آئی ایس آئی پر دو نئی اہم کتابیں

thomasتھامس رکس
ڈیانا بولسنگر کی کتاب: پاکستانی افئیرز کا بہترین ڈیفنس آفس
پاکستان کی آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ کی حرکات پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہماری الماریاں بھی ایسی بہت سی کتابوں سے بھری نظر آتی ہیں جن میں اس ایجنسی کے کردار کو پرکھا جاتا ہے۔ بہت سی کتابوں میں ISI کےمبینہ طور پر دہشت گردوں سے تعلقات ، CIA کے ساتھ رابطہ ، اور بڑی کہانیوں میں ملکی استحکام پر اس کے اثرات کا مباحثہ دیکھنے کو ملتا ہے، جن میں سٹیوکال کی کتاب 'گوسٹ وار(خفیہ جنگ)'، احمد راشد کی 'ڈیسنٹ انٹو کیاس(برے حالات میں گراوٹ)'، اور حسین حقانی کی ' پاکستان :Between mosque and military(پاکستان:مسجد اور ملٹری کے بیچ دھنسا ہوا ملک)' شامل ہیں۔
حیران کن طور پر اب تک کسی نے سنجیدگی سے ISI پر انٹیلیجنس سروس ایجنسی کے طور پر غور نہیں کیا۔ دو کتابیں جن میں اس موضوع پر بات ہوئی ہے ان میں سے ایک گزشتہ جولائی کو ریلیز ہوئی ہے اور دوسری انگریزی میں نئی نئی ترجمہ کی گئی ہے میں نہ ہی بڑے سوالات کو حل کیاگیا ؛ جیسے کس کو پتہ تھا کہ بن لادن ابٹ آباد میں ہے۔ ، یا کس نے پرائم منسٹر بے نظیر بھٹو اور پریزیڈنٹ ضیاء الحق کو مارا،لیکن نئے نئے نقطہ نظر پیش کیے جاتے ہیں کہ پاکستانی جمہوریت اور علاقائی استحکام پر ISI کے کیا اثرات ہیں۔
سابقہ ڈی آئی اے سینئر انٹیلیجنس انلسٹ اوون ایل سِرس کی کتاب : پاکستان کی آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ : خفیہ اور اندرونی آپریشنز' سب سے بہترین کتاب ہے۔ سِرس نے ISI کی "قومی بقا کی جنگ " پر تحقیق کی جس میں پاکستان کی تقسیم کے عوامل پر روشنی ڈالی، اور ایسے معاملات کی گہرائی میں گئے جن کی بنیاد پر تقسیم کاواقعہ پیش آیا۔ آئی ایس آئی جو کہ تقسیم کے بعد ایک سٹارٹ اپ آپریشن کے طور پر سقوط ڈھاکہ کے بعد قائم ہوئی ، نے سی آئی اے کے ساتھ مل کر اپنی استعداد کو بڑھایا تا کہ ہمسایہ ممالک افغانستان اور بھارت میں خفیہ آپریشز جاری رکھے جا سکیں۔ سِرس نے اس ٹرانسفارمیشنل افغان پروگرام پر تفصیلی بحث کی ہے جس کے ذریعے 1973 سے 1991 کے عرصہ میں اسلام پسندون کی مدد سے طالبان کو کھڑا کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سرس نے یہ بھی بہت اچھی طرح بیان کیا کہ کس طرح آئی ایس آئی کا اندرونی نظم اسلامائزیشن کے تحت ہے۔ ان کے خیال میں یہ ایجنسی ملک کے با اختیار اداروں کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ نہیں سمجھتی۔ ان کو لگتا تھا کہ یہ ایجنسی GHQ یعنی جنرل ہیڈ کوارٹر کے لیے کام کر رہی ہے۔ مجھے شک ہے کہ انہوں نے سولین لیڈرز کے ISI پر اثرات اور رسائی کے کے بارے میں غلط اندازا لگایا تھا ۔ بینظیر بھٹو ، نوازشریف اور باقی سب نے اپنے دشمنوں کے خلاف ISI کو استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن اس سازباز کی وجہ سے ایجنسی کا اعتماد متاثر ہوا۔
سررس کا دعوی کہ ISI بنیادی طور پر پاکستانی جمہوریت کے لئےخطرہ ہے، کوئی نئی خبر نہیں ہے لیکن پھر بھی انہوں نے کچھ نئے انکشافات ضرور کیے ہیں۔ ان اہم مسائل کہ آئی ایس آئی الیکشن پر اثر انداز ہوتی ہے، ناقدین کو خاموش کرتی ہے، فوجی بغاوت کی حمایت کرتی ہے ، سرس بتاتے ہیں کہ ISI کی کمزوریاں ملک کےلیے عدم استحکام کا باعث ہیں۔ ISI اندرون اور بیرون ملک خفیہ آپریشنز کرسکتی ہے اور کر رہی ہے ۔ لیکن جو چیز ISI نہیں کرتی وہ یہ ہے کہ اس کا اصل کام جو انٹیلی جنس سروس کو کرنا چاہیے یہ وہ نہیں کرتی جن میں معلومات اکٹھی کرنا،ان کا جائزہ لینا، اور ان کے مطابق پالیسی ترتیب دینا ہے۔ اچھی انٹیلی جنس سروس ہر اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے جو جنگ کا باعث بن سکتی ہو۔ لیکن ISIاس امتحان میں بار بار ناکام ہوئی ہے، جیسے کہ 1970 میں بنگلا دیش کی الگ ملک کی تحریک سے اور 2008 میں ممبئی میں ہونے والی خون ریزی سے بچا جا سکتا تھا۔نظریات، خواہشات اور سیاستدانوں پر ملک سے اخلاص پر شک ایسے معاملات ہیں جو اس ایجنسی کی بنیادی خصوصیات ہیں جو پاکستان کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان ڈال دیتی ہیں۔
دوسری کتاب ، ہین جی کیسلنگ نے لکھی جس کا عنوان ہے: ایمان ، اتحاد ، تنظیم؛ دی آئی ایس آئی آف پاکستان "۔ یہ کتاب غیر معمولی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔ کیسلنگ تقریبا دو دہائیاں پاکستان میں رہے اور ان کی سابق ISI کے ڈائیریکٹر جنرل تک آسان رسائی تھی۔ انہوں نے سِرس کی طرح تاریخ کے تناظر میں اس ایجنسی کی خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے یہ الزامات مسترد کیے کہ سخت اور منظم قیادت میں یہ ایجنسی ہٹ دھرمی سے غلط آپریشن کرتی ہے۔ ۔ سرس کی ISI کے قیام اورڈیویلپمنٹ کے بر عکس کیسلنگ کا موضوع ISI کی تنظیم ، ماضی کے تنازعات اور ذاتی ملٹری اور سویلین لیڈروں کے اختلافات ہے۔ ان کا سابق ISI ڈائیریکٹرزجن میں جنرل محمود احمد شامل تھے کے ساتھ انٹرویو سے معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ تمام سیاسی رہنماوں کی نیت پر شک کرتے ہیں۔
بد قسمتی سے، کیسلنگ نے اپنے کیس میں اس آئی ایس آئی سربراہ کے بیان کو رد کرنے کےلیے ناقابل قبول ذرائع اور اندازوں کا استعمال کیا جس سے سازشوں کے بارے میں ان کے نکات کی اہمیت کم پڑجاتی ہے۔ انہوں نے ISIپر اغواہ اور سیاسی پروپیگنڈا کے طور پر قتل کے الزامات مسترد کر دیے۔ آئی ایس آئی کی افرادی قوت کو کمزور قراردیتے ہوئے کہتے ہیں ضیاالحق کے جاں بحق ہونے کے معاملے میں ساری انگلیاں امریکہ کی طرف اٹھتی ہیں۔ کیسلینگ کا ماننا ہے کہ ISI پر تنقید بلا جوازہے اور اس کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔جبکہ مخالف انڈیا کی RAW کے کردار کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس عدم توازن سے نمٹنے کی کوشش میں کیسلنگ اپنے ذرائع کو قابل قبول اور مستند قرار دیتے ہیں اور انہوں نے ISI کے بیان کو کھل کر واضح کیا جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان میں گمشدگی کے معاملات یا تو موجود ہی نہیں ہیں یا یہ گم شدہ لوگ ساتھی دہشت گردوں کے قبضہ میں ہیں اور یا پھر یہ گمشدہ لوگ ذہنی مریض ہیں جو دوسرے شہروں میں چلے جاتے ہیں۔ وہ دعوی کرتے ہیں کہ 11/9 ایک اندرونی سازش تھی۔
یہ دونوں کتابیں پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کےلیے آئی ایس آئی کے کردار کوسمجھنے کی ضرورت کو اجاگرکرتی ہیں۔ بہت سے ISI آپریشن بہت سارے مسائل سے گھرے ہوئے ہیں جیسے اندرون اور بیرون ملک دہشت گردی کے حملے وغیرہ ۔ اور کوئی بھی ملک کسی پر اعتماد انٹیلی جنس کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔سررس کہتے ہیں کہ پاکستان کی سیاست کو ختم کرنے والی راہیں GHQ سے نکلتی ہیں، لیکن پاکستان اور بھارت کے بیچ جنگ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے بہترین طریقہ ایک منظم ، قابل اعتماد، پروفیشنل اور غیر سیاسی انٹیلی جنس کا قیام ہے جو سویلین حکومت کے تحت کام کرے۔ ابھی تک آئی ایس آئی نے یہ معیار حاصل نہیں کیا لیکن جیسے جیسے عوام ان خفیہ آپریشنز سے واقف ہو رہے ہیں، یہ اقدام راہ راست کی طرف گامزن ہونے کا ایک اشارہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *