کچھ بھی نہ کہا اور کَہہ بھی گئے !

اسلام آبادghulam mustafa mirrani میں منعقدہ مسلم لیگ کے خصوصی اجتماع میں جناب شہباز شریف کا خطاب ، لب و لہجہ اور اندازِ تَخاطُب ماضی کی مُضطرب کیفیت، حال کی مُضمحل حالت اور مستقبل کے مخدوش منظر کا آئینہ دار تھا۔ صرف خادم اعلی' پر ہی موقوف نہیں، آویزش اور آرزؤوں کے پاٹوں میں پِستا کوئی بھی آدم زاد ہمیشہ اپنے آپے سے باہر اور اکثر بےخودی کا مظہر ہوتا ہے۔ پائے رَفتن نہ جائے ماندَن کی صورتحال سے دوچار ایسا انسان ہمیشہ خود پسند اور اپنی ذات کا اَسِیر ہوتا ہے۔ لاشعوری طور پر وہ خود کو دوسروں سے اَرفع و اعلی' تصور کرتا ہے اور شعوری طور پر کسی اور کی قیادت پر قانِع نہیں ہوتا، ہَمہ وقت حرکت میں رہتا بے اور بےچین نظر آتا ہے دوسروں کا چین بھی غارت کئے رکھتا ہے۔ چنانچہ کبھی تو وہ ہاتھ جوڑ جوڑ کر معافیاں مانگتا ہے اور کبھی دھاڑتا، چنگھاڑتا اور تَھرتَھراتا نظر آتا ہے۔ جناب خادم اعلی' ہمیشہ کی طرح، اُس روز بھی ایسے تاثرات کی تصویر بنے دکھائی دے رہے تھے ۔ اُنکی گفتگو کا لفظ لفظ بامعنی تھا۔ وہ اشارے کنائے کی زبان میں بہت کچھ کہہ گئے۔ دوران تقریر بڑے میاں صاحب کی شان و عظمت کے گُن گانا اور رِفعت و سَر بلندی کے نعرے لگوانا شاید موقع و محل کی مناسبت سے ایک مجبوری تھی ورنہ حوارین میں سے کچھ حاشیہ نشینوں کو در پیش حالات کا ذمہ دار ٹھہرانا اور اُن سے ہوشیارباشی کا بھاشَن دینا اور پھر آن ہی آن میں پینترا بدل کر حاضرین ہی پر اعتماد اور انحصار کا درس دینے لگ جانا درحقیقت سَطحیات کے نیچے موجزن اضطراب اور مُہلک معاملات کا غماز تھا۔
صاحبو! صورتحال شاید سنجیدہ اور سَہمگیں ہے۔ برسرِ مجلس بول بَلوں اور ھَلے گُلوں کے پس منظر میں حقائق بہت تلخ ہیں۔ کئی خوفناک اَبوالہول آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن مقدمہ کی پَرچھائیاں ہیں یا پَربَتوں کے بوجھ سے بڑھ کر پانامہ "پِنڈارا کہانی" کے ما بعد مُمکنات کا مَہیب منظر۔۔۔۔۔یقینا" سمندر کی سِیڑھ اور دریا کی مُضطر موجوں کی تَہوں میں تَہہ و بالا کر دینے والا ایک طوفان ہے جس کے اثرات و عواقب کے بارے میں بظاہر بات تو نہیں کی گئ مگر مُتَوَحش مناظر بہت کچھ منعکس کر رہے تھے۔
دوسرا مضحکہ خیز مَخمَصہ، جس کے ابتدائی مناظر پر مسلم لیگی میڈیا بہت اِترا اور بَغلیں بجا رہا تھا، چودھری نثار علی خان کی میاں محمد نواز شریف سے ملاقات اور رسم و راہ کا اِحیا تھا۔ مگر سَرودِ سحر، بادِ صبا اور گُلشن سے جدا گَشتہ گُل کی مانند یہ منظر بھی بڑا مختصر اور ظاہری ظَن و تَخمِین کے برعکس برآمد ہوا۔ معزُول وزیر اعظم کے عالَمِ خطاب میں، موصوفِ مذکور عَین اُس وقت اٹھ کر چلے گئے جب مقررِ محترم اپنے جوشِ خطابت کے ہر وقفہ پر بار بار سَر اٹھاتے اور تائید و تالی کی طلب کیلئے سامعين پر تَرستی نگاہ ڈالتے۔ کوئی گُتھی سُلجھا سکتا ہے کہ سب کو سننا اور مِیرِ مجلس کے خطاب سے پَہلو تَہی کرلینا چِہ معنی دارد ؟ کیا نثار علی خان کا خاموش احتجاج، سفینہء سیاست کے مَلاح کو مُضیل و مُضمحل شخص سمجھنے اور اس پر ماتم و ملامت کا خاموش مظاہرہ کرنے کے مترادف پیغام نما ایک ایسا عمل تو نہیں جو مُخاطَب سے کہیں زیادہ "مقتدر قوتوں" کی خوشنودی کیلئے تھا !! لگتا ہے، شہبازشریف کی شورِیدگی اور ژُولِیدگی کے بعد، انکے فِکری ہمخیال اور عملا" ہَمرکاب چودھری نثار علی خان کی کَبیدگی اور کشیدگی، در اصل پَس و پِیش کے گفتہ، ناگفتہ حالات و خطرات کا بَیَّن مظہر تھا جو بِنا بولے، بہت کچھ بتا رہا تھا۔
رہی سہی کَسر ایک اور طُرفہ تماشا نے پوری کر دی جو ممکنہ طور پر کسی بَغلی گروہ کی حمزہ شہباز کیلئے خیرخواہی کا اظہار  تھا۔ یاد کیجئے جب تَشکر و اِمتَنان کی دریا دلی کے دوران، میاں نواز شریف اپنی اور اپنی فیملی کے افراد کی طرف سے ناموں کی گَردان اور گِنتی میں مَگن تھے اور جذبات کے جام لُنڈھا رہے تھے کہ اچانک ہجوم "حمزہ حمزہ" ، "حمزہ حمزہ" پُکار اٹھا۔ بادلِ ناخواستہ،  نواز شریف نے، محمد حمزہ شہباز شریف کے نام سے سابقے لاحَقے لگائے بغیر فقط اتنا کہا کہ "حمزہ کی طرف سے بھی شکریہ "۔۔۔جبکہ باقی مُقربین کے اِسمہائے گرامی کا اظہار کمال ملائِمت، مَلاحَت اور محبت سے کیا گیا۔ خاندان میں خلفشار کی خلیج کتنی عَمیق ہے، سمجھنا دشوار نہیں۔ بڑی بدقسمتی ہے کہ ذِیابيطُس کے مریض کے وجود پر ھَرے زخموں کی طرح ، خاندانِ شریف میں بھی رنجشیں اور بدگمانیاں، کم ہونے کے بجائے، بڑھ رہی ہیں۔ سیادت اور سبقت کا جنون، صدیوں کے سَمبندھ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اختلافات کو چھپانے اور دبانے کے باوجود، گُنگ دامی ہی گویائی کی زبان ہے۔۔۔اور معاملات بااِیجا رسید کہ
جانے نہ جانے گُل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
مُسابقت اور مطابقت کے ذوق میں ایک دوسرے کا قد کاٹھ ناپنا ، اخبارات و جرائد کے تذکرے ترازو میں ایک دوسرے کا ناپ تول کرنا اور ٹاک شوز میں ایک دوسرے کے مقام و مرتبہ کے گَھٹتے بَڑھتے گراف کی پیمائشیں کرتے رہنا روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔ بدقسمتی کے بَطن سے جنم لینے والی صورتحال بَدیہی طور پر ایک بد شگون انجام کی چُغلی کھا رہی ہے۔ مُشتری ہوشیار باش !
اب ایک اور منظر کی طرف چلتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اونٹ جب تک پہاڑ کے نیچے نہ آئے، اپنے سے اونچا کسی کو نہیں مانتا۔ بزعمِ خِویش امریکہ سے پڑھ کر آنے والے جناب اقبال احسن  پاکستان لَوٹے تو اُنکے وجدان گیان کے برعکس ملک آمریت کے الاؤ میں جَل رہا تھا۔ کیا انداز خود سِتائی ، شان بے نیازی اور قہرِ کِذَب بیانی ہے کہ کوا کالا نہیں، سفید ہے !! واہ میرے مالک تیری شان !!! جَدی پُشتی آمریت زادے بھی جمہوریت کے "لبادے" اوڑھنے لگے ہیں۔ لاہور کی یو۔ای۔ٹی سے فارغ التحصیل اقبال احسن نے، نجانے اپنی مادرِعلمی پر اظہارٍ تَفاخُر کے بجائے احساسِ کمتری کو کیوں گَلے لگا لیا کہ عظیم درسگاہ کو حجاب و اِخفا میں رکھا اور  اتنا کچھ پا لینے کے باوصف، امریکن نسبت کا ڈھول بجانا شروع کر دیا۔ اپنی والدہ محترمہ کو دعا دیں جنہوں نے مرحوم ضیاالحق کی سَبیلٍ سیاست سے جناب اقبال احسن کو دودھ پلایا اور پروان چڑھایا۔ قابلِ ملامت و مذمت سہی مگر دو سپاہیوں نے نیب عدالت کے باہر موصوف کو مُنجمد کر کے برفانی ریچھ کی طرح چلتا کیا تو تخت و تاج کا سارا نشہ کافُور ہو گیا۔ جی ہاں ! قوم کے مقدر سے آنکھ مچولی کھیلنے والوں کا سامنا جب "قضاوقدر" کی قوتوں سے ہوتا ہے تو چَھٹی کا دودھ یاد آ جاتا ہے۔ "مجھے کیوں نکالا " "مجھے کیوں نکالا " کے سُرتال اور لب و لہجہ کے انداز میں ، جب محترم وزیر داخلہ بھی نیب عدالت کی دہلیز پر دوہائی دیتے اور پَٹخ پَٹخ کر بولتے دکھائی دے رہے تھے کہ "میرے ماتحت رینجرز کو یہاں کس نے لگایا، کیسے لگایا، کون لے آیا؟" اور پھر "مجھے کیوں روکا" "مجھے کیوں روکا"۔۔۔۔۔وزارت داخلہ کے دَربان کو اَسرارِ مستقبل کی مُخبری کے لئے اپنی امریکن تعلیم و تربیت کے حوالے دینے کے بجائے پہلے گریبان اور پھر امنڈتے طوفان کی طرف جھانکنا چاہیئے۔ آپ کے سوالوں کی بوچھاڑ کے باوجود، جواب کیلئے کوئی بھی جُنبِش بہ لب نہ ہوا ۔ رینجرز ساکت و جامد کھڑے رہے۔ سَر اور سِینہ تانے، آپ پر پڑنے والی اُنکی ٹیڑھی ترچھی نگاہیں، آپ کا مُضحکہ اُڑا رہی تھیں۔  بالآخر جناب کو ہی اُلٹے پاؤں لَوٹنا پڑا۔ عَقب میں فضا خاموش تھی مگر خاموشی، تَہوں میں موجود تلاطم کی زبان تھی !!
پِنگ پانگ کھیل نما پانچواں تماشا تَب دیکھنے کو ملا جب شام ڈَھلے پارلیمنٹ سے سیکیورٹی ہٹا دی گئی اور سرِ شام چینلوں پر چَخ چَخ شروع ہو گئی۔ سینٹ کے چئرمین کو کچھ پتہ نہ سپیکر باخبر ، جانے والے بِنا کچھ بتائے چلے گئے۔اور میڈیا پر جتنے منہ، اُتنی باتیں۔ ہر دانشور فلسفہء عمل، ردِ عمل کی گِرہیں کھولنے میں لگا ہوا تھا اور دُور کی کوڑیاں لا رہا تھا ۔ بظاہر بے ضَرر سہی مگر یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا جو کَل کی تلخی سے جُڑا ہوا تھا۔ کہا گیا کہ نیب عدالت کے اردگرد فورس کی تعیناتی اور وزیر داخلہ کی بَرہمی دراصل غلط فہمی اور اداروں کے درمیان مواصلاتی مَخمصوں کا ماحَصل تھی تو کیا مملکت اور آئین کی آبرو، پارلیمانِ پاکستان سے حفاظتی دَستہ کی دَست بَرداری بھی خطائے نادانستہ تھی۔ کیا کہا جائے ! عذرِ گناہ بَدتر از گناہ !!
کشمکش اور قال مقال کے اس مُعَماتی ماحول میں کور کمانڈرز کانفرس ہوئی۔ ریاست اور سیاست کے معاملات پر توجہ مرکوز رکھنے والے اربابِ دانش دَنگ رہ گئے جب کوئی اعلامیہ جاری نہ ہوا۔ غواصانِ بحر اور نَباضانِ وقت کی توقعات پر اوس پڑ گئی اور تجسس وتَحَیُر بڑھتا چلا گیا، یہاں تک کہ چند ایام بعد ڈی جی آئی ایس پی آر مَطلعء ابلاغ پر طلوع ہوئے اور مختصر مگر جامع جواب دے کر سب کی بولی بند کر دی کہ "خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے" اس طرح کچھ کہے بغیر وہ بہت کچھ کہہ گئے !!!
قارئین کرام! موضوع و مُقال کو مختصر کرتے ہوئے، حاصلِ احوال کے طور پر، چند چِیدہ چِیدہ نِکات کا نِچوڑ نظرِ اِلتفات کرنا بَر محل محسوس ہو رہا ہے
1- یہ حقیقت ہر طرح کے ابہام اور اندیشے سے مُبرا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں ملک کے ساتھ مخلص ہیں۔ ملک میں موجود کسی بھی متحرک فرد یا جماعت پر ملک دشمنی کا بہتان تھونپنے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے ۔ شخصی قباحتوں ، گروہی گناہ اور خاندانی خصائل میں خَساسَت کا وجود کسی کی محبُ الوطنی کو داغدار نہیں ٹھہرا سکتا. اخلاقی، عائلی، معاشی اور سماجی جرائم کی بنیاد پر ملک دشمنی کا لیبل چسپاں کر نا شروع کریں گے تو بحرِ حیات میں معمولی مچھلی سے مگرمچھ تک اِستثنی' محض مَعدودے چند رہ جائے گا۔ مشاہدہ کہتا ہے کہ اس حوالہ سے کسی نے اینٹ ماری تو جواب سَنگ زنی سے ملا۔ جذبات، جِدال اور جھگڑے قومی یکہجتی اور ملکی استحکام کیلئے ناسُور ثابت ہوتے ہیں۔ نفرتیں بڑھتی ہیں اور ناسور گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ مودبانہ التماس ہے، کسی کو بھارت نواز، کسی کو یہودی ایجنٹ اور کسی کو غیرملکی طاقتوں کا آلہءکار قرار دینے سے اجتناب کیا جائے۔ سیاسی کشمکش میں شُستگی اور شائِستگی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے ۔ اپنی اَہواء، اغراض اور آراء کو دوسروں کی تحقیر و تَذَلذُل کا مُوجب بنانے سے گُریز کریں۔
2- مذکورہ گذارش کا مقصد و مَنشا ہرگز ایسا نہیں کہ امن دشمنی ، راہزنی اور قانون شکنی جیسے قبیح افعال سے صَرفِ نظر کیا جائے۔ سماج دشمن کسی بھی شہری کو قوانین سے انحراف اور جرائم کے ارتکاب پر منطقی عواقب کی تادیب یا تعزیر سے مَبرُور و ماورا قرار نہیں دیا جا سکتا۔  آئین اور قانون شکن مجرموں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے مگر لازم ہے کہ ریاستی قانون اور فطری انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں۔ مستند اور ناقابل تردید شواہد کے بعد ٹرائل کیا جائے اور الزامات میں ماخوذ شخص کو صفائی کا پورا موقع ملنا چاہئیے ۔ عدالتی ماحول کا ہر طرح کے دباؤ اور مَیلان سے مُبرا ہونا مُقتضائے انصاف ہے۔ انصاف ہوتے ہوئے نظر آنا چاہئیے. قانون کا اطلاق کٍہتر و بہتر اور ادنی' و اعلی' سب کیلئے یکساں اور بلا امتیاز هوناچاہیے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف اور نوازشریف کے عدالتی سفر میں تفریق و تخصیص کے نقوش دُوہرے معیار کو مُمَیَّز کرتے ہیں۔ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں موجود ہیں جو ہمارے معیارات پر سوالیہ نشان ہیں۔۔۔!!!
3- امن ، انصاف اور عوام کی اسودگی کیلئے عدالتیں امید کی آخری کرن ہیں۔ ہمارے تحقیقاتی اداروں اور تفتیشی ایجنسیوں کی چال ڈھال تَطہیر اور تعمیر و تربیت کی متقاضی ہے۔ پولیس ، ایف آئی اے اور نیب کے اہلکاروں کے انتخاب کیلئے بڑی احتیاط کی ضروت ہے۔ بہت ساری انکوائریاں مالی مفادات اور ذاتی مَنفِعتوں کی بِھینٹ چڑھ جاتی ہیں اور بڑے بڑے مگرمچھ احتساب کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔قومی خزانہ پر گِدھوں کا راج ہے اور دودھ کی رکھوالی پر باگَڑ بِلوں کو بٹھا دیا جاتا ہے۔ عجب اَلمیہ ہے، کھیتوں کے باڑ ہی کھیتوں کو نوچ رہے ہیں۔ آزادی کے سَتر سال بربادی کرتے کرتے بِتا ديئے مگر کرپشن کا قَلع قَمع کر سکے اور نہ ایسا نظام لانے میں کوئی پیش رفت کی جس کے ذریعے مالی جرائم کے ارتکاب سے پہلے، اقدام کا سوچنا بھی ناممکن بنا دیا جاتا۔
تُہمتوں کے طُومار میں تحقیقاتی اقدامات کا دوسرا تصحیح طلب پہلو بھی لائقِ لَوَّامہ اور تلافیء تدارک کیلئے قابلِ توجہ ہے ۔اکثر ایسا ہوتے نظر آیا ہے کہ بہت سے بے گناہ اور عزت دار شہری، سرکاری اہلکاران اور ایجنسیوں کی بلیک میلنگ کا شکار رہتے ہیں۔ ہمارے جیسے معاشرہ میں خاندانی دشمنیاں ، سیاسی رَنجشیں ، علاقائی اختلافات اور مَنصبی مُنافرتیں بہت سے ناجائز مقدمات کا سبب بن رہی ہیں. سالہاسال تک معصوم اور بے گناہ شہری اذیت اور رُسوائی کی سُولی پر لَٹکے رہتے ہیں۔ شہریوں کو شَدائد سے نجات دلانا اور امن و سکون فراہم کرنا آزاد عدلیہ کا فرض ہے۔ چنانچہ تحقیق اور تفتیش کے عمل کو کسطرح شفاف اور موثر بنانا ہے، اس مقصد کیلئے راست باز اور دیانت دار اہلکاروں کا انتخاب یا تعیناتی کیسے ممکن ہو سکتی ہے ، مطلوبہ معیار کی تکمیل کے لیے ٹھوس اور دُور رَس آئینی اقدامات اور قانون و قَواعد مُرتب کرنے کی ضروت ہے۔
عدالتوں کا احترام اور عدالتی فیصلوں پر عَملداری ہر شہری کا فرض ہے۔ انصاف مہیا کرنے والے اداروں کے خلاف تنقید، تَضحیک اور تَذلیل کرنے والے اقوال و افعال پر تعزیر ہونی چاہئے کیونکہ مضبوط اور مستحکم عدلیہ ہی سماجی انصاف اور ملکی استحکام  کی ضامن ہو سکتی ہے۔
4- دھرتی کی سالمیت اور سلامتی کے ذمہ دار ادارے، بَصد کمزوریوں اور مجبوریوں کے باوجود، ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کیلئے ہمیشہ چاق چوبند اور چشم کُشا رہتے ہیں۔ اُنکے دفترِ عمل میں متوقع طور پر ہر سنگین صورتحال کے تدارک کیلئے لَوائح عمل (SOPs) تیار ہوتے ہیں۔ اپنے اقدامات کیلئے "انتظار کرو اور دیکھو " پالیسی کے بجائے، وہ پَرکھو اور پریکٹس کے اصولوں پر عمل پَیرا رہتے ہیں۔ اُنکی سوچ اور سروس لوچ پوچ کی آلائشوں سے آزاد ہوتی ہے۔ اُنہیں معلوم ہے کہ وطن کی حفاظت کا انحصار لَچھے دار خطابت اور چَرب زباں بَلاغت پر نہیں، ایثار اور عمل پر ہے۔ حفاظتی فَصِیل کی پُختگی اور پائیداری کُشتوں کے پُشتوں اور خونِ جگر بہانے سے مشروط ہے۔ ایسے جذبوں سے سَرشار اور عمل کیلئے تیار عَساکرِ وطن، وطنِ عزیز کو اندرونی طور پر بھی بازِیچہء اطفال یا شِکم پَروری کیلئے کُھلی چَراگاہ نہیں بننے دیں گے۔ کوئی چاہے بھی تو ایسا نہیں کر سکتا۔ ہر شہری کا فرض ہے کہ افواجِ پاکستان کی عزت و آبرو کی پاسداری مذھبی فریضہ کی طرح کرے۔ ملک و ملت کے پاسبانوں اور نِگہبانوں کی تعظیم و توقیر ہر شہری کے ایمان کا جُزوِ لایَنفک ہونا چاہیے۔
5- ایک جمہوری ملک کا نظم و ضبط، داخلہ خارجہ پالیسی اور پریکٹس، اقوامِ عالم سے تعلقات ، سماجی اور اقتصادی سرگرمیاں اور جملہ قومی امور کے فیصلے کرنا منتخب سیاسی حکومت کا آئینی استحقاق ہے۔ منتخب قیادت کو ہر طرح کے دباؤ اور دَبدبے سے آزاد رہ کر چلنے دیا جائے۔ تمام قومی ادارے منتخب حکومت کے ماتحت ہیں۔ برابری یا متوازی طرز کے طریقِ کار اور معاملات میں بے جا مداخلت کی روایات کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ حکومت کا محاسبہ کرنا پارلیمینٹ کا کام ہے یا آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے عدالتوں کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے ورنہ عوام اور انتخابات بہترین میزان ہیں۔ بہت بدقسمتی ہے کہ اس حوالہ سے ہماری ستر سالہ قومی تاریخ زیادہ قابلِ رَشک نہیں۔ ملکی ترقی ، سیاسی استحکام اور دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کے سامنے سًر اٹھا کر چلنے کا تقاضا ہے کہ منتخب حکومت کے بہتر اِمیج کیلئے مکمل طور پر معاونت کی جائے.
قومی جماعتیں کسی بھی ملک اور قوم کا عظیم سرمایہ ہوتی ہیں جن کا وجود بَرسہا بَرس کی ریاضت کے بعد ریاست پر ہمہ گیر حیثیت اختیار کرتا ہے اور ثَمر بار ہوتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ملکی لیول پر سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں اور چَلن ملکی سالمیت، عوام میں باہم قربت و ارتباط ، ملی موانست، جمہوریت کی بقا اور یکجہتی کا ضامن ہوتا ہے۔ خدا ناخواستہ اگر قومی جماعتیں معزول یا مفقود ہو جائیں تو علاقائی، لسانی، مذھبی، معاشی اور معاشرتی اِرتعاش کو روک سکنا ممکن نہیں رہتا۔ عصبیتوں کے اذیتناک عَفرِیت سَر اٹھاتے ہیں اور قوی تشخص تار تار ہو جاتا ہے۔  لازم ہے کہ پاکستان میں تمام ادارے اور ایجنسیاں ، میڈیا اور موثر قوتیں قومی جماعتوں کی عزت و توقیر پر آنچ نہ آنے دیں۔ اس سلسلہ میں تحقیر و تذلیل اور شکست و ریخت کے تمام منابِع بند ہونے چاہیئں البتہ یہ فرض جماعتوں کا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں کالی بھیڑوں کو نہ گُھسنے دیں۔ کرپٹ عناصر کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے باہر نکال پھینکیں۔ ایک مچھلی سارے تالاب کو گَدلا کر دیتی ہیں اور اس بات میں کیا شک ہے کہ قومی جماعتوں میں "مچھلیاں" نہیں، خونخوار فطرت مَگر مَچھ پائے جاتے ہیں جن سے رُستگاری کی روایت سیاسی جماعتوں کو خود ڈالنی چاہیے۔
6- ملک میں کرپشن، اقربانوازی اور غلط کاریوں کا قَلع قَمع کرنا ہے تو فوج اور عدلیہ کی طرح تمام وزارتوں، کارپوریشنز، اَتھاریٹیز ، صوبائی اور قومی اداروں کے سربراہوں کے انتخاب اور تعیناتیوں کا آئینی طریقہ وَضع کیا جائے اور ان کے مَناصب اور مدت کو آئینی تحفظ فراہم کیا جائے۔ ایسی ہی نوعیت کا پروسیجر ماتحت اداروں میں اختیار کیا جائے۔ تمام افسران کا ڈیوٹی چارٹر بڑا واضح ہونا چاہیے جو بہ آسانی قابلِ مواخذہ نِکات پر مشتمل ہو۔ سرکاری دفاتر ، محکموں اور اداروں کو ابا جی کی جاگیر سمجھ کر فرعونیت کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور اہلکاروں کی عادتیں درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ان لوگوں کو عوامی خدمت اور اعلی' اخلاقی اقدار کا خُوگر بنایا جائے۔ مُدتوں سے مروجہ مکروہ پریکٹس پر سختی سے پابندی لگانے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے مقامی ایم این ایز اور ایم پی ایز ضلعی دفاتر کے اہلکاروں اور پولیس افسیرز کی تعناتیاں کراتے ہیں اور پھر اُنہیں بیجا استعمال کرتے ہیں۔ ہر انتخاب کے بعد پولیس، پٹواری اور پڑھانے والا عملہ زیادہ مشقِ ستم بنتا ہے۔ منطقی طور پر عوام، انصاف اور عِلم کا تلپٹ و تاراج ہونا ایک فطری عمل ہے۔ ملک کا خزانہ منتخب قیادت کی "مارا ماری" کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ الاماشااللہ، بیشتر ممبرانِ اسمبلیز چھوٹے بڑے منصوبوں کے ٹھیکے مَن پسند ٹھیکیداروں کو دِلوا کر کمیشن کھاتے ہیں۔ایسی پابندیوں کو آئین کا حصہ بنایا جائے کہ اگر کسی منتخب ممبر نے کسی سرکاری اھلکار کے تبادلے یا ٹھیکوں کی تَفوِیض میں مداخلت کی تو ثابت ہونے پر اُسے نااھل قرار دیا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف کرپشن کا خاتمہ ہو گا بلکہ رشوت اور کمیشن خوری سے مُبرا منصوبے بھی اپنی تعمیر اور تنفیذ کے لحاظ سے بہت معیاری اور پائیدار ہونگے۔ مُستزاد، ممبرانِ اسمبلیز کو صرف اپنے اصل فرض یعنی  قانون سازی تک محدود رکھنے سے پیشہ ور حًریص اور بد فطرت سیاستدان، سیاست کا دامن چھوڑ دیں گے۔ اچھا ہو گا کہ خس کم جہاں پاک۔
7- سیاستدان بھی ملک اور قوم پر تَرس کھائیں۔ اپنا رُخ اور رَویے درست کریں۔ جو لوگ ملکی تعمیر اور عوام کی خدمت کے بجائے رعب داب اور لُوٹ مار کرنے کی نیت سے الیکشن لڑتے ہیں، اب رحم کریں اور ملک و ملت کو معاف کر دیں۔ ویسے بھی وہ بدلتے حالات کے سانچے میں خود کو نہیں ڈھال پائیں گے۔ سبق کیلئے جناب نواز شریف کی وزارت عظمی' کا حَشر نَشر ایسے لوگوں کے سامنے ہے۔ معافی تلافی اور دَرگُذر کا زمانہ جاتا رہا۔ میڈیا سرگرم ہے۔ ادارے متحرک ہیں اور عدالتیں آزاد، لہذا پاؤں کی بیڑیاں اور احتساب کے پَھندے، ہر وقت ایسے لوگوں کیلئے اب شہہ رگ سے بھی قریب رَہیں گے
دوسری اہم بات صبر و تحمل ، سنجیدگی اور سلیقہ مندی سے عبارت ہے۔ ایک قومی انتخاب کے بعد ، اِقتضائے انصاف یہ ہے کہ پانچ سال انتظار کریں۔ بر سبیلِ بحث خیال آیا کہ اگر مُدتِ انتخاب پانچ سال سے کم کر کے چار سال کر دی جائے تو سیاست سُکھ کا سانس لے گی اور سیاستدانوں کا ہاضمہ بھی زیادہ خراب نہیں ہو گا۔ بہر کیف سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے اور عوام میں خلفشار پیدا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ سڑکوں اور چوراہوں کو بلاک کرنا، دَھرنے لگانا اور گالی گلوچ دینا اچھا شیوہ نہیں۔ احترام و تکریم کی تہذیب کو پروان چڑھانا چاہئے ۔ سیاسی جماعتیں اپنے اندر جمہوری روایات کو فروغ دیں۔ مجبوری نہ ہو تو موروثیت کوئی اچھا مُستَعمِل نہیں. عام طبقوں کے باصلاحیت ساتھیوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیں۔
بات نون لیگ کے کنونشن ، کاروائی، قیادت کی باتوں اور درپیش گھاتوں سے شروع ہوئی تھی۔ اختتام پر لیگی قیادت سے اتنا عرض کرنا ہے کہ درپیش خطرات کو ملحوظِ خاطر رکھیں اور اپنے رَویوں کیطرف رجوع کر لیں۔ شریف فیملی میں اختلاف اور انتشار کا جاری سلسلہ، مستقبل کیلئے اضطراب کے پہاڑ کھڑے کر سکتا ہے۔ معمولی سی بےصبری، غیرمعمولی عواقب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ حَوارین کیطرف سے ھَلاگُلا، وقوعِ حوادث کو جواز فراہم کر سکتا ہے۔ بلاشبہ سیاسی اِحیا اور بقا کیلئے نوازشریف کی سوچ ، اپروچ اور جدوجہد حِکمت اور تقاضوں سے تَہی نہیں لیکن اُنہیں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ وما عَلینا اِلَا الٌبَلاغ ۔
اِن دنوں گاؤں میں ہوں۔ شبِ دِیروز زیرِ نظر کالم لکھنے بیٹھا تو پڑوس میں کوئی دہقان ٹریکٹر چلا رہا تھا۔ وہاں سے ایک پرانے گیت کی صدائے بازگشت نے متاثر کیا اور میں نے کالم کو گیت کے ابتدائی بول سے مَعنُون کر دیا.......

کچھ بھی نہ کہا اور کَہہ بھی گئے
کچھ  کَہتے  کَہتے  رَہ  بھی  گئے۔۔!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *