پاکستان کو ہوشمندی سے کام لینا ہوگا

طلعت مسعودtalat masood

پاکستان اپنی ہی حماقتوں کے نتائج بھگت رہا ہے۔ بہت سی ایسی مثالیں ہیں جس سے پاکستان کی تباہ کن پالیسیوں کو  ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان دہ چیز یہاں  کا سول ملٹری عدم توازن  کا مسئلہ ہے۔ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جسے ہمیشہ ایک عام معاملہ قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے۔ اس کی وجہ سے ہمارے ملک کا امیج خراب ہوتا ہے، اور بیرونی طاقتیں اس کا بھر پور فائدہ اٹھا کر ہمارے ملک کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

اس عدم توازن کی تازہ ترین مثال اس وقت دیکھی گئی جب احسن اقبال ، وزیر داخلہ' کو نواز شریف کے کیس میں حاضری سے روک دیا گیا۔ یہ ایک عجیب و غریب واقعہ تھا  جس نے ملک میں بہت ہی بے چینی پیدا کی۔ کون صحیح تھا کون غلط  اس پر مہینوں بحث کی جا سکتی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس سے سویلین اور فوجی ذرائع کے بیچ دراڑ نظر آتی ہے۔ اس کے بعد کارپس کانفرنس  نے بھی جو سات گھنٹے تک جاری رہی ملک میں ایک تشویش پیدا کیے رکھی اور اس کے بعد آئی ایس پی آر نے اس کانفرنس کا اعلامیہ بھی جاری نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس  نے بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید واضح کیا۔

یہ دیکھے بغیر کہ کونسا ادارہ کم یا زیادہ قابل اعتماد ہے ، جب بھی اداروں میں تصادم ہو تو اسکا پہلا نقصان پاکستان کو ہوتا ہے۔اس کی ریپوٹیشن، وقار، قومی طاقت اورانٹرنیشنل   لیول پر عزت سب کچھ داو پر لگ جاتا ہے۔  اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں ادارے اپنے ذاتی مفاد کے لیے قومی مفاد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اس سے بڑا کونسا حادثہ ہو گا جو ہمیں اپنی راہ درست کرنے پر آمادہ کر سکے گا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی، کارگل جنگ  جیسے بڑے حادثے بھی ہمیں ہلانہیں سکے۔ اس وقت بڑھتا ہوا بھارتی امریکی دباو بھی ہمیں کچھ سیکھنے پر آمادہ نہیں کر پا رہا۔ ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جب اداروں نے سیاسی جماعتوں کو آپس میں لڑا کر ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ وہ الیکشن کے نتائج پر بھی اثر انداز ہوتے رہے ہیں تا کہ اپنی طاقت کو بچا  سکیں۔ اس طرح کا سب سے بڑا معمہ 1990 کی دہائی میں دیکھا گیا جب ایک بڑی سیاسی پارٹی بھی اس گیم کا حصہ بن گئی۔ اب صرف یہ امید ہی کی جا سکتی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور فوج ماضی سے سبق سیکھیں گے اور غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔

جب مشرف نے بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کے لیے کشمیر کو سٹیٹس کو کے زریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی تو انہیں بہت پذیرائی ملی۔ لیکن جب ن لیگ اور دوسری سیاسی جماعتیں بھارت سے امن اور دوستی کرنا چاہتی ہیں اور تجارت کو فروغ  دینے کے لیے مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالتی ہیں تو  ان کو بہت مختلف رد عمل کا سامنا کرنا  پڑتا ہے۔

اگر کوئی شخص مختلف پالیسی رکھتا ہے تو اس کا یہ مطلب  نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ملک کو بیچنے پر تلا ہوا ہے۔ جمہوریت میں اختلاف رائے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور حب الوطنی کی سوچ بھی مختلف ہو سکتی ہے۔ ایک چیز جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اور بھارت جیسے ملک اس ملک کی سول ملٹری تنازعات سے بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔ امریکہ پاکستان کی فوجی کمان سے ہی مذاکرات پر آمادہ ہوتا ہے اور سول قیادت کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ اشرف غنی سے قمر باجوہ کی ملاقات اس چیز کا واضح ثبوت ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ پاکستان میں اقتدار اصلا کس کے ہاتھ میں ہے۔ ایک اور افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ سول ملٹری تنازعہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ نواز شریف کو حکومت سے باہر کرنے کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ بہت کم لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک کے اندرونی جھگڑوں سے ملک کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے۔ الیکشن قریب آتے آتے یہ جھگڑا مزید بڑھتے جانے کا شبہ ہے۔ جس طرح ایک شخص جان بوجھ کر اقتدار ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اسی طرح ادارے بھی طاقت سے خود کو محروم نہیں کرنا چاہتے۔ اس کی مثالیں ہمارے ملک کے علاوہ باقی دنیا سے بھی  ملتی ہیں۔ اگر سول  لیڈر شپ کو  اپنا پلڑا بھاری رکھنا ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ گورننس میں بہتری لائیں ، قانون سازی کے عمل اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مستعدی کا مظاہرہ کریں۔ اس طرح یہ امکان پیدا ہو سکتا ہے کہ عوام سویلین قیادت پر بھروسہ کرنے پر آمادہ ہو جائیں  اور ملک میں حالات بہتر ہونے لگیں۔ لیکن اس کے پیچھے بہت بڑا 'اگر' کا لفظ ہے۔ لوگ مجھے یہی مشورہ دیں گے کہ اپنے خوابوں میں کھوئے رہو۔ وہ منفی طرز انداز اختیار کرتے ہوئے میرے ان مشوروں کو مسترد کر دیں گے لیکن میرا ان سے یہ سوال ہے کہ اس کے بغیر حل کیا ہے؟  اتنے زیادہ چیلنجز کے ہوتے ہوئے کیا ہمارے پاس گنجائش ہے کہ اس طرح کے پھسلن والے راستے پر چلتے رہیں؟

پہلے اقدام کے طور پر سینیٹ کی یہ تجویز  کہ تمام اداروں کو آپس میں مذاکرات کرنے چاہیں  بہت سنجیدہ نوعیت کی ہے اس لیے اسے سنجیدگی لے لیا جانا چاہیے۔ میرا مشورہ ہے کہ اگر آئینی یا ٹراڈیشنل رکاوٹیں  پیش آئیں تو کسی ریٹائرڈ چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے جج  کو پینل کا حصہ بنایا جائے نہ کہ کسی موجودہ جج کو۔ ایسے ایک ادارے کا قیام فوری طور پر لازم ہے کیونکہ الیکشن قریب آ رہے ہیں اور بیرونی دباو بھی بڑ رہا ہے کیونکہ بیرونی طاقتوں کو ہماری کمزوریوں کا اندازہ ہے۔ ہمارے تھنک ٹینکس کو فوری طور پر ان مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہیے   تاکہ دوسرے ممالک جن کو ایسے مسائل کا سامنا ہے وہ بھی اس راستے پر چل کر اپنے مسائل سے نمٹ سکیں۔ یہ سب تبھی ممکن ہے جب تمام سٹیک ہولڈرز اندرونی اختلافات کو سنجیدگی سے لیں گے  اور بہتر پالیسی کے ذریعے ان تمام معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

ایسی توقع رکھنا  مبالغہ آرائی نہیں ہو گا کہ اگر  اس معاملے میں تھوڑی بہتری آ جائے تو گورننس اور پالیسی میکنگ کے عمل میں بہتری کی راہ ہموار ہو اجائے گی۔ اگر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو اس کی خاص تاریخ اور حالات  کی وجہ سے اصلی مقصد سے نظریں ہٹائے بغیر ایک معنی خیز  ٹرانسفارمیشن کی ضرورت ہے  تو اس کا فیصلہ بھی اتفاق سے کیا جانا چاہیے۔ نفرت کی سیاست اور اپنے سیاسی مخالفین پر حملے ہمارے ملک میں جمہوریت کو مزید کمزور بنا رہے ہیں  اور لوگوں کی زندگی میں بہتری لانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی سال سے یہ ملک مذہبی، فرقہ وارانہ، نسلی  تعصب اور سول ملٹری تعلقات میں عدم تواز کی وجہ سے مسائل کا شکار ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ادارے مل بیٹھ کر اپنی قوم کی مثبت توانائی کو اجاگر کرنے پر محنت کریں۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *