سیگریٹ پیتی عورت اور برہنہ مبّلغ

bbct 3کیا مرد ان چیزوں سے دور ہو سکتے جن سے عورت الگ نہیں رہ سکتی؟
رواں ہفتے تین کہانیاں سوشل میڈیا پر زیر بحث رہیں جن میں
تین کیانیاں پاکستانی سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز رہیں جن میں پاکستانی معاشرے کے دہرے معیار اور آن لائن مردوں اور خواتین کے ساتھ سلوک کو زیر بحث لایا گیا۔کچھ ہی ہفتوں میں ایک پاکستانی اداکارہ، ایک مذہبی شخصیت اور ایک نو عمر لڑکی کی فوٹو اور ویڈیو پر عوامی رد عمل نے پاکستانی معاشرے کی منافقت اور مذہبی عقائد کی قدامت پسندی کی قلعی کھول دی۔
پہلی کہانی: ایک سگریٹ کا دھواں اڑاتی اداکاراہ
ستمبر کے اوواخر میں معروف پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی کچھ تصاویر ایک سلیبرٹی گوسپ ویب سائٹ پر شائع ہوئیں۔ ان فوٹوز میں ماہرہ خان کو بھارتی اداکار رنبیر کپور کے ساتھ برہنہ کمر والا لباس پہنے سگریٹ کے کش لگاتے دیکھا گیا۔ کچھ عرصہ بعد جب میڈیا پر یہ تصاویر شئیر ہونے لگیں تو بہت سے لوگوں نے اداکارہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ BBCکے سوشل میڈیا ایڈیٹر طاہر عمران نے کہا:" سوشل میڑیا پر بات اب ہاتھ سے نکلتی جا رہی ہے۔ لوگ ماہرہ خان کو ان کی ڈریسنگ اور سگرٹ نوشی پر نہیں بلکہ ایک انڈین اداکار کے ساتھ دیکھ کر بھی آگ بگولا ہو رہے ہیں۔ " کچھ ہی گھنٹوں میں ہی لوگوں نے ان کوانٹرنیٹ پر ماہرہ خان کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ کچھ لوگوں نے انہیں پاکستان کو بدنام کرنے کا مجرم قرار دیا۔ کچھ لوگ اس معاملے پر ماہرہ خان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔ ان کا ساتھ دینے والوں میں رنبیر کپور بھی شامل تھے جو ان تصاویر میں ماہرہ کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ رنبیر نے کہا: جس طریقے سے ماہرہ خان پر تنقید کی جا رہی ہے اور انہیں جج کیا جا رہا ہے بہت شرمناک ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ انہیں صرف اس لیے یہ سہنا پڑ رہا ہے کہ وہ ایک خاتون ہیں۔ دوسری شخصیت جو ماہرہ کی ہم آواز بنی پاکستانی صحافی عاصمہ شیرازی تھیں جنہوں نے بی بی سی ٹرینڈنگ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ماہرہ کا ساتھ دینے پر انہیں بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتی ہیں: جب میں نے اس کہانی کو ٹاپ ٹرینڈ پر دیکھا تو میں نے ماہرہ کی حمایت کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ عوام کس قدر منافقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اگر کوئی خاتون سگریٹ پیتی ہے تو اس پر اعتراض کیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی مرد سموکنگ کرتے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ۔ انہوں نے مزید کہا: یہ دہرا معیار ہے۔ لوگ تھیٹر جاتے ہیں ان کی فلمیں دیکھتے ہیں، ان کی تعریف کرتے ہیں اور ان کو نصف برہنہ دیکھنا بھی پسند کرتے ہیں لیکن ان bbct 2کی ایسے لباس کے ساتھ سگرٹ پیتے انڈین ایکٹر کے ساتھ تصویر برداشت نہیں !!!"۔
دوسرے کیانی:برہنہ مبلغ
ماہراہ خان کی اس سنسنی خیز خبر کے کچھ عرصہ بعد ایک اور کہانی منظر عام پر آئی۔ یہ ایک مشہور مسلم مبلغ کے بارے میں تھی۔ نعمان علی خان ٹیکساس میں مقیم ہیں ، اور ان کے آن لائن وڈیوز اور ادارے "بینہ" کے بیرون ملک لاکھوں لوگ فالورز ہیں ۔ اپنے قدامت پسند خیالات کی وجہ سے شہرت رکھنے والے نعمان خان کے مطابق مردوں اور خواتین سے مصافحہ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اپنے سامعین کو جوان عمری میں شادی کا مشورہ دیتے ہیں اور فحش فلموں کے بھی سخت خلاف ہیں۔ شیکا گو کے مسلم عمر مظفر سعد خان کے فیس بک پوسٹ کے بعد ان کی عزت داؤ پر لگ گئی۔ عمر مظفر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ مختلف عورتوں کے ساتھ نعمان خان کے ناجائز تعلقات کا انہوں نے خود اعتراف کیا"۔ نعمان خان نے جھوٹ بولا ہے اور قانونی مقدمے کی دھمکیاں دیں تاکہ وہ ان خواتین کو خاموش رہنے پر مجبور رکھ سکیں۔
نوید عزیز نے کہا کہ ان الزامات کا تعلق ریپ یا جنسی حملوں سے نہیں بلکہ اپنے اختیار کا غلط استعمال ہے۔ کچھ ہی گھنٹے بعد نعمان علی خان کی بغیر شرٹ تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں۔ ساتھ یہ بھی لکھا گیا کہ نعمان نے یہ تصاویر ایک انجان خاتون کو بھیجی تھیں۔ نعمان خان نے فیس بک پر بتایا کہ وہ دو سال سے طلاقہ یافتہ ہیں اور دوسرے الزامات کو بھی انہوں نے مسترد کر دیا۔
ماہرہ خان کے معاملے کے بر عکس بہت سے لوگوں نے اس مبلغ کا ساتھ دیا اور ایک خاتون نے جب ان پر آن لائن بے شرمی کا الزام لگایا تو بہت سی خواتین نعمان خان کے دفاع میں آ گئیں اور اس تنقید کرنے والی خاتون لیلی علاوہ پر تابڑ توڑ حملے کیے۔
BBC کے طاہر عمرآن نے کہا" ماہرا خان اور نعمان علی کا کیس اگر آمنے سامنے رکھا جائے تو یہ کھلا تضاد اور صنفی امتیاز اور دوہرا معیار ہی تو ہے۔ اگر نعمان علی اداکار ہوتے تو معاملات کچھ اور ہوتے۔ لیکن کیوں کہ وہ مبلغ ہیں تو سب کہتے ہیں کہ وہ نیک آدمی ہیں اور تصاویر فوٹو شاپ سے جان بوجھ کر بنائی گئی ہیں۔ "
bbct 1تیسری کہانی: جوان لڑکیوں پر الزام تراشی
تیسری کہانی ایک ویڈیو ہے جس میں ایک دکان میں ایک بزرگ کو لڑکی کے ساتھ نامناسب طریقے سے چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ BBC ٹرینڈنگ نے اس وڈیو کو نہیں دیکھا کیوں کہ اب یہ موجود نہیں اس کا اصل اور اس میں موجود آدمی کا سراغ لگانا اب ممکن نہیں ۔ BBCاردو نے کہا کی اس ویڈیو کے بارے میں کوئی گرفتاری یا کاروائی بھی خبروں میں نہیں لیکن ویڈیو میں صرف مرد پر نہیں بلکہ لڑکی پر بھی تنقید ہوئی ہے۔ طاہر عمران نے بتایا کہ " بہت سے لوگ کہہ رہے تھے اس نے پورے بازوں والی قمیض نہیں پہنی ، اس کا لباس موزوں نہیں وغیرہ وغیرہ۔ "اگر آپ شروع والے کمنٹس دیکھیں تو 50 سے 60 ٪ لوگ لڑکی اور اس کے کپڑوں پر ہی شدید تنقید کر رہے ہیں۔ اور اس کا ردعمل بھی شدید ہے "۔ پاکستانی جنرلسٹ شائستہ عزیز شدید رد عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں ۔انہوں نے لڑکی پر الزام لگانے والوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لکھا: "پاکستان میں لڑکیوں کو ہی ان ہوس کے مارے مردوں کو متوجہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ بھی نہیں دیکھتے کے بچی کتنی چھوٹی ہے۔ " کیا ان کہانیوں سے کوئی سبق ملتا ہے ؟؟؟
ایک طرف معاشرہ خواتین پر پولیس کی طرح نظر رکھتا ہے اور انہیں ایسے معیار میں قید کرتا ہے جو مردوں کے مقابلے میں بہت مختلف ہے ۔ دوسری طرف مرد و خواتین دونوں اس دوہرے معیار پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔
بشکریہ:بی بی سی ٹرینڈنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *