ارکان پارلیمنٹ کیخلاف آئی بی کے جعلی خط میں 6 بڑی غلطیاں

ib letter فونٹ سائز اور اسٹائل نے انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ساتھ منسوب کیے جانے والے خط، جس میں 37؍ ارکان پارلیمنٹ کے کالعدم جماعتوں کے ساتھ رابطوں کا ذکر کیا گیا تھا، کے جعلی ہونے کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ اگرچہ خط پھیلانے والوں کا اب بھی اصرار ہے کہ یہ خط اصل ہے، لیکن اپنے دفاع میں انٹیلی جنس بیورو نے وزیراعظم کو پیش کی جانے والی وضاحت میں ان 6؍ بڑی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے جس سے یہ واضح طور پر ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ خط ادارے سے باہر کسی شخص نے لکھا ہے تاکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پھیلایا جا سکے۔

آئی بی کے رد عمل کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی کے فلور پر اس خط کو جعلی قرار دیا۔ ملک کی سیاسی قیادت کے ساتھ کیے جانے والے رابطوں میں آئی بی نے ان غلطیوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں دیکھ کر بلا شکوک و شبہات یہ کہا جا سکتا ہے کہ خط جعلی ہے۔ پہلی غلطی یہ ہے کہ متنازع خط اُس فانٹ اسٹائل میں لکھا گیا ہے جو آئی بی استعمال نہیں کرتا۔ آئی بی اپنی تمام تر دستاویزات میں ’’ٹائمز نیو رومن‘‘ فانٹ استعمال کرتا ہے۔ آئی بی کی اصل دستاویزات میں فانٹ کا سائز بھی متنازع خط کے مقابلے میں مختلف ہے۔ جعلی خط کی دوسری غلطی یہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل نے یہ متنازع خط براہِ راست اپنے ماتحت کو لکھا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے اپنے ماتحت افسران سے کی جانے والی سرکاری خط و کتابت میں اُن کے خطوط مجاز اتھارٹی کی اجازت سے ان کا اسٹاف افسر تحریر کرتا ہے یا پھر متعلقہ سیکشن افسر۔

بیوروکریسی کے پروٹوکول کی معلومات رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ جانتا ہے کہ ادارے کا سربراہ براہِ راست اپنے ماتحت ملازمین کو خط نہیں لکھتا۔ لہٰذا، دستاویز میں نظر آنے والے دستخط بظاہر کسی اصل دستاویز سے چرائے گئے ہیں اور کمپیوٹر پر فوٹوشاپ سافٹ ویئر کی مدد سے اسے جعلی دستاویز پر چسپاں کیا گیا ہے۔ دستخط کے درست ہونے کا پتہ صرف اسی صورت لگایا جا سکتا ہے جب اس متنازع خط کی اصل کاپی دستیاب ہو۔ تیسری غلطی یہ ہے کہ حساس رپورٹ کیلئے آئی بی جو الفاظ استعمال کرتا ہے وہ ’’سیکریٹ‘‘ یا پھر ’’ٹاپ سیکریٹ‘‘ ہیں، لیکن متنازع خط میں ’’کانفیڈنشل‘‘ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ادارے کی جانب سے ’’کانفیڈنشل‘‘ کا استعمال کم حساس نوعیت کی دستاویزات کیلئے کیا جاتا ہے۔

چوتھی غلطی یہ ہے کہ مکتوب الیہ (جسے مخاطب کیا گیا ہے) یعنی جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹرنل کیلئے جو طرز اختیار کیا گیا ہے وہ آئی بی میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ استعمال کیے جانے والے طرز میں جے ڈی جی (آئی) یا پھر جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل انٹرنل ونگ، آئی بی ایچ کیو، شامل ہیں۔ پانچویں غلطی یہ ہے کہ متنازع خط میں اپنڈکس ون (Appendix-1) جیسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ اپنی خط و کتابت میں آئی بی منسلک کی جانے والی اضافی دستاویزات کیلئے (Appendix-1) جیسے الفاظ کی بجائے Encl. (انکلوژر کا مخفف) کا استعمال کرتا ہے۔ چھٹی واضح غلطی یہ ہے کہ جعلی خط میں بحوالہ میں استعمال کیے گئے نمبر کا جو طرز (پیٹرن) استعمال کیا گیا ہے (DG Int/2017/192) وہ آئی بی کے ہیڈکوارٹرز کے ریکارڈ میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ داخلی تحقیقات کے نتیجے میں معلوم ہوا ہے کہ آئی بی کے ہیڈکوارٹرز کے ریکارڈ میں اس طرح کا کوئی حوالہ نمبر موجود نہیں ہے۔

اے آر وائی کی جانب سے دو ہفتے قبل دکھائے جانے والے اس خط کی وجہ سے پارلیمنٹ حتیٰ کہ حکمران جماعت کی صفوں میں طوفان برپا ہوگیا ہے، ارکان پارلیمنٹ نے احتجاجاً ایوان سے واک آئوٹ کیا۔ بین الصوبائی رابطے کے وزیر ریاض پیرزادہ ان ارکان میں شامل تھے جنہوں نے احتجاج کیا۔ وزیراعظم عباسی نے پیر کے روز پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ یہ جعلی خط ہے اور اس سے پارلیمنٹ کی توہین ہوئی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’’جیسا کہ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے میں نے اُس طرح کی کسی تحقیقات کا حکم نہیں دیا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے انٹیلی جنس بیورو کو ہدایت دی ہے کہ جس نے بھی یہ جعلی بنایا ہے اس کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *