آئی ایس پی آر کا بڑھتا ہوا حجم اور کردار کیوں؟

عباس ناصرabbas nasir

بریگیڈئیر ریاض اللہ اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر تھے جب آرمی نے بڑا آپریشن شروع کیا جسے میڈیا نے گلاس نوسٹ کا نام دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جنرل مرزا اسلم بیگ  پاکستان کے نئے آرمی چیف بنے تھے۔ یہ قدم ضیا الحق کی جہاز حادثے  میں موت کے بعد اٹھایا گیا ۔ اس دوران ضرب مومن کے نام سے ایک میڈیا مہم بھی چلائی گئی ۔ اس وقت کے جنگی رپورٹرز کومستقبل کے فوجی جوان کا نام دیا جاتا تھا انہیں عزت اور احترام کے ساتھ 'سر' کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

تھوڑی سی رسائی مل جائے تو صحافی فوجیوں کے ساتھ ہمیشہ کی دوستی بنا لیتے تھے۔ کچھ ماہ بعد کچھ صحافی فوجی جرنیلوں کے ساتھ چائے کی چسکیاں لیتے دکھائی دیتے تھے۔ ضرب مومن کے کچھ ہفتے بعد بہت سے صحافیوں کا ایک گروپ  اس بات پر پکا یقین رکھتا تھا کہ ضیا الحق کی سیاسی آرمی ان کے ساتھ جل کر خاک ہو چکی ہے اور نئے آرمی چیف ایک نئی اور مختلف پالیسی   کے ساتھ نمودار ہوئے ہیں جو سیاست سے دور رہیں گے اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کریں گے۔

ایسا سمجھا جاتا ہے کہ اسلم بیگ بہت اچھی آپشن تھے اور آرمی چیف کےلیے اس وقت کوئی  ان سے بہتر آپشن نہیں تھی ۔ وہ ایک دھیمے مزاج کے انسان تھے اور لوگ ان کے کھلے ذہن کی بہت تعریف کرتے تھے۔ ایک رپورٹر کی حیثیت سے ایک بار میں اپنے تجسس پر قابو نہ رکھ پایا اور جنرل بیگ کی بیٹی  کی شادی کی تقریب میں پہنچ گیا۔ بریگیڈئیر ریاض اللہ نے مجھے دیکھ لیا ۔ وہ میرے پاس آئے ، مجھے خوش آمدید کہ اور وہاں آنے پر میرا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ساتھیوں سے میرا تعارف بھی کروایا۔  

اس وقت ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے منتخب صحافیوں کو سرکاری طور پر کارڈ اور دعوت نامے جاری کیے جاتے تھے۔ بعد میں یہ بہترین شخصیت کینسر کی بیماری کی وجہ سے دوران ملازمت ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ جہاں ایک طرف آرمی کو غیر سیاسی ادارے کے طور پرپیش کرنے کا عمل جاری رہا  وہاں بے نظیر بھٹو کے خلاف آئی جے آئی کے ذریعے جد و جہد جاری رہی۔  اس کے باوجود پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب رہی  جو ایک معجزہ سے کم نہیں تھا۔

ملٹری اور صدر کو ایک متبادل کے ناممکن ہونے کی خبر تک پہنچنے میں دو ہفتے لگ گئے۔ انہیں ایک ڈیڑھ سال سے زیادہ حکومت میں ٹھہرنے نہیں دیا گیا۔ باقی تفصیلات اصغر خان کیس کی وجہ سے ہر کسی کو معلوم ہیں۔اگلے تین آرمی چیف کے آئی ایس پی آر جنرنیل جن میں جنرل آصف نواز، عبدالوحید کاکڑ اور جہانگیر کرامت کے نام آتے ہیں ان تینوں افراد نے پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کیا  اور سیاست سے دوری بنائے رکھی۔  

جنرل مشرف کی حکومت پر قبضے کی کامیاب کاروائی کے بعد ایک بار پھر ایک حد سے زیادہ پھرتیلے ڈی جی  ءآی ایس پی آر راشد قریشی کی صورت میں نمودار ہوئے جنہوں نے کارگل کوریج پر بہت جارحانہ رویہ اختیار کیا اور مشرف کے واجپائی کو سلیوٹ نہ کرنے جیسی کہانیوں کے ذریعے بھی اپنے قائد کی مدح سرائی کرتے نظر آئے۔ آئینی حکومت کو برطرف کرنے کے بعد جب مشرف چیف ایگزیکٹو بن گئے اور انہیں سپریم کورٹ کی حمایت مل گئی تو آئی ایس پی آر نے مشرف کو ایک لبرل ریفارمسٹ کے طور پر متعارف کروانا شروع کیا۔

اس سپن کے باوجود انٹرنیشنل کمیونٹی مشرف کو ایک پیر سمجھ رہی تھی لیکن پھر 9 /11 کا واقعہ پیش آیا۔ پاکستان اور پاک فوج کا کردار القاعدہ جنگ میں نہایت اہمیت اختیار  کر گیا  اور مشرف اس معاملے میں بین الاقوامی میدیا کے  ڈارلنگ بن گئے۔ پاکستان نے القاعدہ رہنماوں کی گرفتاری اور ان کے خلاف لڑائی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا  لیکن ساتھ ساتھ فاٹا میں تحریک طالبان کے رہنماوں سے سمجھوتے کا عمل بھی جاری رکھا اور انہیں کچھ علاقے پر کنٹرول سونپ دیا  اور اس ڈیل کو ایک بڑی فتح قرار دیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس  نے بھی بریگیڈیر ریاض اللہ جیسا کردار اپنائے رکھا اور آرمی کو مشرف کے بہت سے فیصلوں سے لاتعلق قرار دیا۔جنرل عباس نے یہ خیال رکھا کہ میڈیا اور صحافیوں کو نئے آرمی چیف تک رسائی میں آسانی رہے جس کی وجہ سے میڈیا کی توجہ کیانی  صاحب پر مرتکرز رہی اور احمد شجاع پاشا جوآئی ایس آئی چیف تھے انہیں کسی قسم کی جوابدھی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔  

جنرل عاصم باوجوہ جو اس وقت ساودرن کمانڈ کے سربراہ ہیں، انہیں راحیل شریف کے دور میں آئی ایس پی آر بنایا گیا ۔ انہوں نے جنرل راحیل شریف کو ایک بڑی شخصیت کے طور پر پیش کیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کا امیج بہتر کیا۔ انہوں نے میڈیا سیکشن کو بھی اپنا گرویدہ بنایا اور اپنے ادارے کے لیے میڈیا حمایت حاصل کرنے میں بہت کامیابی حاصل کی۔

جنرل عاصم باجوہ کے بارے  میں بھی خیال تھا کہ سوشل میڈیا کی اہمیت سے واقف ہو ں گے اسلیے انہوں نے بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنے کے باجود بہت ہی احتیاط سے سوشل میڈیا کا استعمال کیا ۔ موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر  کہا کہنا ہے کہ ہم پیچھے مڑ کر نہین دیکھ سکتے ۔ ان کا کہنا ہے کہ خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہم میڈیا کےلوگ خاموشی کے ذریعے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتے۔ جب آئیڈیا اور موضوعات کی کمی ہو تو تاریخ کبھی بے معنی نہیں ہوا کرتی۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *