پاکستان کے علاقے پامیر کی گڈرنیاں

قراقرم کے پہاڑیpamir 1 سلسلے کے درمیان واقع وادی شمشال کے لوگ ہر سال پہاڑوں پر اپنی عورتوں کی سربراہی میں اپنے مویشیوں کے ساتھ موسمی ہنکاؤکی پرانی روایت کو نبھاتے آرہے ہیں۔

عورتوں کی رہنمائی میں ادا ہونیوالی اس روایت کو لے کر واکھی ، جو ایک نسلی آبادی ہے، بہت فخر محسوس کرتی ہے۔

بہار کا موسم آتے ہی گنی چنی عورتیں اور مرد 4,600 میٹر کی اونچائی پر اپنا گاؤں بساتے ہیں۔وہ صرف زندگی کی بنیادی ضروریات کی اشیاء کے ساتھ سخت سرد موسم میں وہاں پانچ مہینے گزارتے ہیں، اُس حالت میں جب قریب ترین گاؤں بھی تین دن کی دوری پر ہے۔

وادی شمشال کی آبادی 1,750لوگوں پر مشتمل ہے جبکہ اُس کو قرارقرم سے ملانے کے لئے ایک ہی سڑک موجود ہے جس کے بننے میں18سال لگ گئے تھے۔سڑک بننے کے بعد سے شمشال کے لوگوں کو آس پاس کے دیہاتوں اور علاقوں تک رسائی اور روزگارمل گیا ہے جس کے بعد pamir 2سے تعلیم بھی یہاں عام ہو رہی ہے۔

واکھی کے لڑکے اور لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کرنے کے لئے مختلف علاقوں کا رُخ کر رہے ہیں تا کہ پڑھائی کے بعد اُن کو بھی روزگارکے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔
ان حالات کو دیکھتے ہوے ایسا لگتا ہے کہ گڈرنیوں کی یہ روایت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گی اور واکھی کی عورتیں بھی یہ بات جانتی ہیں کہ شائد وہ اس خوبصورت روایت کے آخری چند سال جی رہی ہیں۔

دو دیہاتی ایک ساتھ اونچائی چڑھ کر ایک دوسرے کو ملتے ہیں تاکہ ضروریاتِ زندگی کا لین دین ہو سکے۔پہاڑوں کو کاٹ کر ایک دشوار راستہ بنایا گیا ہے جو شمشال کو پامیر سے ملاتا ہے۔پامیر ایک pamir 3خوبصورت وادی ہے جو ہرے بھرے میدانوں سے بھری پڑی ہے۔

برف اور شدید موسم میں یہ گڈرنیاں تقریباََ ہزار مویشیوں کی رکھوالی کرتی ہیں۔

یہاں پر وقت گزارنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔ عورتیں دودھ دوہ کر اپنا وقت گزراتی ہیں۔ اور ان کو خیال بھی کرنا پڑتا ہے کہ یہ کام دن کی روشنی میں ہو جائے۔

چند باریک نشان ہی ان جانوروں کی پہچان ہوتے ہیں کہ کن کی باری ہو چکی ہے اور کن کی آنیوالی ہے۔

یہاں پر سواری کے لئے یاک یعنی تبتی بیل پر انحصار کیا جاتا ہے۔ یہ pamir 4تبتی بیل بھی ایک طرح سے پامیر کی پہچان ہیں۔

یاک وولیو کے میلے کے لئے گاؤں واپس آتے ہیں اور یہ یہاں کے خانہ بدوشوں کی واحد تفریح ہوتی ہے۔

وولیو کے دورا ن سفید گندم سے ایک خاص طرح کی روٹی تیار کی جاتی ہے جس میں یاک کے دودھ کا مکھن استعمال ہوتا ہے اس کے ساتھ کبھی نمک اور کبھی چینی استعمال کی جاتی ہے۔ اس روٹی کو ’’چمرک‘‘ کہا جاتا ہے۔

سخت موسم کے باوجود بھی یہاں کے مرد اور عورتیں ناچنا گانا نہیں چھوڑتے۔

اب اس وقتی گاؤں کے طالیس گھروں میں سے سے17ہی آباد ہیں۔

دوعورتیں پوک دومن اور نار بیگم گاؤں کی چند بوڑھی گڈرنیوں میں سے ہیں۔ نار بیگم کا کہنا ہے کہ اُن کی کچھ سہیلیوں کی طبعیت ایسی نہیں کہ وہ یہاں آسکیں جبکہ وہ اگلے سال خود یہان اٹی ہے کہ نہیں وہ نہیں جانتیں۔
pamir 6 اضافی دودھ کو یہاں کی عورتین پنیر بنا کر محفوظ کرتی ہیں۔ ا س پنیر کو کوروت کہا جا تا ہے۔

عورتیں کے ساتھ آنیوالے چند مرد کرکٹ وغیرہ کھیل کر یہاں اپنا وقت گزارتے ہیں۔

بشکریہ:الجزیرہ    pamir 5 pamir 7 pamir 8 pamir 9 pamir 10 pamir 11 pamir 12 pamir 13

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *