قطر: عرب ممالک کی پابندیوں سے نمٹنے کے لیےنجی شعبےکی امدادکاحکم

قطر کی حکومت نے عرب ممالک کی عاید کردہ پابندیوں سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کی فرموں اور کاروباروں کی امداد کی غرض سے بعض اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

قطر کی سرکاری خبررساں ایجنسی کیو این اے کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم شیخ عبداللہ بن

Women stand next to audience seats at the Khalifa International Stadium in Doha, Qatar, May 18, 2017. Picture taken May 18, 2017. REUTERS/Ibraheem Al Omari - RC19F9719840

کمپنیوں کی جانب سے 2018 اور 2019ء کے لیے ادا کردہ کرایوں کو نصف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نصر بن خلیفہ آل ثانی نے ریاست کے لاجسٹکس زونز میں

ان زونز میں نئے سرمایہ کار اگر تعمیرات کی غرض سے بعض شرائط کے مطابق اجازت نامے حاصل کرتے ہیں توانھیں ایک سال کے کرائے کی ادائی سے مکمل طور پر مستثنا قرار دے دیا جائے گا۔اس کے علاوہ قطر ترقیاتی بنک صنعتی شعبے کے منصوبوں میں سہولت کاری کے لیے چھے ماہ تک قرضے کی اقساط ملتوی کر دے گا۔یہ سرکاری بنک نجی کمپنیوں اور فرموں کو کاروباراور ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرض دیتا ہے۔

’’ذخیرہ اندوزی‘‘

شیخ عبداللہ نے تمام وزارتوں اور سرکاری محکموں کو اپنی اپنی ضروریات کے مطابق مقامی مصنوعات کو سو فی صد تک خرید کر ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس وقت وہ تیس فی صد تک اشیاء خرید کر رکھ سکتے ہیں۔

قطری معیشت کی شرح نمو اپریل سے جون کی سہ ماہی میں صرف 0.6 فی صد رہی تھی۔یہ 2009ء اور 2010ء کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد سے کم ترین شرح نمو ہے۔ قطری معیشت کی زبوں حالی سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر کی جانب سے 5 جون کو سفارتی ، تجارتی اور ٹرانسپورٹ منقطع کرنے کا نتیجہ ہے۔

ان چاروں ممالک نے قطر پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام عاید کیا تھا اور اس کا بائیکاٹ کردیا تھا۔تاہم دوحہ حکومت نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ خلیجی ریاستوں نے بائیکاٹ کے بعد قطری بنکوں سے اپنے سرمائے کو بھی نکال لیا ہے جس کے بعد قطر میں رئیل اسٹیٹ کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور قطر کی اسٹاک مارکیٹ بھی 18 فی صد تک گر چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *