سٹیو جابز اگر اتنا پاگل شخص نہ ہوتا تو۔۔۔

steve jonesفراز حیدر

غربت سے امارت کی طرف سفر کرنے والے ایپل کمپنی کے موجد  سٹیو جابز 5 اکتوبر کو  کینسر سے لڑتے ہوئے دنیا سے چل بسے۔ دنیا بھر سے ان کے دوستوں، ساتھیوں، صارفین اور رقیبوں کی طرف سے ان کی موت پر تعیزیتی پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ اس آرٹیکل کا پہلا ڈرافت حقائق پر مشتمل تھا ۔ ایک دوست نے پوچھا کہ آرٹیکل میں جو لکھا ہے کیا میں سٹیو جابز کے بارے میں وہی رائے رکھتا ہوں  تو  میرا جواب نفی میں تھا۔ سٹیو جابز 20 ویں صدی کی مشہور شخصیات ٹیسلا، نیوٹن اور ڈا ونچی جیسی شخصیت کے مالک تھے۔ میں کبھی سٹیو جابز سے نہیں ملا لیکن ان کی موت پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ بلکل ایسا لگا جیسے کو ئی اپنا اس دنیا سے رخصت ہوا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ میں اکیلا اس طرح مغموم نہیں ہوں۔ پچھلے چند سالوں میں ایسی کوئی شخصیت نہیں گزری جس نے رخصت ہو کر دنیا بھر کو مغموم کر دیا ہو۔ میں خود تو اپیل پراڈکٹ استعمال نہیں کرتا لیکن پچھلے 15 سال سے ایڈورٹائزمنٹ کی بدولت اس کمپنی کے شاندار پراڈکٹس سے قدرے واقفیت رکھتا ہوں۔ میں اگر خریدنا چاہوں تو بھی کبھی قیمت اور کبھی فری سافٹ وئیر نہ ہونے کی وجہ سے مجھے باز رہنا پڑتا ہے۔ اس لیے ونڈو صارف کی حیثیت سے میرا ایپل سے نفرت اور محبت کا رشتہ بنا رہا ہے۔ جابز کے تجارتی خصائص کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے جن کی بنیاد پر انہوں نے ایپل جیسی بڑی  کمپنی قائم کی ۔ لیکن ان کے بارے میں پڑھنے سے ایسے ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہیں۔ میں بھی ایسا انسان ہوں جو گھر بیٹھے ایک بڑی کمپنی قائم کر کے ارب پتی بننے کا خواب دیکھتا ہے۔ ہر کوئی صرف اوپر جانا چاہتا ہے  لیکن حقیقت یہ ہے کہ کامیابی مشکلات کا سامنا کرنے اور زوال کے عمل سے گزرنےکے بعد ہی ملتی ہے۔ جابز کو بار بار نیچے کی طرف حالات نے دھکیلا لیکن ہر بار وہ ایک مضبوط انسان بن کر اوپر آئے ۔ ان کی کامیابی ناکامیوں کے بغیر ہر گز ممکن نہ  تھی۔

کسی بھی نوکری سے نکال دیا جانا ایک تکلیف دہ چیز ہے۔ اپنی ہی کمپنی سے نکال دیا جانا تو اور بھی افسوسناک سمجھا جاتا ہے۔ جابز کو نکالا گیا تو وہ اپنے راستے پر چل نکلے۔ انہوں نے نیکسٹ کمپنی کی بنیاد رکھی جو بری طرح ناکام ہوئی۔ اس ناکامی نے جابز کو توڑنے کی بجائے جوڑنے کا کام کیا اور انہیں زیادہ مضبوط کیا۔ لیکن جابز ہمیشہ ایپل کمپنی کا حصہ رہنے کے خواہش مند تھے۔ ان کی محنت اور جذبے سے نیکسٹ اور ایپل کا ملاپ ممکن ہو سکا۔

جب ایپل نے 1996 میں نیکسٹ کمپنی خریدی تو دنیا کی تبدیلی کی ہوا چل پڑی۔ اگلے پانچ سال میں ایپل نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ نیکسٹ اور ایپل کے بیچ کا فرق آہستہ آہستہ ناقابل بیان ہونے لگا۔  غیر ضروری سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کو ختم کر دیا گیا ۔ مینوفیکچرنگ کے عمل کو نئی شکل دی گئی۔ نیکسٹ سے حاصل کی گئی معلومات کے ذریعے میک آپریٹنگ سسٹم کو نئے سرے سے تیار کیا گیا۔ تما م سطح پر جدیدیت کو اپنایا گیا اور کمپنی اپنی راہ پر چل پڑی۔

البتہ اگر ان پراڈکٹس کا بنیادی فیکٹر صرف ڈیزائن ہوتا تو لوگوں کو صرف ایک بار بے وقوف بنایا جا سکتا اور بار بار نہیں۔ تمام پراڈکٹس کی ڈیزائنینگ اعلی درجہ کی تھی ، بناوٹ قابل رشک تھی اور کام کرنے کی صلاحیت تو قابل دید تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک پراڈکٹ بنانے کےلیے لازمی ہے کہ اسے نہ صرف شکل خوبصورت نظر آنا چاہیے بلکہ اس کا کام اور پرفارمنس بہترین ہونی چاہیے۔ کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل لیکن ایپل نے یہ کر دکھایا۔  مجھے گریڈ سکول یاد ہے جہاں ہر مارکیٹ کورس میں ہمیں یہ سکھایا جاتا کہ سب سے اہم چیز سب سے پہلے مارکیٹ  میں پراڈکٹ کا اترنا ہے۔ لیکن جابز کے لیے یہ مسئلہ نہیں تھا کیونکہ وہ تبھی اپنے پراڈکٹس مارکیٹ میں لاتے جب انہیں یقین ہوتا کہ یہ اشیا ان کے ویژن اور معیار کے عین مطابق ہیں۔

آئی پیڈ کے آنے سے قبل فلیش ڈرائیو جیسے قابل انتقال میوزک پلئیر موجود تھے۔ ٹیبلٹ پی سی بھی 90 کی دہائی میں ہی متعارف کروائے جا چکے تھے  لیکن حقیقی انقلا ب آئی پیڈ کی وجہ سے آیا جو اس وقت 80 فیصد ٹیبل مارکیٹ پر قابض ہے۔ بہت سے سمارٹ فون اور ٹچ فون بھی آئی فون سے قبل مارکیٹ میں آئے۔ میک بک ائیر نے الٹرا بک نامی کمپیوٹر کی ایک نئی قسم متعارف کروائی۔ کاش میں آئی فون اور آئی پیڈ پر ہونے والے معلوماتی سیشن میں ایک مکھی کی شکل میں ہی حصہ لے سکتا۔ اس پاگل پن، جذبہ، اعتماد اور جوش کو دیکھ پاتا جو اس کمپنی کے لیڈر نے دکھایا ۔

اپنے  بہترین ویژن کے باوجود وہ ایپل کو اگلے لیول تک اکیلے نہیں لے جا سکے اور انہوں نے اس کا اعتراف بھی کیا۔انہوں نے اپنے جیسے ذہین افراد کی ایک ٹیم بنائی جس میں جان آئیو، رون جانسن، ٹم کک، فل شلر، جیسے بڑے نام شامل تھے جنہوں نے ملک کر اپنی ترقی کا سفر جاری رکھا  اور اپیل کو اس بلندی تک پہنچایا جہاں آج یہ کمپنی موجود ہے۔  جابز کی رخصتی کے بعد اب ساری ذمہ داری ان ٹیم ممبران پر ہے کہ وہ کمپنی کو نئی بلندیوں پر لے جائیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آئی پیڈ 4 اور آئی فون 7 کے متعارف کیے جاتے وقت جاب موجود نہیں ہوں گے لیکن ان کا ویژن، سپرٹ اور تخلیقی صلاحیتیں ہمیشہ اپنا اثر دکھاتی رہیں گی۔ کیونکہ ہر اہم معاملے پر لوگ یہ ضرور سوچیں گے کہ اگر اس موقع پر سٹیو جابز یہاں ہوتے تو کیا کہتے۔ اس لیے ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

ہم سٹیو جابز کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس قدر باغی، پاگل پن، مشکلات کھڑی کرنے والا انسان بن کر دنیا میں انقلاب ممکن بنایا۔ انہوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مختلف سوچ اپنائی اور اپنی سوچ کو ٹھیک ثابت کیا۔ وہ ہر وقت کچھ کر گزرنے کی تلاش میں رہے ، اس دوران بہت سی حماقتیں بھی کیں، اور اسی وجہ سے انہوں نے دنیا بھر کو ہمیشہ کےلیے بدل دیا۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *