روپے پر عدم اعتماد: لوگ ڈالر خرید رہے ہیں

محی الدین اعظمrupee and dollar

بینکوں میں کم ڈپوزٹ ریٹ کی وجہ سے ڈپوزیٹرز کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں  جس کی بنیادی وجہ کرنسی کے بارے میں حکومت کا تذبذب کا شکار ہونا ہے۔ ساتھ ہی انفلیشن میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو ڈپوزٹ ریٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ اس سال اگست تک اوسط سالانہ ڈپوزٹ  ریٹ میں نمایاں کمی ہوئی اور یہ 3اعشاریہ 30 فیصد سے کم ہو کر 3 اعشاریہ 02 تک پہنچ گئی۔ اگر آپ اس کو ریٹرن ریٹ جو 3 اعشاریہ 4 فیصد تھا کا موازنہ ڈپوزٹ کے ساتھ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ڈپوزٹ ریٹ پہلے ہی بہت گر چکا ہے۔ یہ ہماری معیشت کےلیے اچھی خبر نہیں ہے۔ بینک سے بڑے قرض لینے والے  لوگ اب سستے لان حاصل کر رہے ہیں کیونکہ منی مارکیٹ  بینکوں کی طرف سے حکومت کو قرضے دینے کے باوجد لیکوئڈ ہے جو کہ معیشت کے لیے اچھی خبر ہے۔ رواں سال جولائی سے ستمبر کےدوران بینک کی طرف سے پرائیویٹ اداروں کےلون  کی اوسط منفی 92 بلین ڈالر تھی جب کہ پچھلے سال یہ تعداد 296 بلین تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے  رواںمالی سال کے پہلے کوارٹر میں بڑھتے ہوئے کریڈٹ ریٹائرمنٹ کی وجہ سے گراس لینڈنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دوسری طرف جولائی سے ستمبر کے دوران مرکزی حکومت کو قرضے  کی تعداد بڑھ کر 215 بلین روپے تک پہنچ چکی ہے۔ چونکہ سیاسی غیر یقینی صورتحال  ہے جس کی وجہ الیکشن کی آمد ہے اس لیے سٹاک مارکیٹ نروس ہے اور انڈیکس کی ویلیو کم ہو رہی ہے اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں خریداری کم اور فروخت زیادہ کی جائے۔ کراچی کی کنسٹرکشن انڈسٹری کےنئے قواعد و ضوابط کے متعارف کروائے جانے کے بعد پاکنگ فندز کی بھی زیادہ امید نہیں رکھی جا سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ رقم کے مالکان اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کو زیادہ ترجیح دینے  لگے ہیں۔ 5 جولائی کو ایس بی پی نے روپے کی قیمت کو اضافی قیمت سے گھٹا کر اصل قیمت پر لانے کا قدم اٹھایا۔ لیکن حکومت نے مداخلت کر کے سینٹرل بینک کو روپے کی سابقہ قیمت بحال کرنے پر مجبور کیا۔

عوام کی طرف سے ڈالر کی خریداری کو اہمیت دینے کی روش سے معلوم ہوتا ہے کہ فاریکس مارکیٹ کے کسی شعبہ میں ایکسچینج ریٹ  میں رد و بدل کےامکانا ت ہیں۔ جولائی سے اب تک روپے کی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں نصف فیصد کمی آئی ہے۔ چاہے لوکل کرنسی کی ویلیو میں  بتدریج کمی دیکھنے کو ملے لیکن فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ پچھلے کوارٹر کے  مقابلے میں  اس کی قیمت میں تبدیلی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ شاہد خاقان عباسی نے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ روپے کی قیمت گرانے کا کوئی فیصلہ زیر غور نہیں ہے۔ اس دوران پاکستان کی فاریکس ریزرو کم ہو کر 21 اعشاریہ 4 سے 19 اعشاریہ 7 بلین ڈالر تک محدود ہو گئی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ بھی بڑھ کر 2 اعشاریہ 6 بلین ڈالر  تک پہنچ چکا ہے۔ سٹیٹ بینک  ذرائع کے مطابق اگر جولائی سے ستمبر تک کے کرنٹ اکاونٹ خسارہ میں اضافہ ہوتا ہے  اور پے منٹ سر پلس بیلنس میں کمی آتی ہے تو ایکسچینج ریٹ  کم ہو کر دباو کا شکار ہو گا  اور حکومت کو بھی  اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *