ٹرمپ کی بیگمات میں لفظی’جنگ‘، الزامات کا تبادلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر میں پھیلے امریکی’دشمنوں‘ کے U.S. President Donald Trump, First Lady Melania Trump and Japanese Prime Minister Shinzo Abe (L) walk to pose for a photograph before attending dinner at Mar-a-Lago Club in Palm Beach, Florida, U.S.خلاف جنگ کی باتیں تو کرتے ہیں مگر معلوم نہیں کہ انہیں اپنے گھر میں سلگتی جنگ کی چنکاری کے بارے میں کوئی خبر ہے یا نہیں، کیونکہ ان کی ایک سابقہ اہلیہ اور موجودہ خاتون اول کے درمیان لفظوں کی جنگ شدت اختیار کرگئی ہے۔ بعید نہیں کہ یہ جنگ کوئی اور شکل اختیار کرلے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے صدر ٹرمپ کی پہلی بیوی ’ایوانا‘ جو اب بھی ٹرمپ کی منکوحہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے، کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہیں کہا گیا وہ ذاتیات پر حملوں سے گریز کریں۔

خیال رہے کہ ایوانا ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی ٹی وی چینل ’اے بی سی‘ کے پروگرام ’گڈ مارننگ امریکا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مزاح میں کہا تھا کہ چونکہ میں ٹرمپ کی زوجہ اول ہوں، اس لیے خاتون اول کا لقب بھی مجھے ہی ملنا چاہیے۔

چیکی نژاد ایوانا سنہ 1977ء سے 1992ء تک ٹرمپ کی بیوی رہ چکی ہیں۔ انہوں نے ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’میرے پاس وائیٹ ہاؤس کا فون نمبر موجود ہے مگر میں فون اس لیے نہیں کرتی کہ وہاں میلانیا موجود ہے‘۔

ایوانا نے مزید کہا کہ فی الحقیقت میں ٹرمپ کی پہلی بیوی ہوں، اس لیے خاتون اول بھی تو میں ہی ہوں۔ ٹھیک کہا نا؟۔

ادھر میلانیا کی ترجمان نے کہا ہے کہ مسز ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں صدر اور بیٹے بارون کے ساتھ رہائش اختیار کی ہے۔ وہ واشنگٹن میں بہت خوش ہیں اور امریکا میں خاتون اول کا اپنا کردار نبھا رہی ہیں۔ وہ اپنے اس لقب کو بچوں کی معاونت کے لیے استعمال کرتی ہیں نہ کتابوں کی فروخت کے لیے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پہلی بیوی کے بیانات میں کوئی صداقت نہیں۔ یہ امرباعث افسوس ہے کہ وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لیے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

ٹرمپ کی سابقہ اور موجودہ بیوی کے درمیان جاری محاذ آرائی کے بارے میں ’سپر پاور‘ کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کتنا علم ہے یہ واضح نہیں ہوسکا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *