ایک اور انداز کا ٹیک اوور!

سید طلعت حسینtalat 2

ہم بہت تیزی سے ایسی جعلی خبروں ، غلط تجزیات  اور عجیب اور بے بنیاد تھیوریز کا نشانہ بنتے جا رہے ہیں ۔ بلند ہوتی ہوئی یہ لہر سچائی پر مبنی بحث و مباحث کے مواقع ختم کر رہی ہے اور  حقیقت کو پہنچاننے کی ہماری صلاحیت کو زنگ لگا رہی ہے۔ آج کے دور میں یہاں اختلاف اور اعتراض کی گنجائش نہیں رہی ۔ اس نتیجہ میں پاکستان ایک ایسا  زمین کا ٹکڑا بن چکا ہے جہاں صرف جھوٹ اگتا ہے اور سچ پیدا ہونے سے پہلے ہی مرجھا جاتا ہے۔ انشااللہ باقی ہر طرح کے طوفان کی طرح یہ بھی تھم ہی جائے گا۔ یہی خیال امید کو زندہ رکھتا ہے  خاص طور پر ان لوگوں میں جو کھلے ذہن کے مالک ہوتے ہیں، تنقید برداشت کا حوصلہ رکھتے ہیں اور معاملات کے حل کے لیے غو رو فکر کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ نقصان بہت زیادہ ہو چکا ہے۔ جیسے جیسے غلط بیانیے  متعارف کروائیے جاتے ہیں، ایک صاحب عقل انسان کی پریشانی بڑھتی جاتی ہے  اور بدلاؤ کی توقعات ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ انکار کی ضد پر قائم رہنے کی روش ہمیں بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ اس نقصان کی بڑی وجہ غلط خبریں، بے بنیاد تجزیات اور جھوٹے بیانیے ہوں گے جو ہم نے پورے ہو ش و ہواس میں اپنا رکھے ہیں۔ ہم پہلے ہی اس عادت کی وجہ سے بہت نقصان برداشت کر چکے ہیں۔

اس بات پر غور کیجیے۔آزادی کے حصول سے آج تک ہمارا سٹریٹجک گول یہ تھا کہ ہم اپنے حقیقی اور خیالی دشمنوں سے اپنےملک کو محفوظ بنائیں۔  ہر دن قوم کو بتایا جاتا رہا کہ ہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے  اور اپنی سکیورٹی کو مضبوط بنا لیا ہے۔ جنگ ہو یا امن، فتح ہو یا شکست، ہم نے یہ دعوی کبھی نہیں چھوڑا کہ ہم نے ملک کو بچانے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم نے یہی دعوی اسوقت بھی کیا جب ہم اپنا آدھا ملک کھو چکے ۔

اس کے بعد ہم نے نیو کلیر ٹیکنالوجی کا حصول ممکن بنایا جس کے ذریعے ہم خود کا دفاع کر سکیں ۔ہم نے اس نیو کلیر شیلڈ کو ملک بھر میں پھیلایا تا کہ تمام بارڈر محفوظ رہیں اور ملک کو کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔  ہم نے بہت سے دوسرے بڑے اقدامات کیے۔ ہم امریکہ کی وار آف ٹیرر کا حصہ بن گئے اور اپنے تمام وسائل افغان بارڈر پر وقف کر دیے  اور اسے مغربی بارڈر پر ملک کی حفاظت کو یقینی بنانے کا نام دے دیا۔ البتہ ہزاروں شہیدوں ، کروڑوں ڈالر  کے اخراجات اور اربوں کامیابی کے دعووں کے باوجود ہمیں ہر طرف سے دھتکارا گیا اور ہر کوئی ہمیں اپنی سالمیت کےلیے خطرہ سمجھنے لگا۔ اس وقت افغانستان بارڈر پر موجود فوج  کی تعداد انڈیا بارڈر پر موجود تعداد سے زیادہ ہے۔ اس بارڈر پر بھی  البتہ کچھ حد تک ہی استحکام قائم ہے۔ رواں سال میں ایل او سی پر بہت بار حملے ہوئے ہیں۔ ہم کلاسک پنسر جیسی صورتحال کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہم وہی کام کر رہے ہیں جس سے ہمیں بچنا چاہیے۔

بات صرف اتنی نہیں ہے۔ خطرے کی تہیں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ ہمارے دونوں بارڈرز پر جنگ کی دھمکیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران کے ساتھ بھی معاملات تلخ ہونے کی وجہ سے ہم ایران بارڈر پر بھی فوج تعینات کرنے اور معاملات ٹھنڈا کرنے کے لیے آرمی چیف کو ایران بھیجنے پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی طرف سے ملک کے اندر حملے کرنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں جب کہ وہ پہلے ہی بے شمار ڈرون حملوں کے بعد بھی شرمندہ دکھائی نہیں دیا۔ واشنگٹن میں بہت سی آوازیں پاکستان پر سخت رد عمل کے لیے اٹھتی نظر آتی ہیں۔ اس قدر زیادہ خطرات کےبعد ہم یہاں سب اچھا ہے کا گن گا رہے ہیں۔

ہم نے اس گلوبل چیلنج کو غلط طریقے سے کم کرنے کی کوشش کی ہے اور ٹرمپ کی پالیسی کی حماقت قرار دیا ہے  اور جان بوجھ کر اصل پہلو کا نظر اندا ز کر رکھا ہے کہ کس طرح واشنگٹن ہمارے خلاف دھمکی آمیز پلان تیار کر رہا ہے۔ یہ  نظریہ صرف ٹرمپ کا نہیں بلکہ جی 20 ممالک کا مشترکہ نظریہ ہے جس کا اظہار ہم نے برکس اعلامیہ اور انڈیا یورپ کوآپریشن اعلامیہ میں بھی دیکھا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے جب کہ پاکستان کے ارباب حل و عقد اس خطرے کو بھانپنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ انہیں سچ قبول نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے فوجی اور اپنی قومی دولت بھی اس دہشت گردی کے جن کے خلاف  گنوا رہے ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔  رواں ہفتے جھل مگسی میں ہونے والے دھماکے نے دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ 72 سال گزارنے کے بعد پاکستان کو تمام اطراف سے خطرات لاحق ہیں اور دنیا بھر میں بھی ہمارا کوئی مقام نہیں ہے ، نہ ہی ہم اپنے ملک کے اندر شر پسند عناصر پر قابو پا رہے ہیں۔ کیا یہ پالیسی کی فتح ہے یا بد ترین شکست اور ناکامی؟  یہ معاملہ انکوائری کا حقدار ہے یا کامیابی کے دعووں ؟ کیا اس وقت اپنے آپ کو کامیاب قرار دینے کا وقت ہے یا مسائل پر سنجیدگی سے غور و فکر کا؟

صحیح جواب بلکل واضح ہے لیکن کوئی اس جواب کی طرف توجہ دینا ہی نہیں چاہتا کیونکہ مرکز میں ان لوگوں کی اکثریت ہے جو صرف اس مظلومیت کا رونا رونے پر مصر ہے کہ کوئی ہماری قربانیوں کو تسلیم کرنے کےلیے تیار نہیں ہے۔اس مظلومیت کے شور کو ہم اپنا بیانیہ قرار دے رہے ہیں۔ ہم صرف یہی سمجھ رہے ہیں کہ اس مظلومیت کے رونے سے ہم دنیا کی توجہ حاصل کر لیں گے۔  نقصانات کی فہرست دہرانا کوئی بیانیہ نہیں ہوتا۔ معاشی فوائد کی بھوکی اور سیاسی فوائد کی خواہش مند دنیا میں کوئی ہماری اس شکایت پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہے۔

جنگ عظیم 1 میں جرمنی نے 2 ملین انسانی جانیں کھوئیں اور لاکھوں زخمی بھی ہوئے۔ ملک کی معیشت تباہ ہو گئی  اور عوام در پدر پھرنے پر مجبور ہوئے۔جنگ  کرنے میں محض جرمنی اکیلا ذمہ دار نہ تھا نہ ہی نقصانات صرف اس ملک نے اٹھائے لیکن جب امن معاہدہ ہوا تو جرمنی کو مدعو تک نہ کیا گیا  اور جرمنی کو تمام نقصانات کا ذمہ دار قرار دے کر اپنے اتحادیوں سمیت الگ تھلگ کر دیا گیا۔  اس ملک کے تمام جانی اور مالی نقصان کو یورپ کی حمایت میں نظر انداز کر دیا گیا۔ جرمنی کی مشکلات بڑھ گئیں۔ جنگ کے بعد جرمنی کو اپنی زمین کا بھی 10 فیصد حصہ قربان کرنا پڑا ۔ ملک کی 13 فیصد آبادی  بے یار و مددگار ہو گئی اور مختلف ممالک میں پناہ ڈھونڈنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمنی کو کوئلے کے ذخائر سے بھی محروم ہونا پڑا۔ جرمنی کی مظلومیت کا شور و غوغا اس کےلیے کسی طرح فائدہ  مند ثابت نہیں ہوا۔ مستزاد یہ کہ ہٹلر کی آمد سے ملک کی حالت اور بھی ابتر ہونے لگی۔

نکتہ یہ ہے کہ گلوبل اور ریجنل سیاست  کی جنجلاہٹ اس چیز کا تقاضا کرتی ہے کہ دنیا سے مظلومیت کا رونا رونے کی بجائے کسی  زبان میں بات کی جائے۔ اس کےلیے اپنے آپس ک حلقوں میں بھی بحث و مباحثہ کی ضرورت  ہے جس کا مقصد محض سیاسی فوائد اور اپنی تعریف کرنا نہ ہو۔ یہ تبھی ممکن ہو گا جب خود پسندی کی علامات سے دور رہتے ہوئے انسان بہتری کی خواہش کے ساتھ ان اقدامات پر عمل پیرا ہو۔

افسوس کی بات ہے کہ آئینہ دیکھنے اور اپنی خامیوں کا اعتراف کرنے  کی بجائے  دوسروں پر حملے کا ایک نیا ٹرینڈ چل پڑا ہے۔ ہمارا بیانیہ ایسا ہو چکا ہے کہ جس میں ایک بہرا اپنے آپ سے مذاکرات کر رہا ہو۔ وہ خود اپنے آپ کو سن نہیں سکتا  کہ وہ دنیا کو کیا کہہ رہا ہے  تو وہ کسی دوسرے کی بات کی حوصلہ افزائی کیسے کر سکے گا ۔ ایسی حالت میں منہ سے نکلنے والے الفاظ شور سے زیادہ کچھ نہیں رہتے۔

ملٹری کا اقتدار پر قبضہ جمہوریت کو ایسے ہی تباہ کر دیتا ہے جس طرح معلومات اہم قومی اثاثوں جیسے سوچنے، غور و فکر اور بحث و مباحث کی صلاحیتوں کو برباد کر دیتی ہے۔یہ چیزیں اجتماعی عقلمندی کو حقیقت سے دور کر تے ہیں اور جعلی خبروں اور بے بنیاد کہانیوں کے ذریعے معاشرے میں زہر گھولتے ہیں۔ ان دونوں طرح کے ٹیک اوور  میں سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کونسا زیادہ برا ہے۔ ایک طرح کے ٹیک اوور کا ہم بار بار مشاہدہ کر چکے ہیں  اب ہم دوسری طرح کے ٹیک اوور کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔  

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *