میں پاکستانی پاسپورٹ کے ساتھ بیس ممالک کا ویزہ لینے میں کامیاب ہوئی

pp1 انعم حکیم

میں کچھ دن قبل 30 سال کی ہو چکی ہوں اور ان تیس سالوں میں میں نے انٹرنیٹ سے ہر معاملے میں مدد لی ہے۔ آج میں اپنے قارئین کے ساتھ اپنے مختلف ممالک کے سفر کی روداد بیان کروں گی  اور اپنی زندگی کی کامیابی کے راز پر بھی بات کروں گی۔ میں نے پچھلے 4 سال میں دنیا کے بیس مختلف ممالک کی سیر کی ہے۔ جس کی تفصیلات سے میں پاکستانی سیاحت کے شوقین شہریوں کو آگاہ رکھنا چاہتی ہوں۔ میں  نی مڈل کلاس میں پرورش  پائی۔ مجھے ابو نے مجھے کبھی   شرٹس اور جینز پہن کر دوستوں کے ساتھ گھومنے کی اجازت نہیں  دی  ۔ مجھے آس پاس کے علا قے میں بھی گاڑی چلانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔  لیکن میرے چھوٹے بھائی کو ان سب چیزوں کی اجازت تھی۔ یہ بات کی لڑکے یہ سب  کر سکتے ہیں لڑکیاں نہیں   مجھے ہضم نہیں ہوتی تھی۔  نہ انصافی کی وجہ سی میں ایک باغی  بن گئی تھی اور اپنی لیے کچھ کرنے کی خواہش مند رہتی تھی۔   ایسی فیملی جہاں عورتوں کو کبھی ڈاکٹر ،  ٹیچر اور گھریلو   عورت   بننے کے علاوہ کچھ بننے کی اجازت نہیں وہاں سے  باہر میں نے اپنے لیے غیر ملکی رول ماڈل تلاش کیا۔   میری فیملی میں (میرے ابو  کے علاوہ  جو انڈیا اپنے رشتے داروں سے ملنے گیے تھے)

کوئی  کبھی باہر نہیں گیا ۔ میرا پسندیدا شو "مسافر ہوں یارو " سٹار پلس پر لگتا تھا۔ مجھے اس شو کا تھیم اور دیپیکا بھٹناگر کا ہر ہفتے    دنیاکےدوردراز pp15 علاقوں میں جانا کھانا، رہنا، سونا بہت پسند تھا۔

1999/2000 کی بات ہے، جب فیس بک پر انسٹاگرام کی سہولت نہیں تھی   جس وجہ سے  اس شو سے مجھے کوئی  'ہیش ٹیگ ٹریول گول'نہیں ملا۔پر  یہ  بات مجھے نہیں روک پائی۔ میں کچھ بڑا کرنا چاھتی تھی۔ اور میرے خیال سے یہ ہی طریقہ تھا خود کی اہمیت ثابت کرنے کا۔  2012 میں، میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی۔  اور ایک ایڈ ایجنسی میں کاپی رائٹر تھی ، تب میرا MBA ایک ماہ میں پورا ہونے والا تھا۔ اور تب تک میں  نےکبھی پاکستان سے باہر  کا سفر نہیں کیا تھا۔   میری زندگی بدل گئی جب مجھے پتہ چلا کہ بین الاقوامی ریٹیل پر کورس کے لیے ایک سٹوڈنٹس کا گروپ کالج اساتذہ کے ساتھ دبئی جا رہا ہے۔  میں اس کورس کی سٹوڈنٹ نہیں تھی   لیکن کچھ اساتذہ میرے اساتذہ بھی  رہ چکے تھے اور کچھ دوست بھی اس کورس کے شاگرد  تھے۔ میرے دوستوں نے مجھے منایا کے ہم جائیں گے اور خوب مزہ کریں گے۔

مزہ؟ میں نے دوبارہ سوچا، ابو نہیں مانیں گے۔میں اداس اور غصہ تھی  کہ میرے لیے یہ سب فن نہیں ہے۔  پھر سوچا 5 دن ماں باپ کی روک ٹوک نہ کوئی اجازت نامے کی ضرورت ۔ جینز پہن کر خوب آزادی ۔۔۔۔۔۔ یہ خواب تھا جو سچ ہوسکتا تھا!  

جو کچھ میں نے ایڈ ایجنسی سے سیکھا تھا میں نے اس کا فائدہ اٹھایا اور اس ٹرپ کو محفوظ، سنجیدہ، سخت نگرانوں کی سربراہی  میں  بڑا  اہم   ہونے کا یقین دلا کر ابو سے  اجازت مانگنے کا فیصلہ کیا۔  ان کو لگا اس دفعہ کورس سے متعلقہ ٹور ہے تو نہ نہیں کرنا چاہیے۔  فیکلٹی ممبرز ساتھ ہوں گے اور ایک دوست جسے میرے والدین بہت اچھی طرح جانتے ہیں اس کو بھی اجازت مل گئی تھیpp2   تو وہ مان گئے۔  مجھے یقین نہیں آرہا تھا، "کبھی پوچھنے سے نہ ڈرو چاہے جو بھی جواب ہو"۔ اس وقت کمائی اتنی نہیں تھی اور MBA کا خرچ  اور باقی ذاتی اخراجات بھی دیکھتے ہوئے  میں نے بہت کم بجٹ پر اس ٹرپ کا پلان بنایا۔  میں نے صرف  فلافلز اور کنگ برگر کھانے پر اکتفا کیا تاکہ میں برج خلیفہ جانے کے لیے پیسے بچا سکوں۔  میں نے مکمل ٹور  ، ٹکٹ، ویزہ، سٹے اور فیملی کے لیے چاکولیٹ خریدنے تک کا خرچ 600$ میں پورا کیا۔  میں جینز میں  صبح کے 3 بجے سڑکوں پر گھومی اور  مجھے اندازہ ہوا کہ میں انسانیت کے ناطے اپنی خوشی اور حق کی خاطر   جب اور جہاں مرضی جا سکتی ہوں سانس لے سکتی ہوں۔

  بہت سی خواتیں  گھریلو  اصولوں کو مان کر  بہت خوشگوار زندگی کزارتی ہیں لیکن میں ان میں سے نہیں تھی۔  لیکن میں پہلی بار  اپنی مرضی سے   گھوم پھر رہی تھی ۔  مجھے   جان پہچان اور مشہور لوگوں سے دور رہنا اور سفر کرنا  پسند ہے۔  pp5ایئر پورٹ پر کھڑی میں یہ ہی سوچ  رہی تھی اور   ان لوگوں پر رشک کر رہی تھی کہ یہ کہاں آ جا رہے ہیں اور یہ سب بہت متاثر کن تھا  جب میں نے ایئر پورٹ سے باہر قدم رکھا مجھے  یقین اور توقع تھی کہ  میں جو کچھ دیکھوں اور محسوس کروں گی  وہ بہت پر تجسس اور بہت مزیدار ہو گا ۔ اس سب نے مجھے بلکل بدل دیا۔ بغیر مقصد سڑکوں پر گھومنا، ہر موڑ پر نئی چیز  دیکھنا   کیا اس احساس اور خوشی کا کوئی نام ہے۔  سفر کی دیمک مجھے چاٹ رہی تھی ، میری سفر کی خواہشpp19  بڑھتی جا رہی تھی۔   میں نے جانے سے پہلے ہی نئے سفر کا پروگرام  بنا لیا جس کی اجازت یونیورسٹی  ٹور نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ملی۔  بد قسمتی سے اگلے دو سال  ، میں اس پدرانہ ثقافت اور عورتوں پر روک ٹوک کے صدقے کسی نئے سفر سے محروم رہی ۔ شکر ہے اس سوچ کا کہ اکیلی لڑکی اکیلے سفر کرے گی لوگ کیا کہیں گے؟؟؟؟؟مجھے اس جنس پرستی سے نفرت ہے۔ میں اپنے سفر کے پروگرام کاغذ pp5پر لکھتی  اور سوچتی  تھی کی ایک دن میں یہ سفر کروں گی۔

2013 مجھے   CNN پر   ٹوکیو ، انتھنی بورڈین  کاٹریول شو"پارٹس ان ون" دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔ بہت عرصے بعد ایسے ٹریول شو کا اتفاق ہوا جس میں میزبان نے مجھ پر گہرا اثر کیا۔ اس سے پہلے "مسافر ہوں یارو" نے ایسا تاثر پیدا کیا تھا۔  اس قسطpp3 نے مجھ میں سفر کی آگ پھر سے جلا دی  اور میں چلا اٹھی کہ مجھے سفر پر جانا ہے۔  دبئی کی آزاد اور خوشگوار ٹرپ کا احساس  تازہ ہو گیا اور آزاد ی کا  مزہ چکھنے کے بعد واپسی  نا ممکن تھی۔ میں اور زیادہ باغی  ہو گئی اور  ایک سال بعد  والدین کے ساتھ تلخ کلامی   پر میں نے  گھر چھوڑدیا  اور میرے پاس پچھلے دو سال کی جمع شدہ رقم تھی  جو اسی دن کے استعمال کے لیے بچائی تھی۔  27 سال  کی  عمر میں  میں نے ایک دوست کے ذریعے اٹلانٹا جیورجیاء میں ہونے والے  دنیا کے بڑے الیکٹرونک بینڈ   فیسٹیول  "ٹومارو لینڈ" کے بارے میں جانا۔  میں نے  اس لیے امریکہ کے ویزہ کے لیے اپلائی کیا۔  ایمبیسی والوں نے  سفر کرنے کی وجوہات پر بہت سوالات پوچھے۔  میں نے انہیں  اپنی سالگراہ پر ٹومارو لینڈ  فیسٹیول  میں شمولیت کے پلان سے آگاہ  کیا۔  فیسٹیول کی تفصیلات بتانے پر  وہ حیران ہوئے  کہ کسی پاکستانی کو الیکٹرک بینڈ کا اتنا پتہ ہے۔ بہت خوشگوار انٹرویو  میں میری جاب کی تفصیلات پر بھی سوال پوچھے گئے جن کا جواب میں نے بڑے اعتماد سے دیا۔ پتہ نہیں یہ خوش قسمتی تھی کہ میرے  کاغذات  مکمل تھے مجھے ویزہ مل گیا۔  جس خاتون نے میرا انٹر ویو کیا تھا اس نے بتایا کہ اس نے بہت سے لوگوں کو اس فیسٹیول کے لیے اپلائی کرتے دیکھا پر کسی خاتون کو نہیں۔  یہ میرے لیےبہت پر تجسس اور  فتح پانےpp9 جیسا تھا۔  2014 میں یہ کیلیفورنیا سے ویگاس پھر ٹیکسس اور ایٹلانٹا کے بعد نیویارک کا  ٹرپ تین ہفتوں پر مشتمل تھا  جب میں واپس آئی تو میں پہلے سے ہی دوسرے ٹرپ کے لیے تیار تھی۔  اب اجازت کے مسائل نہیں تھے کیونکہ  اب میرے والدین جانتے تھے کہ وہ مجھے نہیں روک سکتے۔pp8وہ  مجھ پر غصہ تھے لیکن بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ 2015 کے شروع میں دس دن کے لیے ساؤتھ ایسٹ  ایشیاء  گئی۔   اکیلے سفر  سے کبھی کبھی  فن اور گیمز میں مزہ نہیں آتا میں دل برداشتہ تھی  پھر میں نے سوچا صرف میں اپنی خوشی  جانتی ہوں اور میں نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کا سفر کیا  لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا جتنا میں سوچ رہی تھی۔   میں تنہا تھی ڈر بھی رہی تھی اور اداسی پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھی۔  میں نے دل لگانے کے لیے مووی دیکھی، خوب گھومی، بیچ پر گئی ، ڈنر کیے  پر تنہائی سے ڈر نہ بھاگا اور دوسروں سے بھی خطرہ محسوس ہوتا تھا۔   مجھے ڈاکے یا عزت لٹنے کا خطرہ بھی تھا  لیکن خود کو  با ہمت اور نڈر بنایا اور اپنےخوف پر قابو پانا سیکھا۔ کچھ بے وقوفی نہ ہو جا ئے  ،  میں اپنی عمر سے کم دکھتی ہوں   ، کم سن انڈین یا میکسیکن لڑکی لگتی ہوں یہ سب  میرے حق میں ٹھیک نہیں تھا۔ اور جوان بچے کو لوٹنا آسان تھا اس لیے میں  سفر کے دوران اپنا حلیہ ایسا بناتی کہ بڑی عمر کی سمجھدار خاتون لگوں۔  ساؤتھ ایشیا کے بعد میں اپنے سفر کا رخ  بلکل بدلنا چاہتی تھی۔مجھے  تاریخ، تصنع، ثقافت اور  سب سے زیادہ تعمیراتی عجائبات سے لگاؤ ہوا۔   بیلجیم میں ٹومارو لینڈ بھی ایک بار پھر  ہونے والا تھا  میں اس بارے میں  پرجوش نہیں تھی  اس لیے میں نے  پیرس اور برسلز، ایمسٹر ڈیم  اور ترکی جانے کا سوچا۔  مین زیادہ شہر دیکھنا چاہتی تھی  اور ویزہ   12 دن مین ایکسپائیر ہونے والا تھا اس لیے میں نے  استنبول میں کچھ دن  گزارنے کا سوچا۔

یورپ کے بعد  مجھے پیسوں   کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2015 میں  میری شادی ہو گئی اور مجھے پیسوں  کی دشواری بھی نہیں رہی۔  ہنی مون کے لیے  ہم 9 دن کے لیے بالی اور کوالالمپور گئے۔ اس جنت کی سیر کا خرچ میرے شوہر نے کیا۔  2016 میں اپنی شادی کے 7 ماہ بعد مجھے افریقہ جانے کا جنون ہوا۔  تب تک پیسے بھی جمع کیے اور  کینیا، یوگانڈا، اورتنزانیہ  کا 3 ہفتوں کا پروگرام بنایا۔

افریقہ کے بعد میں تھوڑے عرصے کے لیے دبئی گئی اور دوستوں کے ساتھ ایک بڑی   تقریب  میں شرکت کی ۔  اس تقریب کی ٹکٹ میرے شوہر نے میری سالگرہ کے تحفہ کے طور پر دی۔  اور قریب ہی 2017 میں  یورپ کا پروگرام بنایا   تاکہ امسٹر ڈیم میں ' سنسیشنل ایونٹ ' میں جا سکیں۔  اس دفعہ ہم نے  3 ہفتوں میں ساری اندیکھیے یورپ کے شہر  دیکھنے کا پروگرام بنایا۔ اٹلی سے شہر زیورک، سالزبرگ، ویونا، براٹس لاوا، بدھاپسٹ، امسٹرڈیم، pp6رعتھنبرگ، جرمنی  اور آخر کار پریگ  پر  ٹور ختم کیا۔

اس طرح   سے آج تک 2014میں خوب گھومی  اور 30 سے زائد شہر دیکھے۔ جب بھی میں پروگرام بناتی تھی ایک نئی جگہ دیکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ زیادہ تر میں 4،5 دن ہی ایک شہر میں رکا کرتی تھی۔  اس  سے مجھے بہت تجربہ حاصل ہوا۔  لوگ حیران ہوتے ہیں کہ میں نے اتنا زیادہ سفر کیسے کر لیا  ناقدین  نے فیس بک پر باپ کے پیسوں کے طعنے  بھی دیے۔  یقین کریں کہ میں نے اپنی فیملی کو بھی کئی   بار سپورٹ کیا ہے۔   میں جب   جاب نہیں کرتی تھی اور سفر کی اجازت نہیں تھی تب  بجائے نیے ٹرینڈز اور ڈیزائنر کپڑوں کے میں  پیسے جمع کرتی تھی تا کہ ایک دن جب موقع ملے گا تو اس جیل جیسے گھر سے آزادی  حاصل  کر کے اپنے خواب پورے کر سکوں۔ میں نے تنخواہ بڑھنے پر بھی نئی کار یا فون نہیں لیے  بلکہ ٹیکسی رکشہ اور سیکنڈ ہینڈ ی فون پر اکتفا کیا۔ کھانوں پر  ضرور خرچ کیا پر وہ بھی کبھی کبھار۔ اور اس طرح نصف سے بھی  زیادہ پیسے ڈالرز میں تبدیل کروا کر سفر کی غرض سے سیونگ فنڈ میں ڈال دیئے ۔اور میں ریسرچ اور پروگرام بنانے میں بھی  وقت گزارتی اور اپنا ٹرپ خود گائڈ کرتی نہ کہ بس وغیرا کرائے پر لیتی نہ ٹور گائڈ  کی خدمات  حاصل کرتی جس وجہ سے پیسے بچ جاتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ میرے سفر کے دوران خریداری بھی بدل گئی ۔ میں سال میں کچھ دن ہی سفر  کرتی تھی جیسے پہلے سال 22 دن اور دوسرے سال 24 دن کی چھٹیاں لیں ۔   میں پبلک ہولی ڈے  کا خاص خیال رکھتی اور اسی کے حساب سے ٹرپ پلان کرتی تھی۔  اور شر و ع دن سے  میرے آفس میں  سب جانتے تھے کہ  سفر کرنا میرا جنون ہے اور میں اسی لیے کماتی ہوں۔ سب ساتھی بھی در pp11اصل بہت  ساتھ دینے والے ثابت ہوئے۔

خیر میرے شوہر سے بھی مجھے ساتھ ملا اور میں خوش قسمت ہوں کے ہنی مون کے  کچھ عرصہ بعد جب میں نے اپنے اس جنون  کا اظہار کیا اور افریقہ جانے کی گزارش کی تو انہوں نے اجازت بھی دی اور دو ہفتوں  کے بعد تنزانیہ میں  میرے ساتھ بھی سفر کیا۔

سفر نے مجھے بہت کچھ سکھایا ۔ ہم سب لوگوں سے صرف زبان اور مذہب میں مختلف ہیں ہماری خواہشات، مسائل، ڈر سب ایک جیسے ہیں۔ سفر سے اپنی  اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے  میں نے اپنے مسائل خودحل کرنا سیکھا  اور ڈر پر قابو پانا سیکھا۔ اس نے  مجھے اپنی زندگی کی بڑی جنگ  کا احساس دلایا جو مجھے جیتنی تھی  ؛خود پر شک، اور  خود پسندی ، تاخیر  ان سب خدشات سے بالاتر ہو کر ،  مجھے لاپتہ  ، انجان،  نئے  لوگوں سے ملنے اور دیکھنے کے شوق کا احساس دلایا۔  میرے اندر کے خانہ بدوش  ، ایکسپلورر سے ملایا۔کچھ لوگ  جان پہچان میں آسانی ڈھونڈتے ہیں اور مجھے  pp10 پر جوش رہنا پسند ہے.

میں ہر سال دسمبر میں اپنے سفر کے احوال لکھتی اور اپنے لیے  کامیابی کا مطلب تلاش کرتی تھی اور پھر مجھے سمجھ آیا کہ کامیابی کیا ہے ۔ میں اپنی اچیومینٹس ہر سال لکھوں گی اور پیسوں کا خرچ اور ان کی بچت ، اپنے لائف سٹینڈرڈ کے بدلنے اور جاب کی نوعیت سے بالا تر اپنے تجربے اور مہمات کے  بارے میں بھی لکھوں گی۔ ۔  ان تجربات اور سفر کی خواہش کے پورا ہونے پر میں کا میاب ہوئی۔ اپنی کامیابی کا مطلب  جان کر مجھے یقین ہے کے دوسروں  کو ان کی کامیابی کا ان کے طریقے سے مطلب سمجھنے  میں میں  نے حوصلہ افزائی کی ہے۔ سب کی خواہش سفر نہیں ہوتی، لیکن کامیابی سفر کرنے میں ہے تو حالات، اخراجات، ویزہ، جگیوں کی پہچان نہ ہونے سے ہمت نہ ہاریں۔

میں پہلی پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر خاتون  بننا چاہتی ہوں جس نے  100 سے زائد ممالک میں پاکستان ویزہ پر سیر کی ہو۔  میں چاہتی ہوں کے میر ا ملک کے لوگ بھی سفر کریں اور دوسرے  مذہب ،زبانوں، ذات اور لوگوں کو جانیں ان کے نظریات سے واقفیت حاصل  کرنا سیکھیں۔

جو لڑکیاں یہ سب پڑھ رہی ہیں میں ان سے کہوں گی کی وہ اپنی خواہشات کو زندہ رکھیں  لوگوں کو جان لینے دیں اور جو آپ کی عزت کرے اور آپ کی زندگی کا حصہ بننا چاہے  وہ ضرور آپ کو سپور ٹ کرے گا۔

میں تمام مردوں سے کہنا چاہوں گی کہ : اپنا دل بڑا اور دماغ کھلا کریں۔ ہم صرف اپنے خواب  پورے کرنا چاہتی ہیں ، ویسے ہی جیسے آ پ اپنے خوابوں کی تعبیر چاہتے ہیں۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *