ضرورت برائےشدت پسند خواتین

رافعہ ذکریاrafia 2

کچھ ماہ قبل پاکستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان نے خواتین میگزین کا اجر اکیا۔ سنت خولہ نامی اس میگزین کے ذریعے مسلم خواتین کو جہاد کےلیے نکلنے پر ابھارا گیا اور اس مقصد کےلیے کچھ خواتین ڈاکٹرز کی ذاتی کہانیاں بھی پیش کی گئیں۔ یہاں تک کہ ایک بچے کی مجاہد کی  طرح ہتھیار اٹھائے ہوئے تصویر بھی شائع کی گئی تھا کہ خواتین کے جذبات پر بھر پور طریقے سے وار کیا جا سکے۔ اس سب کا مقصد بہت واضح تھا۔ شدت پسندی کو ایک ہیروازم سے تعبیر کرنا ، اسے مذہبی فریضہ قرار دے کر خواتین کو ہتھیار اٹھانے پر آمادہ کرنا،  تا کہ یا تو وہ خود یا اپنے بچوں اور خاوندوں کو جہاد پر آمادہ کر سکیں۔

پچھلے ہفتے داعش نے ایک بار پھر خواتین کو جہاد کے میدان میں آنے پر ابھارا ہے۔خواتین کو داعش میں شمولیت پر کی گئی پچھلی کوششوں کے بر عکس اس بار  انگریزی زبان کی بجائے عربی زبان میں ایک آریٹیکل کے ذریعے خواتین کو اپنا مذہبی فریضہ پورا کرنے کی ذمہ داری یاد دلائی گئی ہے۔ اس آرٹیکل کا عنوان  بھی اسی مناسبت سے 'واجب النسا' رکھا گیا ہے۔  

شروع کے دنوں میں داعش خواتین کو صرف اس لیے لڑنے پر آمادہ کرتی تھی کہ ان کے لیے لڑنا جائز ہے لیکن اب داعش نے اپنا موقف بدل کر خواتین کےلیے جہاد کو لازمی فریضہ قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کی مسلمان خواتین کو داعش میں شمولیت پر ابھارا ہے۔داعش کے پیغام میں کہا گیا ہے: آج داعش کے خلاف متحد دنیا کو شکست دینے کےلیے خواتین کے لیے لازم ہے کہ اپنے مذہبی فریضہ کو اپناتے ہوئے اپنے مجاہد بھائیوں کی مدد کو پہنچیں۔ اور خواتین کو اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں جان قربان کر کے  اپنے مذہب کا دفاع کرنے کےلیے تیار رہنا چاہیے۔  اپنے اس حکم کو پر اثر بنانے کےلیے صحابہ کرام کے شانہ بشانہ لڑنے والی صحابیات کو بطو ر مثال پیش کیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے بر عکس داعش کافی عرصہ سے خواتین کو بھرتی کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش میں ہے۔ جب اس گروپ نے رقہ پر ابتدائی دنوں میں قبضہ کیا تھا اس کا کریڈٹ ان خواتین کو بھی دیا گیا جنہوں نے الخنسا بریگیڈ کی صورت میں لڑائی میں حصہ لیا ۔ خواتین نے ایسی تمام خواتین کو بھی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جو داعش کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کرنے کی ہمت کی۔  اس خواتین گروپ نے ایسی تمام خواتین پر غصہ نکالا جو پورا نقاب نہیں پہنتی، اپنے سرپرستوں کے بغیر اکیلے سفر کرتی ہیں یا اونچی آواز سے اپنے سرپرست مردوں سے بات کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گروپ کے فیمیل ریکروٹر نے مختلف ممالک سے خواتین کو اپنی طرف مائل کرنے کا سلسلہ شروع کیا  اور اس مقصد کے لیے لڑکیوں کو داعش کے ساتھ ملنے کے نتائج کے طور پر بہترین ثمرات کے خواب دکھائے۔ اس مقصد کےلیے ایک خاتون الخنسا جو ایک شاعرہ  ہیں اور نصیبہ جو ایک جنگجو ہیں کی خدمات حاصل کی گئیں۔

گروپ میں افراد کی تعداد بڑھانے کےلیے مذہب کو ہر لحاظ سے استعمال کیا گیا اور ا س مقصد کےلیے اسلامی تعلیمات کو اپنے طریقے سے بیان کر کے پیش کیا گیا۔تفصیلات میں بتایا گیا کہ خواتین کو مردوں کے ساتھ سپورٹنگ رول ادا کرنا ہو گا اور وہ مردوں کے فیصلوں پر پابند رہیں گی۔  گرمیوں کے موسم کے آغاز میں داعش کے برے دن شروع ہو گئے۔ جب جنگجووں کی تعداد میں کمی ہونے لگی تو داعش کے لیڈروں کو پریشانی لاحق ہو گئی۔ تب ایک آرٹیکل شائع کیا گیا جس میں خواتین کو بھی اسلام کے دفاع کےلیے بندوق اٹھانے پر ابھارا گیا۔ مصنف نے آرٹیکل میں لکھا کہ خواتین کو بلانے کا مقصد یہ نہین ہے کہ مرد کم ہیں بلکہ خواتین کو اپنے  مذہبی فریضہ جہاد کو پورا کرنے کے لیے مردوں کے شانہ بشانہ لڑنا چاہیے۔

اب کوئی یہ نہیں کہہ پائے گا کہ خواتین کی مدد  کی آواز لگانا مردوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے۔ پچھلے ہفتے مسلمان عورتوں کو جہاد  کا فریضہ سر انجام دینے کےلیے ابھارنے کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ دہشت گرد گروپوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اب ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق 1000 سے زیادہ داعش جنگجوں نے کردش ملٹری کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ ان کے کمانڈر نے انہیں اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کا کہا تو انہوں نے سرنڈر کرنے کا فیصلہ کیا  کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ اس طرح کو بچ سکتے ہیں۔ جب اس قدر بڑی تعداد میں ایک فوج کے سپاہی رخصت ہو رہے ہوں تو داعش کو خواتین کی ضرورت تو پڑنا ہی تھی۔  

اس پوری کہانی سے ایک ہی چیز واضح ہوتی ہے۔ دہشت گرد گروپ  تاریخ، مذہب اور تعلیمات کو اپنے مقاصد کے لیے ضرورت کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔جب ان گروپوں کو کسی علاقے پر قبضہ حاصل ہوجاتا ہے تو خواتین کو بے کار سمجھ لیا جاتا ہے انہیں تنہائی کا شکار کیا جاتا ہے اور انہیں جانوروں کی طرح قید رکھا جاتا ہے۔ خواتین پر ظلم و ستم کےلیے دوسری خواتین کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔  

ان لمحات میں ان گروپوں کےلیے ایمان صرف علیحدگی، دوری اور حقارت کا رویہ ہے جو وہ کمزور خواتین کے خلاف دکھاتے ہیں۔اب جب یہ گروپ شکست کھا رہے ہیں تو یہ خواتین کو بھی شانہ بشانہ لڑتا دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں یاد آ گیا ہے کہ خواتین مردوں کے برابر ہیں اور لڑنا ان کافرض ہے۔  اپنی جان جاتے دیکھ کر انہیں وہ تمام حقائق اور تعلیمات بھول گئے ہیں جس کے تحت یہ خواتین کو گھروں میں قید رکھتے تھے اور ان پر ظلم و ستم کرتے تھے۔

مسلمان خواتین مسلمان مردوں سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ مذہب کے نام پر مردوں کو دہشت گرد گروپوں میں بھرتی کر لیا جاتا ہے  لیکن خواتین کو مذہبی فرائض کا درس دے کر ایسے غلط اور قتل و غارت جیسے منصوبوں میں شمولیت پر راضی نہیں کیا جا سکتا۔ مسلم خواتین یہ جانتی ہیں کہ جس تشدد پسندی کی طرف داعش انہیں دعوت دے رہی ہے یہ وہی شدت پسندی اور ظلم ہے جس کا وہ خود سامنا کرتی آئی ہیں اور جو انہیں کسی صورت پسند نہیں ہے۔

جو مرد خواتین پر تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں اور خواتین پر تشدد کو ایک مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں وہی اب چاہتے ہیں کہ خواتین بھی ہتھیار اٹھا لیں اور ظلم کا شکار خواتین کو تشددسے نجات دلائیں۔ چاہے گروپ داعش ہو یا تحریک طالبان، یا کوئی اور دہشت گر دگروپ، یہ مسلمان عورتوں کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ خواتین ان کے بہکاوے میں آ کر قتل و غارت کو اپنا مذہبی فریضہ نہیں بنائیں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *