جنسی معاملات اور پاکستان کا مذہبی معاشرہ

haseeb asifحسیب آصف
سیکس ایک عجیب چیز ہے۔ صرف اس لیے نہیں کیوں کہ اس میں یوگا کی طرح پوزیشنزبناتے ہوئےعجیب چہرے بنتے ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ ثقافت میں یہ عجیب و غریب انداز اختیار کر لیتا ہے اور اکثر اس کے بارے میں بات کرنا بھی ممنوعہ قرار پاتا ہے۔ ہر کوئی جنسی شہوت رکھتا ہے ، سیاستدانوں اور جرنیلوں سے لے کر سڑکوں پر چیزیں فروخت کرنے والوں تک، لیکن پھر بھی یہ پاکستانی زندگی میں یہ ایسی ڈھکی ہوئی بات ہے جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو۔ مجھے یہ جاننے کے لیے بھی سائنسی تحقیق کی ضرورت پڑتی ہے کہ میرے والدین نے ماضی میں کبھی جنسی تعلقات قائم کیے ہوں گے۔ مجھے لگتا ہے کئی لوگ اس لحاظ سے میرے اس تجربے میں شریک ہوں گے۔ عام طور پر ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی والدین اور بالغ خواتین اور مرد ایک ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں جنسی شہوت کا وجود ہی نہ ہو۔ سیکس پر بند دروازوں میں ایسے بات کی جاتی ہے جیسے کوئی نیشنل سکیورٹی کا مسئلہ ہو۔
ٹی- وی دیکھنا فیملی کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ــــــ ایک باوقار باپ ایک دوپٹے میں سر ڈھانپی ہوئی ماں، زمین پر آڑے ترچھے بیٹھے بچے ــــــ کترینا کے I’m Too Sexy For You گانا لگنے پر جھومنے اور گنگنانے لگتے ہیں۔اس مختصرسرگرمی کے بعد سب ویسے ہی نارمل ہو جاتا ہے؛ ابو اخبار پڑھنے لگتے ہیں، ماں کتاب میں کھو جاتی ہیں اور بچے یہاں وہاں یہ سوچتے پھرتے ہیں کہ آدھ ننگی لڑکی شرٹ کے بغیر لڑکے کے ساتھ ڈانس کیوں کر رہی تھی۔ میں نے سیکس کرنا وہاں سے ہی سیکھا جہاں پڑھنا ، لکھنا اور بہانے بنانا سیکھا یعنی سکول میں۔ ہاں جی، پاکستان میں سیکس کلاسسز نہیں ہوتیں، لیکن اس وجہ سے کتابوں کے پیچھے سے معنی خیز ہنسی اور آنکھوں کے اشارےاور کلاسوں کے کمرے اور پیچھے کے برآمدے ،سیکس ایجوکیشن سے محروم نہیں ہیں ۔
ہاں ان سب باتوں پر یقین نہیں آتا ، اساتذہ بھی بالغ بچوں کے ساتھ جنسی ہیجان کا شکار ہوتے ہیں لیکن وہ اس کو عملی شکل دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ بچے بڑے بہن بھائیوں اور کزنز سے باتیں سنتے ہیں اور جو پڑھتے اور دیکھتے ہیں ان سے کچھ ایسا بنا لیتے ہیں جو حقیقت ہو بھی سکتی ہیں اور نہیں بھی ۔
آنکھوں کے اشارے تو پاکستاں میں جیسے قومی کھیل ہو۔ لڑکے لڑکیاں یہ کھیل کھیل کر جنسی بے تکلفی کا ماحول پیدا کر لیتے ہیں۔
اس طرح بے شمار جنسی تعلقات اور مشت زنی جیسے واقعات سننے کو ملتے ہیں۔ ایک دفعہ میرے چھوٹے کزن نے آنکھیں پھیلائے مجھ سے موچھا کہ کیا مشت زنی واقعی بندے کو اندھا کر دیتی ہے۔میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ بلکل نہیں پر میں نے اپنی آنکھوں پر موٹے چشمے پہنے محسوس کیے جن کے بنا میں چیزوں سے ٹکرا جاتاہوں اس لیے میری کسی بات پر اسے تسلی نہیں ہو گی۔ سکول میں ایک لڑکے کو ٹانگوں کے بیچ کرکٹ بال لگی اور وہ گھنٹوں اسی بات کو سوچ کے واہویلا کرتا رہا کہ اب وہ کبھی باپ نہیں بن پائے گا، پر ایسا کچھ نہیں تھا۔ ایک لڑکی جسے میں جانتا ہوں ، بڑی حیرانی اور بے یقینی سے سب کچھ جھٹلا گئی اور بولی "مجھے کیا پتہ!!! "۔
بعد میں جب ہم اس موضوع، اور اس سے متعلقہ سماجی، مذہبی اور قانونی پیچیدگیوں کو دیکھا تو معاملہ سمجھ آیا۔ آسان الفاظ میں پاکستان میں ان شرائط کے بنا شادی کے جنسی تعلقات قائم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس لیے جوان افراد شادی کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ لیکن رکاوٹیں ان جنسی ہیجان سے بے بس لڑکوں کو دوسرا راستہ اختیار کرنے پر اکساتی ہیں۔ گاڑیوں میں ، اپارٹ منٹس میں، موٹلز ، پبلک پارکس میں، خالی گھروں ، کیمپس کے دکانوں کے ہر کونے کھدرے غرض جہاں بھی موقع ملے لیکن پکڑے جانے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔ اور کھڑکیوں سے کودنے ، پولیس کو دے دلا کر جان چھڑانے کے قصے بھی عام pakistan valentineہیں۔
بہت لوگ ڈیٹ پر جا کر بھی شادی نہ ہونے کی وجہ سے صرف ہاتھ پکڑ کر اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں ۔ یہ سب معاشرتی دباو اور ذاتی عقائد کے اثرات ہیں جو آپ کو حدود تجاوز کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ رسک اور گناہ کا احساس زیادہ تر لڑکیوں میں ہوتا ہے۔ ان کو اپنے کنوارہ ہونے کا ثبوت دینا ہوتا ہے جو ہماری دوغلی سوسائٹی میں عام بات ہے۔ کنوارے پن کی ایسے حفاظت کی جاتی ہے جیسے کوئی مذہبی فریضہ ہو۔ یہ خاص حفاظت کا سلسلہ اسوقت تک جاری رہتا ہے جب تک کوئی مولوی بے چاری لڑکی کا نکاح نہ پڑھا دے۔ پھر شادی سے پہلے کا حمل دوزخ کا سفر بن جاتا ہے۔ ساری جوان لڑکیوں کو والدین ٹائم بم سمجھتے ہیں اور جلد از جلد ان سے چھٹکارا چاہتے ہیں ۔ لڑکیوں کی خاندان کے بڑی عمر کے لڑکوں سے شادی بہت متجسس اورعجیب حالات پیدا کر دیتی ہے۔ "ساری عمر بھائی جان اور پھر ایک دن۔۔۔۔ صرف جان؟"
پھر ان جوانوں کی جنسی خواہشات کا مسئلہ جن کی شادی نہیں ہوئی۔ شادی کے بغیر جنسی ہیجان سے نمٹنے کےلیے لوگ دوسرا راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ اس مقصد کےلیے فون، انٹرنیٹ، گندے پیغامات، مشت زنی، وغیرہ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ہم پاکستانی لوگ ٹیکنالوجی کو سب سے بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔ فحش مواد دیکھنے میں ہم دنیا بھر میں سب سے آگے ہیں۔ لیکن انٹرنیٹ کی آمد سے پہلے لوگ جنسی خواہشات اور لذت کےلیے ویڈیو شاپ پر جا کر 'ایکشن والی فلم' لے آتے تھے اور اسے بالی وڈ فلموں کی سی ڈیز کے پیچھے چھپاتے تھے۔
انٹر نیٹ نے آسان سہولت میسر کر دی اب فحش خود پاس آجاتا ہے، سب سے پہلے ڈائل اپ کے ذریعے، پھر براڈ بینڈ کےذریعے ۔پاکستانی گورنمنٹ کو فحاشی پر اعتراض ہے۔ حکومت نے حال ہی میں جو فحش مواد پر پابندی لگائی تھی اس سے بہت سے نوجوانوں کےلیے بے شمار مسائل کھڑے ہونے لگے۔ نہ ویڈیو کلپ دیکھے جا رہے تھے اور نہ ہی کسی اور طریقے سے اچھا وقت گزارا جا سکتا تھا۔ لیکن اب پابندیوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ لوگ آزادی سے سب کچھ دیکھ سکتے ہیں۔
فون سیکس بہت لمبے عرصے تک رہا جس میں سب سے کم رسک تھا۔ اسی لیے موبائل کمپنیوں نے رات بھر کی سستی کالز کے پیکیجز نکالے: جیسے "سب کہہ دو"۔ سیل فون پاکستان میں سیکس کے آسان رابطے کا زریعہ ہے اور یہ سیاست سے چھپی ہوئی بات نہیں ہے ۔ اسلامی ریاست میں جس قدر فحش طریقے سے فون اور انٹرنیٹ کو استعمال کیا گیا کہیں اور اس کی مثال نہیں ملتی۔گپ شپ کی ویب سائٹس میں اس بات کا رسک تھا کہ بندہ جس سے فلرٹ کر رہا ہے وہ گلی کا ایک بد نما مرد ہے۔ اور اگر سب کچھ کام نہ آئے تو پونڈی ، نین مٹکا وغیرہ ۔ویب سائٹس کے مقابلے میں البتہ زبانوں پر کبھی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ گلیوں بازاروں میں یہ سب پاکستانیوں کی خاص انجوائے منٹ ہے جو لڑکے لڑکیاں عام طور پر کرتے نظر آتے ہیں۔
لڑکیاں اور لڑکے دونوں برابر ایسے فحش حرکات کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی گلیاں، مارکیٹ اور شاپنگ مالز جنسی ماحول فراہم کرنے میں سب سے آگے ہیں۔ اس طرح جنسی معاملات پر سماجی خاموشی کے باجود پاکستان میں ایک پورا انڈر ورلڈ موجود ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کو گھورنے، چھیڑ چھاڑ کرنے، موبائل فون کالز، میسجز، ویڈیو کلپس اور دوسرے بہت سے طریقوں سے جنسی خواہشات کو پورا کیا جا رہا ہے ۔ جنسی ہیجان کسی نہ کسی طریقے سے اپنے راستے بنا لیتا ہے چاہے ریاست اور سماج کتنی ہی پابندیاں کیوں نہ لگا لے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *