کشکول توڑنا ہے تو ٹیکس بیس کو بڑھانا ہوگا، آرمی چیف

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ملک میں ترقی تو ہورہی ہے لیکن قرضے بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے بہتر ہوئے لیکن تجارتی خسارہ موافق نہیں۔اکستان کے لیے یہ سب سے بہتر وقت ہے کہ وہ معاشی پیداوار اور استحکام کو اپنی اولین ترجیح رکھے۔
کراچی میں معیشت اور سلامتی پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہماری ٹیکس اور جی ٹی پی شرح بہت کم ہے، اگر ہمیں کشکول توڑنا ہے تو اس میں تبدیلی لانا ہوگی۔
آرمی چیف نے کہا کہ ’پاکستان کے مشرق پر حریف ملک انڈیا ہے اور مغرب کی جانب غیر مستحکم افغانستان ہے۔ یہ خطہ تاریخی مسائل اور منفی مسابقت میں ہی الجھا رہا ہے۔ یہ خطہ ایک ساتھ ہی تیر یا ڈوب سکتا ہے، اور ایسا ہی دنیا بھر میں ہوتا ہے۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے باتے کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک پاکستانی عوام کا مستقبل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’سی پیک ہمارا اہم قومی مفاد میں ہے اس پر مخالف آوازوں میں شدت کے باوجود کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *