سلام ٹیچر

ایسا نہیں تھا کہ لوگ کام کرنا نہیں چاہتے تھے،afshan huma ایسا بھی نہیں تھا کہ لوگوں کو کام کرنا نہیں آتا تھا، بلکہ ماجرہ یہ تھا کہ کام صرف اس سے لیا جاتا تھا جو مال پیدا کرنا جانتا ہو یا اعلی افسران کہ مدح سرائی کرنا جانتا ہو۔ یہی المیہ تھا بہت سے شعبہ جات کا۔ کہیں پر سفارشی بھرتیاں تو کہیں رشتہ داری اور واقفیت کی بنیاد پر بندر بانٹ۔ یقین مانیے جب نومبر ۲۰۱۳ میں واپس علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں آئی تو سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیسے اور کیونکر ٹھیک ہو پائے گا۔ میں نے اس وقت ایک ڈائری لکھنا شروع کی اور سوچا کہ اپنے دل کا غبار ایسے ہی ہلکا کیا جائے۔ ہر کوئی مجھے سمجھاتا تھا کہ ملازمت تو آخر ملازمت ہی ہوتی ہے لہذا مجھے اپنے آپ کو خاموش رکھنا چاہئے اور سر پھینک کر اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے۔ میں نے بہت کوشش کی کہ خود کو منا لوں اور سر پھینک کر کام کروں لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہاں تو کام ہی سے روک دیا جاتا تھا۔ نیا کورس بنانا تو دور کی بات یہ تک اجازت نہ تھی کہ تدریس کے لیے اپنی قابلیت کے مطابق مضامین یا اپنی پسند کا موضوع بھی چنا جائے۔

خیر اللہ اللہ کر کے میں نے تقریبا" ایک سال کا عرصہ گزار لیا اور اکتوبر ۲۰۱۴ میں پروفیسر شاہد صدیقی نے علامہ اقبال کے نئے وائس چانسلر کی زمہ داری اٹھا لی۔ میں ڈاکٹر صاحب سے ۲۰۱۰ سے واقف تھی جب میں امریکہ میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی اور مجھے کسی نے ان کی تحریر اور مکالہ جات پڑھنے کے لیے کہا۔ میری ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ۲۰۱۲ کی گرمیوں میں ہوئی۔ اس روز لاہور میں ٹرانسپورٹ کی ہڑتال تھی اور ڈاکٹر صاحب بہت دور مجھے انٹرویو دینے چلے آئے۔ ان دنوں ذیادہ تر لوگ انٹرویو کا ٹائم دے کر بھی مجھے گھنٹوں انتظار کروانا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکی کہ پاکستان کی بیوروکریٹک علمی دنیا میں ایسا شخص کیسے جنما اورپروان چڑھا۔ اس ملاقات میں ڈاکٹرصاحب نے مجھے اپنا ناول آدھے ادھورے خواب دیا جو میں اس ارادے سے اسلامآباد لے آئی کہ مزید انتظار کی گھڑیاں اس کے سہارے گزر جایا کریں گی۔ میں نے چونکہ  صرف ایک رات اسلام آباد میں قیام کے بعد فیصل آباد چلے جانا تھا تو میری مرحومہ والدہ نے اس ایک رات کے اندر اندر وہ ناول مکمل پڑھ ڈالا اور مجھے کہا کہ جائو اب یہ کتاب تمہارے باقی سفر میں تمہاری ہمراہ رہے گی۔ میری والدہ ادب کی طالبہ رہیں اور پھر تدریس کے شعبہ سے ان کا خاص تعلق رہا۔ ان کے مطابق یہ ناول پاکستان میں لکھی گئی تصانیف میں ایک منفرد حیثیت کا حامل ہے اور ایسا صرف ایک استاد ہی لکھ سکتا اور دوسرا استاد ہی اسے محسوس کر سکتا ہے۔ اکتوبر ۲۰۱۴ میں جب ڈاکٹر صاحب نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی قیادت سنبھالی تو میری والدہ شدید بیمار تھیں۔ انہوں نے کہا اب تمہاری یونیورسٹی کا اچھا دور شروع ہوا چاہتا ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والے اساتذہ پاکستان میں بہت کم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مجھے یہ بھی نصیحت کی کہ ایسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہئے۔ ان کے اچھے ارادے تمہیں بھی صحیح جانب لے جائیں گے۔

میں حیران ہوں کہ پروفیسر صاحب نے تین سال کے قلیل عرصہ میں کیا کمال قیادت کی ہےاور کس طرح اس یونیورسٹی کا ماحول اور ساکھ بدل ڈالے ہیں۔ تین سال کے عرصہ میں ۱۵۰ سے زائد نشستیں جن میں ادبی، علمی، تحقیقی اور مشاعرے کی نشستیں بھی شامل ہیں، ۲۶ نئے پروگرام کا اجراء، ۱۴ تحقیقی مجلات، ۲۲ کانفرنسزاور لٹریچر کارنیوال؛ میرٹ پر تعیناتی؛ کوالٹی پر سختی؛ یہ سب ایک طرف اور فیکلٹی و دیگر ملازمین کے لیے ایک سازگار ماحول جس میں ہر شخص اپنی بہترین کارکردگی دکھا سکے۔ اور پھر بہتر کارکردگی پر سراہا جائے۔ جیل کے قیدی، پسماندہ علاقوں کی بچیاں، شہیدوں کے بچے، خصوصی افراد اور خواجہ سرائوں کی مفت تعلیم۔ ۴۴ ریجنل آفسز پر ایکسسبیلیٹی سینٹرز اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ملازمین کے لیے مفت تعلیم بالغاں کا مرکز۔ غرضیکہ تین سال کی قلیل مدت اورریفارمز کی ایک طویل فہرست ہے۔

اس بار ۵ اکتوبر کو ورلڈ ٹیچرز ڈے منانے کی زمہ داری میرے ڈیپارٹمنٹ کو سونپی گئی۔ ڈیپارٹمنَٹ آف ایجوکیژنل پلاننگ پالیسی سٹدیز اینڈ لیڈرشپ۔ اس زمہ داری کے ملتے ہی ہم نے ڈایپارٹمنٹل لیول پر میٹنگ کی اور کام تقسیم کر لیے۔ میں فخر سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ ڈاکتر صاحب کی قائدانہ صالحیت یقینا" ٹرانسفارمیشنل ہے۔ انہوں نے فالوئرز پیدا نہیں کیے، بلکہ لیڈرز کو گروم کیا ہے۔ میں یہ دیکھ کر خوش بھی تھی اور حیران بھی کہ ڈیپارٹمنٹ کا ہر شخص اپنے کام کو نہ صرف بہترین انداز میں کرنا چاہتا تھا بلکہ اس کے لیے زاتی وقت اور زرائع کے استعمال سے بھی دریغ نہ کرتا۔ میں نے لوگوں کو اس زوق و شوق سے کام کرتے دیکھا تو ایک بار پھر اپنی والدہ کی نصیحت یاد آ گئی۔ ڈاکٹر صاحب جیسے لوگوں کا ساتھ دینا چاہئے ان کے نیک ارادے ہمیں بھی صحیح راہ پر لے جاتے ہیں۔ اس تمام کہانی کا ایک اور بے حد خوبصورت کردار ہیں ڈاکٹر ناصر محمود جو کہ اس وقت ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن ہیں۔ ان کے بارے میں پھر کبھی تفصیل سے بات کریں گے۔ فی الحال صرف اتنا ہی کہ میں اس سال ورلڈ ٹیچرز ڈے پر مدعو تمام ماہرین تعلیم کا شکریہ بھی ادا کرتی ہوں، اپنے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں اور پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی کی قائدانہ صلاحیتوں کا ایک بار پھر خلوص دل سے اعتراف کرتی ہوں کہ انہوں نے اتنے بڑے ادارے کی باگ ڈور سنبھالتے ہی اس کو صحیح سمت میں موڑ دیا تھا۔ مجھ جیسے بہت سے لوگ ان سے روزانہ کچھ نیا سیکھتے ہیں۔ سلام ٹیچر

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *