پھانسی کے بعد لاش کے گڑھے میں گرنے کی آواز میں کبھی نہیں بھول سکتا

بشکریہ:ڈان

سہیل یافتHang-till-death

 جب قیدی سزائے موت کا پیغام سنتے ہیں تو جیل میں سناٹا چھا جاتا ہے۔ پاکستان کے ہر جیل کی طرح  ساہیوال سینٹرل جیل بھی بھرا پڑا تھا۔ یعنی جتنے قیدیوں کے لیے بنایا گیا تھا اس سے زائد قیدی وہاں بند تھے۔ جب میں 10 سال کے لیے قید تھا تو تعداد کی وجہ سے بہت شور ہوتا اور میں سو نہیں پاتا تھا۔ قیدیوں کے خراٹوں،رونے دھونے ، اور سوتے ہوئے ڈر کر چیخوں کی وجہ سے کوئی سو نہیں پاتا۔خاص طور پر جب پتہ چلتا کے ہم میں سے کسی کو پھانسی کی سزہ سنا دی گئی ہے۔ ہم خاموش ہو جاتے پر سو نہیں پاتے تھے۔

وہ پھانسی کی سزا والے قیدی کو الگ کر دیتے تھے۔ تو ہمیں اندازہ ہو جاتا تھا کہ اس کا وقت آگیا ہے۔ اور ہم میں سے وہ بھی افسردہ ہو جاتے تھے جن کا سزائے موت کا معاملہ نہیں تھا۔اور جانوروں کی طرح ڈربے میں بند ہم صرف دعا گو ہو سکتے تھے کیوں کہ زمین کے طاقت ور دہائی نہیں سنتے تو ایک ساتھ اوپر والے کو پکارتے کہ وہ رحم و کرم کرے ملزموں کی جگہ ان ظالموں کو سزا دلوائے۔ ہم سب کو پتہ تھا کہ قیدیوں کی گنتی کرنے والا سکیورٹی گارڈ اگر لیٹ ہے تو پھانسی ہو چکی ہے۔ عام دنوں میں وہ 5:30 پر صبح آتا لیکن پھانسی کے دن وہ 8:00 بجے آیا کرتا تھا۔ س دن ہم سب خاموش رہتے اور ٹی – وی ، ریڈیو کچھ نہ دیکھتے تھے۔ پاکستان کے جیل صاف رہتے ہیں کیوں کہ صفائی خود قیدی کرتے ہیں ان کے پاس اس کے علاوہ کچھ کرنے کو نہیں ھوتا اور کبھی کبھار وہ قیدی کو بھانسی کے لیے لے جانے میں بھی مدد کرتے ہیں اور وہی پھانسی کے 30 منٹ بعد لاش کو نکالنے کے بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ یہ پاکستان کے قیدیوں کے حوالات کے رولز میں شامل ہے۔ وہ لاش کو دھوتے بھی ہیں اور فیملی جو باہر چار پائی اور جوڑا کپڑوں کا لیے جیل کے باہر انتظار کر رہے ہوتے ہیں ان کے سپرد بھی کرتے ہیں ۔ فیملی کو اپنی طرف سے اہمبیولینس کا انتطام بھی کرنا ہوتا ہے۔جیل کا ایک قبرستان بھی ہے جہاں لا وارث لاشوں کو دفنایا جاتا ہے۔ اسی لیے وہاں اتنی قبریں نہیں ہیں۔ عام طور پر ہماری فیملیاں ہوتی ہیں ۔اس آسیب زدہ دنیا میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو ہمیں انسان سمجھتے ہیں نہ کی مجرم ۔ہم بھی کسی کے لیے کوئی اہمیت رکھتے ہیں۔

2006 میں مجھے ایک میرے ساتھی قیدی کی پھانسی کا عینی گواہ بنایا گیا۔ میمی پابل ایک گھبرو، چھ فٹ لمبا ،بھاری آواز والا آدمی تھا ۔ کئی سال سے وہ ساہیوال سنٹرل جیل میں تھا اور ہم میں سے اکثر کا دوست تھا۔ اور جیل کے اہل کار بھی اس کے دوست تھے ۔یہ بھول جانا بہت آسان تھا کہ اسے قتل کے مقدمے میں سزا ہوئی تھی۔ ۔وہ مزاق کرتا کہ "میں نے بہت جرم کیے جن پر  مجھے یہاں لایا جا سکتا تھا لیکن جو جرم میں نے نہیں کیا اسی کی سزا  میں بگھت رہا ہوں۔ "

جب اس کے لیے موت کا اعلان ہوا تو وہ بچوں کی طرح ر و پڑا۔ جب اسے  پھانسی ہوئی تو میڈیکل آفیسر ، میجسٹریٹ، جیل سپریٹنڈ ، بلیک سمیتھ، اور دو فیملی کے افراد وہاں موجود تھے ۔وہاں موجود جیل سٹاف بار بار فیملی کو یاد کراتے کہ وہ اسے(میمی) کو معاف کر دیں۔

سپریٹنڈنٹ نے اسے کلمہ پڑھنے کا کہا۔ مجھے لگتا ہے میمی نے نہیں سنا۔ وہ ایک ہی بات چلا رہا تھا کہ اس نے گناہ نہیں کیا  اسے پھانسی دینا انصاف نہیں قتل ہو گا۔ حتی کی جب اسے کالا کپڑا پہنا دیا گیا تب بھی اپنی آخری سانسوں میں وہ زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔

 پاکستان کی ریاست میں بمشکل ہی جلاد موجود ہوتے ہیں اس دن بھی جلاد نہیں تھا تو جیل وارڈن نے ہی لیور کھینچا۔ اس نے لیور کھینچ کر سجدا کیا اور کیا کہ میں مجبور تھا میمی۔ مجھے ایسا کرنا پڑا تم مہربانی کر کے مجھے معاف کر دو۔

آپ کبھی لاش گڑھے میں گرنے کی آواز نہیں بھول سکتے۔ بیم کے چرچرانے سے زیادہ دم گھٹنے اور ہڈیاں ٹوٹنے کی آواز ہوتی ہے ۔ اور صرف اتنا احترام دیا جاتا ہے کہ اس کپڑے کو ڈال کر  سانس گھٹنے سے زبان کا منہ سے باہر لٹکنا نہیں دیکھاتے۔

جیل کے کارکنان پر جان لینے کی طاقت کا بہت اثر ہوتا ہے۔وہ بھی اپنے کیے پر افسردہ ہوتے ہیں۔ اور اگلے دن بھی وہ قیدیوں کے ساتھ اتنی سختی سے پیش نہیں آتے۔  آخر کار انہوں نے بھی کسی ایسے کو کھویا ہوتا ہے جسے وہ روز کئی سال تک دیکھتے ہیں۔

کوئی بھی کام آپ سے اتنا سب نہیں مانگتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *