کہیں ایسا نہ ہو کہ چیف اپنا کنٹرول جتانے کی ٹھان ہی لیں!

فوجی انقلاب کا ایک سانچہ ہوتا ہے اور یہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ حکومت مفلوج ہوجاتی ہے، نواز شریف تصادم کی راہ پر چل پڑتے ہیں، 'لڑکوں' کا دل بھر جاتا ہے اور آرمی چیف میدان میں آجاتے ہیں۔

پہلے کے لیے بھی یہ سانچہ ٹھیک تھا، آگے کے لیے بھی ٹھیک ہے۔

اِس میں تھوڑا سا امریکا اور ہندوستان مخالف ہسٹیریا شامل کریں تو آپ سوچیں گے کہ آخر فوجی انقلاب ابھی تک آیا کیوں نہیں؟

مگر کہانی اب تھوڑی مختلف رخ اختیار کرچکی ہے۔ اب کوئی بھی اُس واحد شخص کی ہمت نہیں بندھا رہا جو گھوڑا دبا سکتا ہے۔

یاروں کا کہنا ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ادارے کی سطح کی مداخلت ہے۔ یار خبردار کر رہے ہیں کہ یہ کسی بھی فرد سے بڑھ کر ہے۔ یاروں کا مشورہ ہے کہ اگر ملک کو بچانا ہے تو کئی لوگوں کو مل کر کام کرنا پڑے گا۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی بھی چیف صاحب کو چیف ایگزیکٹیو بنتے نہیں دیکھنا چاہتا۔

کچھ تو گڑبڑ ہے۔ ریوائنڈ کرکے 11 سال پہلے کیانی کی جانب چلتے ہیں، جب مشرف نے اقتدار سے چمٹے رہنے کی بے تاب کوشش میں چار و ناچار فوج کی کمان کیانی کے سپرد کی۔

کیانی کو اپنے پیر جمانے اور اپنا کنٹرول جتانے میں تھوڑا وقت لگا۔ طنزیہ جملے کسے گئے کہ ایک جونیئر کمیشنڈ افسر کا بیٹا ملک کے سب سے اہم عہدے کے لیے کیسے 'فِٹ' ہوسکتا ہے؟

سوالات اُٹھائے گئے کہ آئی ایس آئی سے سیدھا جی ایچ کیو منتقلی معقول فیصلہ تھا بھی یا نہیں؟ سرگوشیاں تھیں کہ تقرری سیاسی بنیادوں پر کی گئی، اور بحثیں تھیں کہ مشرف کے ساتھ دھوکہ ہوگیا ہے۔

آہستہ آہستہ کیانی اِن سب پر غآلب آگئے۔ مگر اِس کے لیے انہیں محنت کرنی پڑی، سخت محنت۔

انہوں نے 'سپاہیوں کا سال' منایا۔ اُنہوں نے عسکری معاملات اور تنخواہوں میں اضافے پر توجہ دیتے ہوئے سپاہیوں کے دل جیتے۔ اُنہوں نے میڈیا کو پروان چڑھایا۔ اُنہوں نے خود کو ایک 'سمجھ بوجھ رکھنے والے سپاہی' کے طور پر پیش کرکے ایک پیشہ ورانہ انداز اپنایا۔

پھر آہستہ آہستہ انہوں نے جان لیا کہ ادارے کے دھڑوں اور سیاسی حلقوں کے درمیان سے اپنا راستہ کس طرح بنانا ہے اور بالآخر وہ اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

اب ایک دہائی کے بعد، مدتِ ملازمت میں توسیع کے داغ اور اُن کے آرمی چیف بنتے وقت سیاسی ہلچل نے ایک حقیقت پر پردہ ڈال دیا ہے: وہ یہ کہ کیانی کا بطور آرمی چیف آغاز غیر یقینی پر مبنی تھا۔

مگر پھر راحیل شریف آئے اور اسکرپٹ دوبارہ دہرایا گیا۔

راحیل نے بھی قدم جمانے اور کنٹرول جتانے میں وقت لگایا۔ اُن کا ریکارڈ زبردست تھا مگر اُن کی ذہانت پر سوالات اٹھائے گئے۔ ایک 'اوسط' جنرل کو آخر کیوں ایک بہترین اُمیدوار پر ترجیح دی گئی، اور اُن سے نیچے موجود دو دیگر معیاری امیدواروں کو کیوں منتخب نہیں کیا گیا؟

کیا یہ بندہ اِس عہدے کے لیے درست انتخاب تھا؟ وہ نواز کا بندہ نہیں بننے والے تھے، مگر کیا نواز نے یہ جان لیا تھا کہ غیر سیاسی شخص ہی عمران خان کے خلاف جنگ میں اُن کا مددگار ثابت ہوگا؟

جیسے جیسے اصلی دھرنا قریب آیا تو شکوک و شبہات گہرے ہونے لگے اور اختلافات تقریباً کھل کر سامنے آنے والے تھے۔ افواہیں تھیں کہ ’جنرلوں کا ایک گروہ اپنے باس پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ کھیل کھل کر کھیلا جائے۔‘

کیانی کی ہی طرح راحیل بھی بالآخر اِس ساری صورتحال پر غالب آگئے۔ مگر اُنہیں اِس کے لیے محنت کرنی پڑی، سخت محنت۔

تقریباً 10 ماہ طویل غیر یقینی کے بعد راحیل سمجھ گئے کہ بادشاہ بننے کے لیے ضروری ہے کہ لوگ آپ کو بادشاہ سمجھیں اور آپ سے بادشاہ کی طرح ڈریں۔ چنانچہ راحیل کے حامیوں کی تحریک سامنے آئی، آپریشن ضربِ عضب جس کا تاج اور 'شکریہ راحیل شریف' جس کا نعرہ تھا۔

اب آتے ہیں مسئلے کی جانب۔ یہی سب کچھ باجوہ کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ اِن پر بھی شکوک کے گہرے سائے لہراتے رہے ہیں۔ نمبر چھ کو آخر نمبر ایک کیوں بنایا گیا؟ نواز اور کمپنی اتنے پُراعتماد کیوں تھے کہ یہی بندہ ان کا بندہ ہے؟

شکوک و شبہات کے ساتھ معاملات تھوڑے خراب بھی ہوئے۔ کم از کم ایک شخص پہلے سے مضبوط اُمیدوار تھا۔ نہ صرف اُسے راحیل کی حمایت حاصل تھی بلکہ وہ سپاہیوں کا ہردلعزیز بھی تھا۔ جس کا ریکارڈ بالکل موافق تھا، شہرت اچھی اور طریقہءِ کار بھی درست تھا۔ مگر اُس کے ساتھ زیادتی ہوئی؛ صرف سویلین حکمران کی پسند کی وجہ سے اُسے ذلت آمیز طریقے سے سپرسیڈ کردیا گیا۔

اور شاید سب سے زیادہ بدقسمتی باجوہ کی رہی، کہ اُنہیں راحیل کے سائے اور راحیل کے حامی دھڑے کی لامتناہی قوت سے نمٹنا تھا۔

مگر، پھر بھی ایسا کچھ نہیں جس پر غالب نہیں آیا جاسکتا اور کچھ بھی بنیادی طور پر اِس سے مختلف نہیں تھا جس کا سامنا کیانی اور راحیل کو کرنا پڑا۔

مسئلہ یہ ہے کہ چیف اب بھی اپنی غیر یقینی شروعات پر غالب نہیں آئے ہیں۔ سیاسی جنگ چھڑی ہوئی ہے، افغانستان اور واشنگٹن میں مسائل جنم لے رہے ہیں اور اداروں پر حملہ ہو رہا ہے۔ یہی وہ سب کچھ ہے جنہیں حل کرکے شہرت حاصل کی جاسکتی ہے اور یہ کہ یہ تمام حالات و واقعات کافی آہستگی کے ساتھ پیش آئے ہیں اور اِن کی پیشگوئی کرنا بھی کافی آسان تھا۔ دفتر میں آئے ہوئے بھی اب دس ماہ ہوچکے ہیں۔

چیف اپنا کنٹرول جتاتے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھتی عوام اور شور مچاتا میڈیا اُنہیں 'اور کرنے' کے لیے مجبور کرتا ہے، اور پھر چیف فیصلہ کرتے ہیں کہ یا تو وہ جمہوریت کو چلنے دیں یا پھر میدان میں شکار کے لیے اُتر جائیں۔

مگر اِس دفعہ لگتا ہے کہ کوئی بھی شخص اِس واحد شخص کی ہمت نہیں بندھا رہا جو گھوڑا دبا سکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی نہیں چاہتا کہ چیف صاحب چیف ایگزیکٹیو بن جائیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارے پاس اب بھی نیا چیف ہے؛ ایک نووارد جو اب بھی قدم جمانا چاہ رہا ہے۔

کچھ تو گڑبڑ ہے اور یہ ہم میں سے کسی کے لیے بھی اچھی نہیں ہوگی۔

سب سے اچھا چیف تو وہ ہوگا جسے یقین ہو کہ وہ انتہائی قدم نہیں اُٹھا سکتا، بھلے ہی وہ چاہے یا نہ چاہے۔ یہ واضح ہے کہ ہم وہاں نہیں ہیں۔

اِس کے بعد وہ چیف، جسے یقین ہو کہ وہ انتہائی قدم اُٹھا سکتا ہے، مگر پھر بھی انتہائی قدم نہ اٹھانا چاہے۔ اگر ہم خوش قسمت ہوتے تو ابھی یہ صورتحال ہوتی۔

مگر ایک ایسے چیف کا دور جس کے بارے میں سب سمجھتے ہیں کہ وہ بڑا قدم اُٹھا ہی نہیں سکتا، اور نہ ہی کوئی چاہتا ہے کہ وہ بڑا قدم اٹھائے؟

کہیں ایسا نہ ہو کہ چیف اپنا کنٹرول جتانے کی ٹھان ہی لیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 8 اکتوبر 2017 کو شائع ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *