جینز، ٹائٹس اور شرم و حیا کے پیکر

rafia zikriaرافعہ ذکریا

چین میں مجرموں کو واٹر ٹارچر سے گزارا جاتا ہے جس میں ایک انسان کے چہرے پر  کافی دیر تک پانی گرایا جاتا  ہے۔ اس طرح اگر پانی کافی دیر تک گرایا جائے تو یہ شخص پاگل ہو سکتا ہے۔ جس شخص نے یہ طریقہ ایجاد کیا  اس نے یہ سب پانی کو ایک پتھر سے دوسرے پتھر پر گرتے دیکھ کر سیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ جس چٹان پر پانی گرتا رہتا ہے وہ کمزور ہو جاتی ہے ، اس میں سوراخ ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے یہ طریقہ انسانوں پر آزمانے کا فیصلہ کیا۔ پچھلے ہفتے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے فیصلہ کیا کہ خواتین کے ڈریس کوڈ  میں تبدیلی کی جائے  اور لڑکیوں کو جینز اور ٹائٹس پہننے سے باز رکھا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ جینز اور ٹائٹس مناسب لباس کے زمرے میں نہیں آتے ۔ دوپٹہ نہ پہننے والوں کی بھی مذمت کی جائے۔

اخبار کی رپورٹس کے مطابق اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والی لڑکیوں کو 500 سے 1000 روپے تک جرمانہ کیا جائے گا ۔ کچھ فیکلٹی ممبران کا کہنا تھا کہ سابقہ فوجیوں پر مشتمل انتظامیہ کا خیال ہے کہ لڑکیوں کو جینز اور ٹائٹس پہننے کی اجازت دینا کسی صورت اچھی چیز نہیں ۔ لڑکیوں کو دوپٹہ پہن کر یونیورسٹی میں آنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔

خواتین کے لباس کے فیصلے کرنے کی یہ جرات صرف نسٹ یونیورسٹی انتظامیہ نے نہیں دکھائی۔ اس سے قبل خیبر میڈیکل کالج میں طالبات نے یونیورسٹی کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جس میں لڑکیوں کو یونیفارم پہننے کا پابند بنایا گیا تھا۔ اس یونیفارم میں دوپٹہ اور عبایا کو لازم قرار دیا گیا تھا۔

ان یونیورسٹی اہلکاروں نے ہمیشہ لڑکیوں کو شرم و حیا کا پیکر بنانے میں جو 'مخلصانہ' کوششیں کی ہیں ان سے پاکستان میں بھر میں کسی کو حیرانگی نہیں ہو گی۔ بچوں سے جنسی زیادتی، غیرت کے نام پر قتل، عوامی مقامات پر خواتین سے چھیڑ خوانی،  اور خواتین کے دوسرے مسائل جو انہین ہر روز پیش آتے ہیں، ان سب کو چھوڑ کر خواتین کے لباس اور یونیفارم پر نظر رکھنے کے عمل نے اس معاشرے کے چہرے پر زور دار تماشہ رسید کیا ہے۔ برقعہ پہنانے والے اس ملک میں خواتین کو ہمیشہ کپڑوں اور لباس کے بیچ الجھا کر رکھا جاتا ہے۔ جو خواتین برقعہ اور نقاب میں اپنے آپ کو چھپا رکھتی ہیں انہیں اچھی اور با کردار قرار دیا جاتا ہےاور جینز پہننے والی خواتین کو بد کردار اور بے شرم جیسے خطاب ملتے ہیں۔  

اگر یہ بات ایک بڑے تعلیمی ادارے کی نہ ہوتی تو اسے ایک عام خبر سمجھ کرنظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ طالبات سے سائنس، ٹیکنالوجی اور میڈیسن کے شعبہ میں تعلیم کی فیس اور جرمانہ وصول کرنے  کی وجہ سے یہ  خبر ایک  اہم معاملہ کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ یہ تعلیم حاصل کر کے اپنی قابلیت کو ثابت کرنے والی طالبات کے سر پرایک اور قدغن لگانے جیسا ہے۔ جو لڑکیاں بہتر نمبر حاصل کر کے اچھی تعلیم اور جدید نظریات کے بل پر یہ سمجھتی ہیں کہ وہ اپنے آپ کو برابر کاشہری ثابت کر رہی ہیں ان کےلیے یہ ایک وارننگ ہے کہ ان کی تعلیم اور ترقی بلکل زیرو ہے اور کوئی چیز انہیں مردوں کے برابر نہیں لا سکتی۔ وہ سائنٹسٹ، ڈاکٹر، انجینئر تو بن سکتی ہیں لیکن وہ ہمیشہ خواتین رہیں گے اور مرد ہی ان کے لباس  کے رنگ ڈھنگ کا فیصلہ کرتے رہیں گے۔ کچھ لوگوں کےلیے  یہ سب سے بڑا نکتہ ہے جو ان کے پاگل پن کو ثابت کرتا ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *