تصدق سہیل کو حسن پسند تھا

آصف فرخیtasaduq sohail

وہ مسکراتے ہوئے کہتے: میں مرنے والا نہیں ہوں۔ میں سو سال زندہ رہوں گا اور اپنے تمام دشمنوں کو قبر تک پہنچا  کر رہوں گا۔ وہ جسمانی طور پر کمزور تھے لیکن جینے کی خواہش ابھی جوان تھی۔ اپنے دشمنوں سے نفرت بھی مثالی تھی لیکن تصدق سہیل کی اصلی طاقت پیار تھا۔ وہ رنگ، خاتون اور پرندوں کے دلدادہ تھے۔ وہ کہانیاں لکھ کر چھٹیاں گزارنا سب سے بہتر سمجھتے تھے۔ جب وہ اسلامیہ کالج کراچی کے طالب علم تھے  تو ان کے ایک ٹیچر محمد حسن عسکری تھے جو ایک ناقد کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے انہیں سب سے بہترین کہانی لکھنے والا قرار دیا تھا۔ آرٹسٹ بننے سے قبل وہ مختصر کہانیاں لکھا کرتے تھے۔ کافی عرصہ بعد انہوں نے اپنی کہانیوں کا مجموعہ شائع بھی کیا۔لند ن کی گلیوں کی پینٹنگ کے بارے میں جب انہیں معلوم پڑا کہ یہ لڑکیوں کی قربت جیتنے کا بہترین طریقہ ہے تو  انہوں نے پینٹنگ کا شعبہ اپنا لیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ گر مرزا غالب سے سیکھا۔ وہ نامکمل شعر بھی اپنی آپ بیتی میں ضرور شامل کرتے جو کبھی مکمل ہو کر شائع نہ ہو پایا۔

پینٹنگ کے دوران بھی انہوں نے کہانی بیان کرنے کا سلسلہ ترک نہیں کیا۔ وہ بہترین اشکال اور رنگوں سے اپنی کہانی بیان کرنا جانتے تھے۔ انہوں نے یہ گر خود سیکھا تھا جو انہوں نے زندگی بھر جاری رکھا ۔ ان کی پینٹنگ میں دنیا کو ایک نئے تصور کے ساتھ دیکھنا ممکن تھا  اور پینٹنگ میں جانوروں اور انسان کے بیچ احساسات کا تعلق چھلکتا تھا۔ لیکن افسوس کہ دنیا ان کے خیالات کو اپنا نہ سکی۔ تصدق سہیل کی زندگی بغاوت ، خواہش اور اصلیت کا نمونہ تھی۔

80 کی دہائی میں وہ لندن سے آ کر علی امام گیلری میں نمائش کرتے۔ میں انہیں تبھی پہلی بار ملا اور ان سے جان پہچان ہوئی۔ ان کی طبیعت میں ایک بچوں جیسے کشش تھی  لیکن میں نے ان کے بارے میں زیادہ تر ان کے رقیبوں سے جانا جو اکثر ان کوتنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ ہم اکثر  جس جگہ پر مل کر بہت خوشی محسوس کرتے وہ ان کا اپارٹمنٹ تھا جس میں وہ طوطے اور بلی رکھتے تھے اور وہیں بیٹھ کر گھنٹوں پینٹنگ کیا کرتے تھے۔

ان کی زندگی کا سب سے بڑا دشمن گیلری مالکان تھے جو ان کو لوٹنے میں لگے رہتے لیکن سب سے اچھا پہلو لڑکیاں تھیں جو ان کو بہت خوبصورت اور پر کشش محسوس ہوتی تھیں۔  میں انہیں کہتا کہ وہ لولیتا کے صفحات سے نکل کر نمودار ہوئے ہیں ۔ وہ جواب میں کہتے کہ یہ شہر حسیناوں کا شہر ہے۔ انہوں نے مجھ سے انتقام کے لیے میری ایسی پینٹنگ بنائی جس میں انہوں نے مجھے بہت زیادہ بوڑھا کر کے دکھایا اور کہا کہ میں تمہیں اس طرح دیکھتا ہوں۔

وہ جتنی دیر بھی جاگتے وہ سارا وقت پینٹنگ میں گزارتے۔ وہ باقاعدگی سے پینٹنگ کےلیے وقت پر اٹھتے اور بیداری کے وقت کو 'Witching Hour' کہتے۔ آدھی رات کے بعد وہ آوارہ کتوں اور چمگادڑوں کو کھانا  بنا کر دیتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لندن میں لومڑیوں کو بھی کھانا کھلاتے تھے۔ جو ان پر تنقید کرتا وہ اس پر ایسا رد عمل ظاہر کرتے جیسے وہ ان  بد دعائیں دے رہے ہوں۔

چڑیلیں، جن، اور بھوت بھی ان کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں طلسم ہوشربا کے ہفت بلا کے بارے میں انہیں پڑھ کر سناوں تا کہ وہ اس کی تصویر کا نقشہ کھینچ سکیں اور موت کو اپنی پینٹنگ کے ذریعے بیان کر سکیں۔، وہ مجھے فون کرتے اور کہتے کہ یہ تصویر تمہارے مطابق ہے تمہیں بہت پسند آئے گی۔ وہ ایسے ایسے  انداز پینٹ کر سکتے تھے جن کو 'دی ساتیریکون ' اور 'اجنتا' کو سجانے کے لیے  استعمال کیا جا سکتا تھا۔ وہ بہت مزاحیہ قسم کی پینٹنگ بھی بناتے  اور بہت تیز رفتاری سے کتابیں بھر دیتے۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو کبھی گرہن نہیں لگا۔ دنیا چھوڑتے وقت انہون نےاپنی خدمات کا پینٹنگ اور کہانیوں کی صورت میں ایک بڑا مجموعہ چھوڑا جس ا حاطہ کرنا ممکن نہیں ۔ ان کی خدمات کا پوری ایمانداری سے احاطہ کرنے کے بعد ہی ہم ان کی اصل دانشوری کو سمجھ سکتے ہیں۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *