دلی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصور تھے

nasir malik final

حضرتِ غالبؔ نے بہت خوب کہا تھا ؛
لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھُلتا یعنی
ہوسِ سیرو تماشا سو وہ کم ہے ہم کو
ہمیں اگرچہ غالب ؔ جیسے صاحبِ کردار ہونے کا دعویٰ نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ تاشقند ( ازبکستان ) روانہ ہونے سے پہلے ،کم از کم ، ’ ہوسِ سیرو تماشا ‘ تو ہمیں بھی نہیں تھی۔اور جہاں تک ہمیں یاد پڑھتا ہے تاشقند اےئر پورٹ پر لینڈ کرنے تک ہماری کیفیّت یہی رہی ہے۔لیکن جیسے ہی ہم اےئر پورٹ سے باہرنکلے ، ٹیکسی میں بیٹھ کر شہر کی جانب روانہ ہوئے اور سڑکوں ، گلیوں سے گزرتے ہوئے پہلی دفعہ زنانِ ازبکستان پر ہماری نظر پڑی تو ہمیں ’ سیرو تماشا ‘ کے حوالے سے اپنی پالیسی کو" Revisit " کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔اب جب جناب غالب ؔ لکھنؤ تشریف لے گئے تھے تب نجانے وہاں کیا حالات تھے جو ان کے درج بالا خیالات کی وجہ بنے۔لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر ان کا چکر کہیں اس خطہ ارضی کی طرف ہوتا تو انہیں بھی ہمارا ہم خیال ہونا پڑتا۔
ہم تاشقند ائر پور ٹ پر اترے تو دوپہر کا عمل ہو گا ۔دو گھنٹے پہلے جب ہم لاہور سے چلے تو گرمی اور حبس سے دم گھٹ رہا تھالیکن یہاں جیسے ہی ائر پورٹ سے باہر آئے تو شدید سردی تھی باریک ٹھنڈی ہوا ہمارے ہاں دسمبر کی کسی ٹھٹھرتی یخ بستہ شام کی یاد دلا رہی تھی۔ ہم نے جلدی سے ٹیکسی پکڑی اور اپنے ہوٹل کی طرف بھاگے۔ ٹیکسی والے سے کرائے پہ بات ہوئی تو کھلا کہ یہاں ٹیکسی کے ذریعے شاید دنیا کا سستا ترین سفر ہوتا ہے۔ہم نے دیکھا کہ پچاس ساٹھ پاکستانی روپوں میں ٹیکسی سے آپ ایک معقول سفر کر سکتے ہیں ۔ اور اگر آپ پانچ سات سو روپے دے دیں تو گویا ٹیکسی آپ کی ہوئی ۔ تمام دن جہاں مرضی پھرا کئے ۔ہوٹل میں ذرا سستانے کے بعد سہ پہر ہم ذرا Orientation کے لیے سامنے کھلے پارک میں گئے یہاں ایک دفعہ پھر ہم نے حُسن انسانی کی ایسی جلترنگ دیکھی کہ ہمیں اس کا معترف ہونا پڑا۔نِکھرے نِکھرے ، دُھلے دُھلائے، بے حد حسین، دلآویز چہرے۔ اور ان پر کھلتی بے ساختہ مسکراہٹ ۔۔ ہمیں یہاں میرؔ بے طرح یاد آئے ۔ انہیں بھی شاید دلی میں ایسی ہی صورتحال درپیش تھی جب انہوں نے کہا تھا :
دلی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
چہروں کی یہ بناوٹ، ایسی تراش خراش صرف اس خطّہ ارض کے لئے مخصوص ہے۔ذاتی طور پر ہمیں نظر باز ‘ ٹائیپ حضرات کبھی پسند نہیں آئے، اور ان کا یہ قبیح فعل ہمارے ذوق پر ہمیشہ گراں گزرا ہے! لیکن یہاں ہم نے محسوس کیا کہ حُسنِ انساں سے جبری بے اعتنائی پر مبنی ہمارے فرسودہ خیالات سے ہمیں رجوع کرنا چاہیے۔
بیرون ملک دورانِ سیر کسی گائیڈ کی خدمات لینا ہمارے نزدیک کباب میں ہڈی کی مانند ہے۔ہم اسے غیر ضروری ، بے مقصد اور وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ موجودہ معلومات کے دور میں تو اس کی افادیت اور بھی کم ہو گئی ہے۔مزید براں فطری حُسن سے لبریز کوئی منظر ہو، کسی فنکار کا کوئی لافانی شاہکار ہو یا کسی معمار کی محنت ، لگن اور شوق کا نمونہ ۔۔اکثر گائیڈ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے مصنوعی انداز سے اس کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔ اک ریکارڈڈ ٹیپ سی چل رہی ہوتی ہے اور بس ! یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کیٹس ،، شیلے کی نظمیں یا مثنوی روم کسی انا ڑی استاد کے ہاتھ میں دیں اور کہیں کہ وہ اس کی تشریح کرے۔تسلیم کہ بعض جگہوں پہ ان کی راہنمائی بہتر رہتی ہے ۔ لیکن اکثر اوقات یہ مزا کرکرا اور منزل کھوٹی کرتے نظر آتے ہیں۔اس لیے ہم ہمیشہ ان گمراہ کُن گائیڈز سے دور ہی بھاگتے رہے ہیں۔چنانچہ احرامِ مصر ہوں ، ترکی کا توپ کاپی میوزیم ہو یا سمرقند کے مشہورِ زمانہ مدارس ہوں یا مقبرے ہم نے انٹر نیٹ سے تھوڑی خبر گیری کے بعد خود انہیں دیکھا پرکھا اور زیادہ لطف پایا۔ورڈز ورتھ نے کہا تھا ، ’’کسی بہاری جنگل کی ایک جھلک آپ کو کئی دانشوروں سے زیادہ اور بہتر سکھا سکتی ہے۔‘‘ ٹورسٹ گائیڈ کے بارے اس تمہید کا مقصد یہ ہے کہ ہوٹل میں رات گزارنے کے بعد تاشقند میں ہماری پہلی صبح جب ہم ہوٹل سے باہر آئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک گروپ کے پاس ایک خاتون گائیڈ کھڑی انہیں کچھ بتا رہی تھی۔گائیڈ ازبکستان کی تاریخ اور یہاں موجود فن تعمیر کی شاہکار عمارتوں پہ بات کر رہی تھی۔ہم نے حسبِ معمول بے اعتنائی سے گزرنا چاہا لیکن پھر ہماری نظر گائیڈ پر پڑی تو ہم رک گئے۔ پہلی نظر میں ہمیں موصوفہ خود بھی قدرت کا ایک شاہکار لگیں !! غضب کی حسین اور انتہائی پر کشش۔۔ فوری طور پر ہم نے گائیڈز کے بارے میں اپنے متذکرہ بالا واہیات فلسفے پر تین حرف بھیجے اور تھوڑی کوشش سے اس خوش قسمت گروپ میں شامل ہو گئے۔ یہ ایک مختلف گائیڈ تھیں۔ موصوفہ کو تاریخ پہ بلا کا عبور حاصل تھا۔وہ اپنے کام کو بھر پور انجوائے کر رہی تھی۔ازبک قوم کا زکر آتا تو اس کی گفتگو میں عجیب سرشاری آ جاتی۔اور خصوصاً امیر تیمور پر بات ہوتی تو اس کے چہرے پہ چمک اور لہجے میں تمکنت اور رُعب در آتا۔وہ ازبک لہجے میں گندھی ہوئی لیکن شُستہ انگلش بول رہی تھی۔یقیناً کچھ لوگ ایسے تھے جو اس کو غور سے سُن بھی رہے تھے ! گروپ میں موجود گوری خواتین اور بوڑھے انگریز پورا مُنہ اور آنکھیں کھولے بڑھے انہماک سے اس کی گفتگو سننے میں مگن تھے۔لیکن نسبتاً جوان طبقے نے صرف دیکھنے پر اکتفا کیا تھا۔محترمہ بتا رہی تھی کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ امیر تیمور نے افغانیوں کے ساتھ کیا کیا۔پھر اس نے وہ مظالم بتانے شروع کیے۔ ہمیں سرِدست اس سے غرض نہیں تھی کہ تیمور نے افغانیوں سے کیا کیا ،ہمارے خیال میں وہ حرافہ اپنی اداوں سے جو یہاں کر رہی تھی وہ تیمور کے مظالم سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔
تاشقند میں سڑکوں کی کشادگی ، صفائی اور ٹریفک کی روانی دیکھ کر ہم پریشان ہو گئے۔سڑکوں پر احترامِ آدمیت اس سے زیادہ پریشان کن تھا۔پیدل چلنے والوں کا پاؤں زیبرا کراسنگ پر آیا اور ادھر پچاس گز دور ہی گاڑیاں رک جاتی ہیں۔ سچی بات ہے ایسی روکھی پھیکی اور بے خطر ٹریفک کا ہمیں بالکل مزا نہیں آیا۔ہمیں تو وطن عزیز یاد آتا رہا جہاں روڑ کراسنگ کے دوران پیدل چلنے والوں اور گاڑی والوں کے بیچ ’ لکن میٹی ‘ اور ’پکڑن پکڑائی ‘ کھیلی جاتی ہے اور اک رونق سی لگی رہتی ہے۔

 

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *