حسابی زبان

photo tieshirtعلی رضا احمد
ایک بچہ کہہ رہا تھا او ریاضی تم اب تو بڑے ہو جاؤ اب اپنے’’ مسئلے ‘‘ خود حل کیا کرو...بچے کی بات سے لگتا ہے اب حساب کا اپنا امتحان شروع ہونے کے قریب ہے۔اگر کسی کی فہم و فراست کا امتحان لینا مقصود ہو تو اس سے حساب کے متعلق سوال پوچھ کر اس کی شخصیت اور قابلیت کو نفی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بابِ علم ؑ سے بھی اکثر ایسے ہی سوال پوچھے گئے ۔ایک دفعہ کسی نے معلوم کیا کہ کوئی ایسی رقم بتائیں جو ایک سے لیکر نو تک سب پر یکساں تقسیم ہوتی ہو اور باقی کچھ نہ بچے۔آپ نے فوراً فرمایا 2520
الجبرا ریاضی یا حساب کتاب نے ہماری زندگیوں کو نہایت سہل بنا دیا ہے اور ہماری مشکلات کو کم کر کے دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے۔ دنیا میں جتنی ایجادات ہوئیں ہیں ان کا سہرا حساب اور میتھ کے سر سجتا نظر آتا ہے اس کے لئے ایک planeسی مثال یہ ہے کہ حج پر جانے کے لیے ڈھائی ماہ کا عرصہ درکار ہوتا تھا اور اتنا ہی عرصہ واپسی کے لیے درکار ہوتا تھا باقی کچھ دن وہاں پرعبادات کے سلسلے میں لگ جاتے تھے اور واپسی چھ سات ماہ سے قبل ہونا مشکل تھا۔ ہم صرف پچاس سال پیچھے کی بات کر رہے ہیں اور اگر آپ تین چار سو سال قبل کی بات کریں تو ہمیں اسی حج پر جانے اور واپس آنے کے لیے اگلا حج بھی راستے میں آ پڑتا تھا۔ آج کل توایک ہفتے میں حاجی بن کر اگلے حج کی تیاری کا سامان بھی کر لیا جاتا ہے۔ علم اعداد و حساب کی ترقی نے ہمیں فزکس میں بھی ماہر کردیااور اس سے ہر چیز میں تیز رفتاری آ گئی۔ جیٹ انجن متعارف ہونے کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر ایجاد ہو گیا اور پھر اس پر انٹرنیٹ اور موبائل فون نے دنیا سمیٹ کر ملاقات کا اہتمام سیکنڈوں میں کر دیا اور آج ہم ان سائنسی ایجادات کے عادی ہو کر نہایت سہل ہو چکے ہیں اور اس میں سارا تصور الجبرے ریاضی جمع تفریق اور ضرب تقسیم کا ہے۔ جس طرح حساب نے انسانی زندگی کو سہل کر کے انسان کو سست اور بیمار کررہا ہے اسی طرح حساب نے ہماری اُردو میں شامل ہو کراسے بھی بے حساب محاورے اور اصطلاحات دیے ہیں جو کامیابی کی ’’علامت ‘ ‘ ہیں ملاحظہ فرمائیں
* علامت :حساب واحد مضمون ہے جس میں اگر علامت غلط ہو جائے تو پورا سوال غلط ہو جاتا ہے جن کو حساب پسند نہیں ان کے نزدیک علامت تمام برائیوں کی جڑ ہے اور جنکو پسند ہوتا ہے وہ حساب کا نام سنتے ہی ان کے چہروں پر خوشی کی علامت آ جاتی ہے۔
* تناسب :پاکستان میں شاعر آبادی کے تناسب سے کم ہیں حالانکہ کہ گلیاں عاشق مزاجوں سےَ اٹی پڑی ہیں...
* نسبت: سیاست دانوں کو اداکاراؤں سے کوئی نسبت نہیں ہوتی حالانکہ معاشرے میں ان کی تعداد تقریبا مساوی ہوتی ہے۔
* مساوی:ہمارے ہاں عورتوں کی آزادی مردوں کے مساوی ہونا ضروری ہے تاکہ وہ بھی رات کو چور یا ڈاکو بہادری سے پکڑ سکیں...
* فیصد:غربت ایک فیصد کم ہونے سے شش و پنج میں مبتلا مت ہوں بلکہ اس بارے میں شش اعشاریہ پنچ ہوں کیونکہ غربت کی دیمک اگر کسی جگہ لگ جائے تو کے لیے بیسیوں داؤپیچ آزمانا پڑتے ہیں...
* طاقت: اپنی طاقت کو بھی حساب ہی سے استعمال کرنا چاہیے نہ کہ فزکس سے ورنہ آپ کو بائیولوجی میں کمزور کیا جا سکتا ہے۔
* حاصل: لا حاصل متفرقات سے کچھ حاصل نہیں ہوتا لہذا جو حاصل ہے اسی سے سے فوائد حاصل کرنا چاہئے ۔
* زاویہ نظر : انسان کا زاویہ ء نظر اور معاملات سیدھے سادھے ہوں تو وہ سکون میں رہتا ہے یعنی ’’نہ نو نقد نہ تیر ہ ادھار‘‘
* اکائی:342اکائیاں مل کر ایک قومی اسمبلی بن پاتی ہے اگر کوئی پارٹی اپنی اکائی سے ہٹ جائے تو پارٹی پارہ پارہ ہو جاتی ہے ۔
* عشاریہ: حساب کے مضمون میں اُردو کی آمیزش عشرِ عشیربھی نظر نہیں آتی لیکن پھر بھی ان کا آپس میں ’’کو -ریلیشن‘‘ ضرور ہے یوں کسی بھی رقم کو حساب اعشاریہ اردو سے ضرب نہیں دی جا سکتی...
* رف عمل: جس طرح حسابی سوال کے حل کے لئے ’’رف عمل‘‘ کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح زندگی کے کئی معاملات کے لئے بھی رف عمل کر لیا جائے تو بہت آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں...
* باقی بچا:اس کی بیوی کے کلیوں سے خاندان کا کوئی فرد نہیں بچا۔باقی صرف و ہی بچا ہے جو کبھی کبھی یہ بھی کہتا ہے کہ وہ خود بھی نہیں بچا صرف ایک آدھ لاڈلا بچہ ہی بچا ہے...
* کلیہ: ریلوے اسٹیشن پر قلیوں کے پاس ہی ٹرین میں جگہ حاصل کرنے کے لیے کلیے ہوتے ہیں اس طرح کچھ حساب وہ بھی لگا لیتے ہیں کہ کون سا سادہ کلیہ کہاں لگانا ہے...
اب ہم اُردو کے ان حسابی الفاظ سے دو دو ہاتھ بھی کرتے ہیں جو ہمیں سکولوں میں کبھی نہیں پڑھائے جاتے۔
* نواسی :بھلے نواسی 60کی کیوں نہ ہو وہ اپنی نواسی سال کی نانی کی جان ہوتی ہے بھلے یہ سوال کسی سے بھی حل کراکر دیکھ لیں
* شعر: شعر کا وزن برابر کرنے کے لیے نئے شاعرکو دو چار ہاتھ کرنا پڑتے ہیں مگر پھر بھی دوچار ہاتھ لب بام رہ جاتے ہیں کچھ شاعر یہ بھی کہتے پائے گئے ہیں کہ شعر کا وزن برابر ہونا چاہئے مگرمساوی نہیں.... یہ بات وقار مجروح کے پلے بھی نہیں پڑتی...
* نظم :نظم و ضبط ادبی لوگوں کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ دوسروں کو آزاد نظم سنانے سے قبل ان کے ہاتھ نظم و ضبط کا سوال نامہ تھمانابھی ضروری ہوتا ہے۔
* الفاظ: کئی لوگ میتھ یا حساب کے خلاف بے میزانیہ برے الفاظ استعمال کرتے ہیں اصل میں حساب کا مضمون جسے سمجھ نہ آئے تو اس شخص کی آدھی پیشہ ورانہ خواہاشات پوری ہونے سے رہ جاتی ہیںیعنی اس کی زندگی کا ٹریک مڈل ہی سے ڈی ٹریک ہو جاتا ہے یعنی بارہ میں سے تین گئے تو رہے کیا خاک ....
* ستر: 70سطر اور ستر بالکل مختلف الفاظ ہیں لیکن ان کا آپس میں گہرا تعلق ہے اگر انسان ستر سال کا ہونے کے باوجود اپنی شرم و حیا کا دامن تار تار ہونے سے نہ بچا سکے تو اس بارے میں ’’بہترے ‘ ‘ کہتے ہیں کہ’’ ستر گز کی پگڑی اور سر ننگا‘‘
* سطر : چنانچہ ہمارے ایک سترسالہ لکھاری نے حالات سے مجبور ہو کر’’ سطر پوشی‘‘ شروع کر دی ہے۔
* حدود: اسلام آباد کی ’’حدود‘‘ سے کبھی بہت آرڈیننس نکلا کرتے تھے ...
* پانچویں انگلیاں: چوری، جوا، زنا، شراب اور جھوٹ ایک جیسے نہیں ہوتے پانچوں انگلیوں کی طرح لیکن گناہ کبیرہ میں شمار ہوتے ہیں اور ان سے ہاتھ کھینچے کے لئے خود ہی دو دو ہاتھ کرنا پڑتے ہیں
* چارہ :چار اور چارہ دو مختلف الفاظ ہیں مگر کئی لوگ اس کو مذکر مونث سمجھتے ہیں ۔انہیں میں سے ایک نے بکرے کے چارمغز چاٹ کر اسے چاروں شانے چت کر دیا بلکہ انگلیاں بھی چاٹ لیں
* فرض کرنا:حساب میں فرض کرناہر شاگرد کے لیے ضروری ہوتا ہے یعنی ایسی رقم بھی فرض کر لی جاتی جو ایک غریب کے ذمے فرض بھی نہیں ہو سکتی بلکہ کچھ عرصہ قبل لوگ شادی کے لیے گھر ہی میں پیسے رکھا کرتے تھے اب صرف ’’خیال‘‘ رکھتے ہیں کہ کوئی یہ پیسہ اچک ہی نہ لے ۔
* بتیس: 32دھاریں بخشوانا سب سے آ سان کام ہے۔ ماں اپنی اولاد کی ہر غلطی کے بھی پورے نمبر دے کر اسے پاس کر دیتی ہے ورنہ ماسٹر جی تو غلطی ہونے کے بعد بتیس دانت نکال کر بھی خوش نہیں ہوتے...
* اعداد: علم العداد کے حساب سے اسے حساب کی اب ج بھی نہیں آتی
* خاطر جمع رکھا: یہ الفاظ ایسے ہیں جیسے کوئی کسی جواری کو رقم ہارنے کے بعد دلاسہ دیتے ہوئے خاطر جمع رکھنے کا مشورہ دے یوں خاطرجمع ہونے کی بجائے منفی ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
* جواب:سوال کے آخر میں جواب ہوتا ہے کئی طالب علم اتنے مودب ہوتے ہیں کہ کبھی کسی بات کا جواب تک نہیں دیتے اگر استاد کو کسی سوال کا خود answer نکالنا پڑ جائے تو وہ ساتھ آنکھیں بھی نکالتا ہے کیونکہ جوابی وار بھی ضروری ہوتا ہے...
اسی موضع پر ایک پرانی بات مشہور ہے کہ ایک بچے نے اپنے استاد سے دریافت کیا استاد جی ہمارے اُردو کے ٹیچر اُردو میں بات کرتے ہیں اور انگریزی کے انگریزی میں ....آپ حساب کے ٹیچر ہو کر بے حسابی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ ٹیچر نے چار سو دیکھا اور غصے سے کہا: میرے ساتھ تین پانچ مت کرو فوراً نودو گیارہ ہو جاؤ ورنہ چار کے کاندھے پر چڑھا دوں گا...

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *