے ایک سال پہلے اپنا امتحان پاس کر لیں گے ۔ اس مقصد کیلئے ظاہر ہے کہ انہیں سخت محنت کرنی تھے بالخصوص اپنے پہلے پیپر رومن لاء کیلئے جو انہیں لازمی پاس کرنا تھا۔اس پرچے کو پاس کرنے کیلئے لاطینی زبان کا علم حاصل کرنا ضروری تھا۔ سخت محنت ، قوت ارادی اور اپنی ذات پر اعتماد نے ماضی میں بھی جناح ؒ کا ساتھ دیا تھا، لہٰذا وہ ایک بار پھر اسی فارمولے پر عمل پیرا ہوگئے ۔ انہوں نے خود کو کتابوں میں گم کرلیا لیکن اس بار سخت محنت بھی ان کے کام نہ آسکی اور وہ اپنا پرچہ کلےئر کرنے میں کامیاب نہ پائے ۔ تاہم ان کی قسمت کرشماتی طور پر ان کے کام آئی اور امتحانات کے قواعد وضوابط اچانک تبدیل ہوگئے ۔ نئے ضوابط کے تحت اب جنرل ایگزا منیشن سے پہلے رومن لا ء کا پرچہ پاس کرنا ضروری نہیں رہا تھا۔ پورے سال انہوں نے خاصی محنت کی لیکن جب امتحانا ت کا نتیجہ آیا تو وہ محض چند پیپرز کلےئر کرنے میں کامیاب ہوپائے ۔ انہوں نے وقت ضائع کئے بغیر تیسری با ر امتحان دیا اور اس بار بھی ان کے کچھ پرچے رہ گئے ، تا ہم چوتھی کوشش میں وہ تمام پر چے کلےئر کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔ اس وقت محمد علی جناحؒ کی عمر ساڑھے اٹھارہ سال تھی اور وہ اپنے 53ساتھی امیدواروں میں سب سے کم عمر تھے جنہوں نے اس سال قانون کا امتحان پاس کیا تھا۔ جناحؒ سے پہلے یا بعد میں بھی کسی نے اتنی کم عمر میں یہ امتحان پاس نہیں کیا ۔
اب اگلے سال تک جب وہ ’’ بار ایٹ لاء ‘‘ کہلانے کے حقدار بنتے ، خوب آرام کرسکتے تھے ۔ لیکن ان کی اولوالعزمی نے انہیں آرام نہ کرنے دیا اور وہ اپنا سیاسی کرےئر بنانے کی خاطر اپنی قابلیت میں اضافے کیلئے کوشاں ہوگئے جو ان کے خیال میں قانون کی پریکٹس کرنے والے کسی قانون داں کیلئے ضروری تھا۔وہ قانون کا امتحان پاس کرنے سے پہلے ہی دادا بھائی نوروجی کیلئے کام کرنے لگے تھے ۔ اس طرح وہ خو د کو انڈین نیشنل کانگریس کی برٹش بر انچ کیلئے مفید ثابت کر نے کی کوشش میں مصروف ہوگئے ، تاہم یہ ان کا مقصد حیات نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ میں وہ خوبیاں پیدا کرنا چاہتے تھے جو مستقبل میں ان کیلئے اہم ثابت ہوسکتی ہوں ۔انہوں نے برٹش میوزیم لائبریری کا کارڈ بنوایا اور ماضی و حال سے تعلق رکھنے والے سیاسی فلسفہ دانوں کا مطالعہ کرنے میں مشغول ہوگئے ۔ اپنے مطالعے سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک سیاست دان کو زیادہ جذباتی نہیں ہونا چاہیے ۔ اس طرح وہ خود کو سخت جان بنانے اور اپنے احساسات پر قابو پانے کے گر سیکھ گئے ۔ انہوں نے اپنی جذباتیت سے خاصی حد تک چھٹکارا پالیا اور حقیقت پسند انسا ن بننے میں کامیاب ہوگئے ۔ تقریباََ پندرہ ماہ بعد جب وہ گھر لوٹنے کیلئے تیار تھے ، خاصی حد تک ایک بدلے ہوئے انسان بن چکے تھے ۔ اب وہ محمد علی جناح ؒ کی بجائے خود کو مختصراََ ایم اے جناحؒ کہلوانا پسند کرتے تھے ، پیسے اور وقت دونوں کے ضیاع کے قائل نہیں تھے اور دوستوں کے انتخاب میں انتہائی محتاط تھے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *