ضیاشاہد کی تازہ قلمی کاوش کی جاپان میں رونمائی

قائداعظم اور ان کے رفقاء نے پاکستانimage1 کی بنیاددوقومی نظریے پر رکھی تھی۔قا ئد کی سو چ یہ تھی کہ بر صغیر میں ہندواور مسلما ن دو الگ الگ قو میتیں ہیں۔ بر صغیر میں بسنے والی مسلم آبا دی ایک ملت ہے ۔ قیا مِ پا کستا ن قا ئد اعظم کے نظر یے اور سو چ کی فتح کی علا مت ہے ۔ پا کستا ن کے خلا ف سا ز ش ضیا ء شا ہد کی تا زہ تحریر ہے ، اس کتا ب میں انہو ں نے مستند تا ریخی حوالو ں سے یہ ثا بت کیا ہے کہ ہمار ی سر زمین پر جو بھی قا بل ذکر سیا سی جما عتیں دو قو می نظریے اور قا ئد اعظم کی سو چ کی بجا ئے زبا ن ، رنگ نسل یا پھر جا ئے پیدائش کی
بنیا دپر قا ئم ہو ئی ہیں ، وہ با لا آخر پا کستا ن دشمنی پر منتنج ہو تی آئی ہیں ۔ جذبہ حب الوطنی میں ڈو بے مضا مین پر مشتمل یہ کتا ب ایک تا ریخی دستاویزکی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ’’پا کستان کے خلا ف سا زش ‘‘ کی جا پا ن میں بھی تقریب رونمائی کر وائی جا ئے ۔ اگرچہ پا کستان میں متعدد مقا ما ت اور نیو یا رک کے علا وہ لندن میں بھی اس کتاب کی تعا رفی تقاریب منعقد ہو چکی ہیں ، مگر دس ہزار تارکین وطن پا کستانیوں کی مو جو دگی کے سبب جا پا ن میں اس کی تقریب رونما ئی کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ اس پر وقار تقریب کے لیے تو یا ما کے دل ریستو ران کا انتخا ب کیا گیا ، جس نے محفل کامزہ دو آتشہ کر دیا ۔جگہ کے ا س
انتخا ب کی وجہ گر دو نواح میں بسنے والے پا کستا نیوں کی کثیر تعداد ہے ، ان کی اکثریت ری کنڈیشن گا ڑیو ں کے کا روبا ر سے وابستہ ہے ۔ نما زِ عصر کے بعد تقریب کا با قا عدہ آغا ز ہوا۔ روزنامہ خبریں کے بیو ر و چیف کی حثیت سے میں نے شرکا ء محفل کا شکریہ ادا کیا ، جو کہ چھٹی کے دن اپنی گھریلو اور نجی مصروفیا ت کو ترک کرکے اس تقریب میں اتنی بڑی تعداد میں شریک ہو ئے۔ علاوہ ازیں راقم نے خطبہ
استقبا لیہ کے علاوہ پا کستان کے خلاف سا زش کا مختصر تعا رف پیش کیا۔ علا مہ طا ہر حسین پہلے مقرر تھے، انہو ں نے بڑے بھر پور اور جذبا تی انداز میں ضیا ء شا ہد کو لسا نیت اور عصبیت کے خلاف قلم اٹھا نے اور دو قومی نظریے کو اجا گر کر نے پر خراج عقیدت پیش کیا۔ اگلے مقررسینئر پا کستا نی سماجی کار کن ایم اعجا ز بٹ نے اظہار خیا ل کر تے ہو ئے کہا کہ مدینہ کی ریا ست کے قیا م کے بعد پاکستا ن تا ریخ کا واحد ملک ہے ۔ جو اسلا م کے نام پر دو قو می نظریے کی بنیا د پر وجو د میں آیا ہے ۔ پا کستا ن کے خلا ف سا ز ش تحریرکرکے ضیاء شاہدنے پاکستان اور دوقومی نظریے کی زبردست خدمت کی ہے۔اس کتاب کی حیثیت ایک تاریخی دستاویز کی سی ہے۔حافظ عبدالواحدکا کہنا تھاکہ یہ کتاب ایک دردمندپاکستانی کے دل کی آوازہے،جس سے یہ جذبہ حب الوطنی چھلکتا ہے۔ضیاء شاہد کے دل میں پاکستان اور اسلام کی محبت بستی ہے۔
مقررین نے اظہارِخیال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سازش کر نے والے ان کر داروں پر بھی تفصیل سے گفتگو کی جن کو اس کتا ب میں مو ضو ع بنایا گیا ہے ۔ الطا ف حسین کے حالیہ بیا نا ت سے لیکر خدانی حدمت گا ر اور بلو چستا ن کے سرداروں پر بھی سیر
حا صل گفتگو کی گئی۔ زاہد شفیق بٹ نے اپنی گفتگو میں فرما یا کہ پا کستا ن اللہ تعالیٰ کے سر بستہ رازوں میں ایک راز ہے اور اللہ تعا لیٰ ہمیشہ اس کی حفا ظت کر ے گا ۔ پا کستا ن کے خلا ف سا زشیں کر نے والے ہمیشہ ناکام اور ذلیل و رسو ا ہو ں گے ۔ وطن عزیز کو نقصا ن پہنچا نے کی سا ز ش کر نے والے مکر وہ چہروں کو بے نقاب کر کے مصنف نے کلمہ جہاد بلند کیاہے ۔ مقررین نے اس پہلو پر بھی گفتگو کی کہ
سیا ستدانوں کا یہ سا زشی ٹو لہ چونکہ بہت خطرنا ک اور اخلا قی اعتبا ر سے پست لو گو ں پر مشتمل ہے اس لیے اللہ تعالیٰ ضیا ء شا ہد کو ان کے شر سے محفو ظ رکھے ۔ جو لو گ اپنی دھرتی کے خلا ف سا زش کر سکتے ہیں ، ان سے کچھ بھی بعید نہیں ہے۔ ظفر حنیف نے محرم الحرام کے ایا مِ عزاء کی نسبت سے کہا کہ ظلم کے خلاف مزاحمت کا راستہ اما م حسینؑ کا راستہ ہے ۔ اس بنیا د پر جہا ں ظلم وہا ں خبریں کا نعرہ مستانہ بلند کرکے ضیاء شاہد نے مظلوموں کی حمایت کا جو راستہ چناہے وہ انتہائی قا بل ستا ئش ہے اورپا کستان کے خلاف سا ز ش کی اشا عت ان کی اسی جدوجہد کا حصہ نظر آتی ہیں ۔خو رشید خان کا کہنا تھا کہ پا کستان کی یہ خو ش قسمتی ہے کہ اگر وطن کے خلا ف سا زشیں کر نے والے موجو د ہیں تو وہا ں ضیا ء شا ہد جیسے محب وطن سپو ت اور لکھا ری بھی موجود ہیں جو ان سا زشو ں کو ناکا م بنا نے میں اپنا بھر پو ر کردار ادا کر رہے ہیں ۔ اس تقریب کے انعقاد میں خبریں کے سا تھ راوی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل نے بھی اشتراک کیا تھا جو کہ علم و ادب کی ترویج اور صحت مند
انسا نی معا شرے کی تشکیل کے لیے عا لمی سطح پر سرگرم عمل ہے ۔ تقر یباً تما م مقررین نے اس پر وقار تقریب کو تا ریخی اور تا زہ ہوا کاجھونکا قرار دیا ۔ اگرچہ اردو زبان جا پا ن میں اجنبی نہیں ہے ۔آپ حیران ہو ں گے کہ اردو کی پہلی لغت جا پا ن میں 1796 ء یعنی دو صدیوں سے بھی پہلے تیا ر کر لی گئی تھی ۔ ٹو کیو یو نیورسٹی میں شعبہ اردو قیا م پا کستان سے کئی دہا ئیاں قبل قا ئم ہو چکا تھا، اگرچہ اس وقت اس کو ہندوستانی زبا ن کا شعبہ کہا جا تا تھا۔ غالب ، علا مہ اقبال سے لیکر فیض احمد فیض تک بہت سے شعراء کا مکمل کلا م اس شعبے نے جا پانی زبا ن میں ترجمہ کیا ہے ۔ اوسا کا یو نیورسٹی میں بھی اردو زبا ن کا شعبہ موجو د ہے اور بھر پو ر انداز میں اپنی خدما ت سرانجام دے رہا ہے ۔پچا س کے لگ بھگ جا پانی طلبہ و طا لبا ت یہاں اس وقت اردو سیکھ رہے ہیں ۔ سا ئتا ما شہر کی دائتوبنکا یو یورسٹی کے شعبہ اردو کا تذکر ہ نہ کر نا زیا دتی ہو گی ، اس تما م تر تفصیل کے با وجو د معیا ری ادبی اور صحا فتی تقا ریب یہا ں خال خال ہی منعقد ہو تی ہیں۔ اسی پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہو ئے مقررین نے اس تقریب کو جہا ں منفرد قرار دیا ، سا معین نے بھی اسے استثنیا ت میں گردانا ۔ علا مہ طاہر حسین پہلے مقرر تھے اور جس جذبا تی انداز میں انہو ں نے گفتگو کا آغا ز کیا اس نے آخر تک سا معین کو متوجہ رکھا۔ ان کاکہناتھاکہ پاکستان کے خلا ف سا ز ش جیسی کتا ب کی ہمیں اشد ضرورت تھی کیو نکہ ایک با ر پھر پاکستان کے خلاف سا ز ش کرنے والے عنا صر سر گرم عمل ہیں ۔ یہ بھی فرما یا کہ خبریں کی اشا عت سے پہلے پا کستانی صحافت حکمرانو ں کی خو شامد اور طبقہ اشرافیہ کی چا پلو سی پر منبی تھی ، خبریں نے اسے ظلم کے خلاف آواز بنا دیا ۔ ضیا ء شاہد نے اردو صحا فت کو ایک نئی جہت اور ولولہ انگیز لہجہ عطا کیا ہے ۔ تقریب رونما ئی کے اختتام پر عشا ئیے کا انتظام کیا گیا تھا۔ کھا نے کے دوران بھی شرکا محفل کا مو ضو ع گفتگو پا کستان کے خلاف سا ز ش اور ضیا ء شاہد کا جرا ت مند طرز تحریر تھا۔ پاکستان پر احسان کہنے سے جھجھک رہا ہو ں ، کیو نکہ ملک تو ماں کی طرح ہو تا ہے ۔ اور ما ں پر تو کو ئی بھی خدمت احسان نہیں ہوتی ، مگر پاکستان کے
خلا ف سا ز ش تحریر کر کے ضیا ء شا ہد نے دھر تی کے حقیقی سپو ت ہو نے کا ثبو ت ضرور دیا ہے۔ اس کتا ب کے مندرجا ت اور تقریب
رونما ئی میں اس تحریر کے متعلق لو گوں کا جو ش و خروش دیکھ کر یہ با ت یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ کتا ب تاریخ میں زندہ رہنے والی کتا بوں میں سے ایک ہوگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *