سرمایہ داری نظام کو معاشرتی ضمیر کی ضرورت ہے: محمد یونس کا انٹرویو

david bornsteinڈیوڈ بورنسٹائن

گارمین بینک کے بانی بنگلہ دیشی شہری محمد یونس جنہوں نے نوبل انعام جیتنے کااعزاز حاصل کر رکھا ہے پچھلے 40 سال سے زور دے رہے ہیں کہ غربت کو جڑسے اکھاڑنے کےلیے لوگوں کی قائدانہ صلاحیتوں  کو استعمال میں لایا جائے۔  وہ کہتے ہیں کہ غربت غریب لوگوں کی ایجاد نہیں ھے۔ یہ اس سسٹم کی ایجاد ہے جو ہم نے بنایا ہے۔ غریب لوگ  بانسئی درخت کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر جنگل کے لمبے ترین درخت سے  بہترین بیج لیں اور اسے پھولوں والی گلدان میں لگا دیں تو وہ کچھ میٹر ہی بڑھ پائے گا۔ بیج میں کوئی مسئلہ نہیں گلدان کے سائز کا مسئلہ ہے۔  معاشرو غریب لوگوں کو اتنا لمبا ہونے کے مواقع نہیں دیتا جتنے باقی سب کو ملتے ہیں۔ یونس نے حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے۔ " “A World of Three Zeros: The New Economics of Zero Poverty, Zero Unemployment, and Zero Net Carbon Emissions,”" اس میں انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے بحران اور انسانی حوصلہ افزائی کے ایک ناقص تصور پر بحث کی ہے۔ انہوں نے"سوشل بزنس" کے نام سے  معیشت میں مضبوط کردار کی پیشکش کی ہے  جسے وہ "نان ڈویڈنٹ(بے فائدہ)" کمپنی کہتے ہیں اور یہ انسانیت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وقف کی گئی ہے۔

77سال کی عمر میں بھی  یونس پر عزم اور جوان ہیں۔ وہ ترقی پزیر ممالکل میں معاشی بزنس  کو بڑھانے کے عزم پر کام کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں وہ  بنگلا دیش برازیل، کولمبیا، فرانس، ہایتی، انڈیا، جاپان، یوگانڈا، اور بڑے ملکوں کے ساتھ ایک بڑی کارپوریشن میں پارٹنر شپ کے ذریعے غربت مٹانے کے مقصد پر عمل پیرا ہیں ۔

میں نے پچھلے ہفتے  یونس کے ساتھ  ایک ملاقات کا شرف حاصل کیا جس میں میں نے ان کی کتاب پر گفتگو کی جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔

ڈیوڈ برانسٹین: یہ مسائل کے حل اور وارننگ دینے والی کتاب ہے۔ آپ کے خیال میں خطرات کیا ہیں؟

محمد یونس: اصل مسئلہ دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہونا ہے۔ ۔ کتاب میں میں نے آکسفیم رپورٹ  کا حوالہ دیا جس میں لکھا تھا 8 لو گ اتنی زیادہ دولت کے مالک ہیں جتنا نیچلے طبقے کی 50٪آبادی ملک کر بھی اتنی دولت کی مالک  نہیں۔ حال ہی میں ایک اخبار کی رپورٹ میں پڑھا کہ اب 5 لوگ ان 50 ٪ پر بھاری ہیں۔ اس دولت کے ارتکاز اور تیزی میں ہم نے غور  ہی نہیں کیا کہ 5000 لوگ یا 50000 لوگ ان 50٪ نیچلے طبقے کے لوگوں سے زیادہ دولت ہتھیائے بیٹھے ہیں ، اب امراء صرف 5 ہیں بہت جلد کوئی ایک ہو گا اس سے اس ارتکاز کی تیزی  کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ سرمایہ دارانہ نظام ایک مشین جیسا ہے جو غریب سے پیسہ چوس رہی ہے ۔ اور یہ کسی ایک امیر آدمی کا قصور نہیں۔ وہ وہی کرتے ہیں جو سسٹم ان سے کرواتا ہے یعنی پیسے کے پیچھے بھاگنا۔لیکن اس سب میں اوپر کے طبقے میں دولت ایسے بڑھ رہی ہے جیسے بڑا مشروم  جس میں بہت کم لوگ شریک ہوں۔  اس کی وجہ یہی ہے کہ جتنا ان کے پاس ہے اتنا ان کو زیادہ ملتا ہے۔  دولت ایک مقناطیس ہے۔ اگر چھوٹا مقناطیس ہو گا تو کم دولت کھینچے گا۔ زیادہ ہو گا تو زیادہ دولت اپنی طرف کھینچے گا۔ اور یہ دولت کا مشروم ایٹم  بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ ہماری سیاست ، معاشرت، اور اکانومکس  کو تباہ کر دے گا کیوں کہ زیادہ دولت سے مراد ہے زیادہ طاقت ۔ نچلے طبقے میں بہت زیادہ غصہ  برپا ہو گا، اور یہ غصہ سب کچھ تہس نہس کر دے گا۔ امریکہ کے الیکشنز میں بھی ایسا ہوا اور ایسے ہی جرمنی کے  انتخابات کا نتیجہ دیکھیں ۔یہ مشروم بم کی طرح ٹک ٹک چل رہا ہے۔ ہمیں اس کے حل کے لیے راتوں جاگنا پڑے گا۔

ڈیوڈ برانسٹین: آپ نے کہا کہ یہ مسئلہ سرمایہ دارانہ نظریے  کی وجہ سے ہے۔

محمد یونس: سرمایہ دارانہ نظام ایک بنیادی غلطی پر مبنی ہے ۔ یہ لفظ انسان کی غلط تشریح   ہے۔ سرمایہ دارانہ نظریہ یہ ہے کہ انسان ذاتی مفاد ہی دیکھے۔ اور در اصل انسان یا انسانیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے ۔اس کا سراسر مطب یہ ہوا کہ لوگ مفاد پرست ،خود غرض اور بے رحم ہیں جبکہ انسان اس کے علاوہ کچھ ہیں۔وہ مدد کرنا چاھتے ہیں۔یہ ایڈم  سمتھ نے "دا تھیوری آف مورل سینٹی منٹس" میں لکھا ہے ۔ایڈم سمتھ فلاسفی کے پروفیسر تھے اور وہ اخلاقیات میں دلچسپی لیتے تھے۔ پھر انہوں نے بلکل مختلف موضوع پر کتاب لکھی" Invisible Hands"۔ اس کتاب میں انہوں نے ذاتی مفاد کے معاملے پر بحث کی۔  ان کی پہلی کتاب کو بھلا دیا گیا انہوں نے کبھی دونوں کتابوں کو  اکٹھا نہیں کیا۔

ڈیوڈ برانسٹین:اگر ہم ان خیالات کو ملا کر دیکھیں تو مضمرات کیا ہوں گے؟

محمد یونس: سرمایہ داری ایک موقع ہے۔ اکانومک سسٹم میں صرف ایک ہی طرح کا بزنس ہوتا ہے : پیسہ کمانا اور اگر اس میں منافع زیادہ سے زیادہ رکھو تو بہترین نتائج سامنے آتے ہیں۔ جب ہم اس میں لوگوں کی بے غرضی کی بات کریں تو ایک اور آپشن ملتا ہے یعنی عمومی اور روایتی بزنس: ایسا بزنس جوہمیں اپنی بے غرضی دکھانے کی اجازت دیتا ہے۔ اور خصوصی بزنس کا مقصد یعنی جسے میں سوشل بزنس کہتا ہوں وہ لوگوں کے مسائل کے حل muhammad younasکے لیے ہے۔ اور میری کتاب اس طرح کے بزنس کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔

ڈیوڈ برانسٹین: مجھے لگتا ہے کہ پڑھنے والوں کو یہ  بات خیالی لگے گی۔

محمد یونس:در اصل یہ بہت عملی ہے۔ اچھے  بزنس مین میرے پاس آتے ہیں اورخوشی سے سوشل بزنس پر رضا مندی دکھاتے ہیں۔ جیسا کہ ایک کنیڈین کمپنی McCain Foods۔ وہ ہمارے ساتھ جڑ کر سوشل بزنس کرنا چاھتی ہے۔ اور دنیا میں ان کی 60٪ چپس کی مارکیٹ ہے۔ ہم کولمبیا میں اس کا جوائنٹ بزنس کر رہے ہیں ۔ بہت سے کولمبین کسان زندگی  میں بہت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ یہی مسئلہ دوسرے کئی ممالک میں بھی ہے۔ کیمپو وائیوو جو ہمارا سوشل بزنس ہے ان لوگوں کی مدد کرتا ہے کہ وہ آلو اور دوسری سبزیاں اگا کر اپنے گھر چلا سکیں۔

 اس کے بعد انہوں نے فرانس میں سوشل بزنس کیا، جہاں  26 ٪ آلو اس لیے ضائع ہو جاتے ہیں کہ فرنچ فرائی مشین  کے لیے صحیح شکل کے نہیں تھے۔ جب McCain نے سوشل بزنس کی نظر سے دیکھا تو انہیں بہت سےدوسرے راستے نظر آنے لگے۔ انہوں نے Bon et Bien  کی بنیاد رکھی اور ایسے آلو خرید کر انہیں سے ٹوماٹو سوپ بنانے کا کاروبار شروع کر لیا۔

ڈیوڈ برانسٹین:چھوٹا  بزنس سارے مسائل حل کر دیتا ہے ۔ اگر ہم منافع کے مقصد کو بھول جائیں تو کیا حاصل ہو گا؟؟

 محمد یونس: اگر ذاتی مفاد کو چھوڑ کر صرف مسئلے کا حل دیکھا جائے تو بہت سی صورتیں دیکھنے کو ملیں گی جو پہلے نہیں دیکھیں۔ اگر بے غرضی کا  ٹیکنالوجی کو بڑھانے میں ہاتھ ہو بجائے ذاتی مفاد کے تو اچانک ہی یہ ٹیکنالوجی طاقتور ہو جائے گی اور بہت جلد دنیا کو بدل کے رکھ دے گی۔ تب  مصنوعی انٹیلیجنس لوگوں کی صحت کے مسئلے حل کرنے کی لیے بنائی جائے گی نہ کہ ان کی نوکریاں  چھیننے کے لیے۔ اگر آپ انسانیت کے بے غرض حصے کو دیکھیں تو ساری اکانومی ہی بدل جائے۔

ڈیوڈ برانسٹین: سر مایہ کہاں سے آئے گا؟

 محمد یونس:بہت ساری اطراف سے آ سکتا ہے۔  خیرات کا پیسہ بیت بڑا اثاثہ  ہے۔ بہت لوگ سوشل بزنس کے لیے فنڈز اکٹھا کرتے ہیں۔ ذاتی سرمایہ ایک اہم ذریعہ ہے۔hedge فنڈ، یا انشورنس فنڈ، پنشن فنڈ، وغیرہ سے صرف  1 ٪ فنڈ سوشل بزنس میں لگایا جا سکتا ہے۔ اور ذاتی مفاد کا سوچے بغیر یہ ممکن ہے۔ یوں بہت بڑی تعداد میں پیسہ جمع ہو جائے گا۔

 ڈیوڈ برانسٹین: آپ ان بزنس لیڈرز کو کیا کہنا چاہیں گے جو اس سب میں دلچسپی رکھتے ہیں؟

 محمد یونس: وہ کوشش  کرتے رہیں۔  ذاتی پیسے کا کچھ حصہ استعمال کریں یا سوشل ذمہ  داری  ادا کرنے کے لیے نکالا ہوا پیسہ سوشل بزنس میں لگا دیں۔ بہت سے بزنس آئیڈیاز پر کام کریں  ایک یا دوقابل  لوگوں پر بھروسہ کریں اور پیسہ لگایں اور یہ پبلیسٹی کے لیے نہ ہو۔ اسطرح خود اپنے آپ کو بھی پہچان پائیں گے۔

ڈیوڈ برانسٹین:آپ کا امریکہ اورگارمین بینک کا کیسا کام جا رہا ہے؟

محمد یونس:2008 میں شروع کیا تھا۔ اگلے سال کے آخر میں گارمین امریکہ تقریبا $1 لاکھ  لوگوں کو قرض دے چکاہو گا۔ اور اگلے دس سال میں گارمین  امریکہ  20 سے 40 برانچز تک پھیل جائے گا۔  2028 تک قرض لینے والوں کی تعداد بڑھ کر 5 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ 1 ملین تک بھی ہو سکتی ہے۔  اگر اور زیادہ  فنڈنگ ہوئی تو یہ ملین تک بڑھ جائے گی۔ 

ڈیوڈ برانسٹین:آپ جوان لوگوں کو  میگا پاور کے طور پر دیکھتے ہیں۔ صرف جوان لوگ ہی کیوں؟؟

محمد یونس: ان کے ذہن کشادہ ہیں ۔ اور وہ سرمایہ دارانہ نظام کے گھیرے میں نہیں ۔ وہ نڈر ہو کر سوچ سکتے  ہیں۔ ان کے پاس بہت طاقت ہے، ان کو ٹیکنالوجی کی جانکاری ہے، اور انہیں کچھ الگ کچھ اپنا کرنے کی خواہش  ہے۔

ڈیوڈ برانسٹین: اس سلسلے میں سکولز کیا کریں؟

محمد یونس: وہ سلیبس کے زریعے بچوں کو  یہ سمجھائیں کہ بزنس صرف منافع  بڑھانا نہیں۔ تم بزنس کو اپنی رقم ریسائیکل کر کے اور اپنی رقم کی وصولی کے ساتھ لوگوں کے مسائل کا حل بنا سکتے ہو۔ان کو بزنس اسائینمنٹس دی جا سکتی ہیں جیسے صاف پانی ،ایجوکیشن، تعلیم، اپنے گھروں کی سکیم، صحت وٖغیرہ کی سہولیات   گاؤں تک کیسے لائی جائیں۔ رش سے بھری کچی آبادیوں کو اچھی سوسایٹی کیسے بنایا جائے یعنی ایجوکیشن، صحت اور کشادہ سڑکیں وہاں کیسے آئیں۔ بہت سی یونیورسٹیز سوشل بزنس سینٹر  بنا رہی ہیں  اور یہ سب پڑھا رہی ہیں۔ ہر بزنس سکول کو کنونشنل M.B.A.sاورسوشل  M.B.A.s کی آفر کرنی چاہیے۔

ڈیوڈ برانسٹین:  آپ نے دنیا بھر کے لوگوں کی  توجہ حاصل کی ہے جو رسمی خیالات کو بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ آپ میں اور ان لوگوں میں کیا چیز مشترک ہے؟

محمد یونس: جوش و خروش۔ اگر ایک بار آپ کو سوشل بزنس کو کیڑا کاٹ جائے آپ رک نہیں سکتے۔ اگر پیسہ بنانا خوشی کا باعث ہے تو دوسروں کو خوشی دینا اس سے بھی زیادہ خوشی کی وجہ۔

ڈیوڈ برانسٹین:اگر آپ دس سال آگے دیکھیں تو آپ کو کیا نظر آتا ہے؟ 

محمد یونس:میں امید کرتا ہوں کہ کم از کم 1٪  اکانومی گلوبل لیول پر  سوشل اکانومی بن جائے گی۔اگر  یہ ممکن ہو جواس کا مطلب ہے سوشل بزنس کے کیڑے نے اپنا کام دکھا دیا ہے۔ اس کے بعد صرف آگے کا سفر ہے۔

ڈیوڈ برانسٹین:کیا آپ کو لگتا ہے اس سب کے بعد آپ امیر ترین ہو جائیں گے؟

محمد یونس: ہو سکتا ہے۔ میں نے بہت بزنس بنایا ہے۔لیکن دنیا میں ایک بھی شئیر کسی بھی کمپنی میں اپنا نہیں بنایا۔میں کچھ بھی نہیں بھول رہا۔ میں وہ ہی کر رہا ہوں جس میں لوگ دلچسپی لے رہے ہیں، سیکھنا چاہتے  ہیں، اور سنتے ہیں۔ اور آخر کار زندگی کیا ہے؟بلین ڈالرز بنانا؟ان 5 لوگوں کے لیے جو اور پیسہ بنا سکتے ہیں 50٪ غریبوں سے، جن کی دولت 750 ملین لوگوں سے زائد ہے! اس سے تم کیا کرو گے؟ کھاؤ گے؟ گھر بناو گے؟موسیقی سنو گے؟  میرے  خیال میں خوش رہنے اور زندگی سے لطف اٹھانے کا بہترین طریقہ سوشل بزنس میں پوشیدہ ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *