نابالغ بیوی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں ایک غیر معمولی فیصلہ

انڈیا کی سپریم کورٹ نے بدھ کو نابالغ بیوی کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں ایک غیر معمولی فیصلہ سنایا ہے۔

سرکاری خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ 18 سال سے کم عمر بیوی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرنا جرم ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ اسے ریپ تسلیم کیا جائے گا۔

عدالت کے مطابق نابالغ بیوی ایک سال کے دوران اس کے خلاف شکایت درج کرا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ ریپ کے متعلق انڈین پینل کوڈ یعنی تعزیرات ہند کی دفعہ 375 میں ایک استثنی ہے جس کے مطابق میریٹل ریپ کو جرم نہیں کہا گیا ہے۔ لیکن اب 18 سال سے کم عمر کے معاملے میں یہ استثنی نہیں رہا۔

یعنی اگر شوہر اپنی نابالغ بیوی کی مرضی کے بغیر اس سے جسمانی تعلق قائم کرتا ہے تو یہ جرم ہے۔

واضح رہے کہ انڈیا میں بالغ قرار دیے جانے کی عمر 18 رکھی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس میں کمی نہیں کی جا سکتی۔

چند دن قبل ہی نریندر مودی کی مرکزی حکومت نے ایک دوسرے معاملے میں کہا تھا کہ اسے جرم کے زمرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔

دہلی ہائی کورٹ میں مرکزی حکومت نے یہ دلیل پیش کی تھی کہ اسے جرم میں شمار کرنے سے 'شادی کا نظام' غیر مستحکم ہو جائے گا اور 'یہ شوہروں کو پریشان کرنے کا ایک نیا حربہ بن جائے گا۔'

سوشل میڈیا میں بھی اس پر مباحثہ جاری ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یہ جرم ہے تو پھر 18 سال سے کم عمر کی شادی پر ہی پابندی لگا دی جانی چاہیے جبکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کم عمری کی شادی پر پابندی کے حوالے سے اہم قدم ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *