الیکشن ایکٹ 2017 پر تنازعہ کی اہم وجوہات

احahmed-bilal-mehboobمد بلال محبوب

پارلیمان میں پچھلے ہفتے پیش آنے والے دو واقعات نے ہمارے قانون سازی کے عمل کی خامیوں اور زیادہ تر پارلیمان  ممبران کی اہم  معاملات میں عدم دلچسپی کو واضح کر دیا ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017 پر بحث ہو رہی تھی جو پارلیمانی کمیٹی نے الیکشن اصلاحات کےلیے تجویز کیا تھا ۔ اس معاملے پر کل 119 میٹنگز تین سال میں منعقد ہوئیں جب کہ پارلیمان نے اس مقصد کےلیے تین ماہ کا وقت طے کیا تھا۔ 34 ممبران پر مشتمل کمیٹی اور 16 ممبران پر مشتمل کمیٹی کا کام 1831 تجاویز میں سے قابل عمل تجازیز کو الیکشن اصلاحات کے لیے فائنل کرنا تھا۔ بدقسمتی سے اتنی محنت کے باوجود الیکشن ایکٹ پہلے دن ہی سے متنازعہ بن گیا ۔ اہم پارلیمان لیڈرز اور سپیکر کو سر عام  اعتراف کرنا پڑا  کہ  بل میں غلطیاں ہیں اس لیے اس قانون میں تبدیل کر کے ٹھیک کیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی غلطی کو کیسے پورے تین سال تک تحقیق و تفتیش کے عمل میں نظر انداز کیا گیا ۔ نہ تو کوئی سٹاف ممبر اور نہ ہی 34 کمیٹی ممبران اس نکتہ کو نوٹس کر پائے جب کہ بقول اسمبلی سپیکر یہ محض ایک کلیریکل غلطی تھی۔

تمام بڑی سیاسی پارٹیوں اور کمیٹی سٹاف نے الیکشن ایکٹ 2017 پر 19 جولائی کو دستخط کیے تھے۔ اس مسودے میں یہی غلطی موجود تھی جو 4 اکتوبر کو تنازعہ کا باعث بنی۔ تب دستخط کرتے ہوئے کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا تھا۔

5 پولیٹیکل پارٹیوں کے  نمائیندے: پی- ٹی – آئی، ایم – کیو – ایم، پی – پی – پی، جے- یو– آئی – ایف اور جے – آئی  نے  پی- سی – ای – آر کی آخری رپوٹ  میں  اپنے اختلاف رائے سے  آگاہ کیا  لیکن   کسی نے بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ نہیں کیا جو بعد میں تنازعہ کا باعث بنا۔ جس کا مطلب ہے  کہ پرانے قانون میں کی گئی  تبدیلیوں کو سمجھنے میں  کرنے میں معزز    پی- سی – ای – آر کے ممبران  اور متعلقہ حکام ناکام ہو گئے۔ دو مذہبی پارٹیوں  یعنی جے- یو– آئی – ایف اور جے – آئی کے اس موضوع  پر ایک مستقل نقطہ نظر کے باوجود  یہ ممکن دکھائی دیتا ہے کہ   معزز    پی- سی – ای – آر کے ممبران  اور دوسرے  پارلیمنٹ کے  ممبران  ساری پرانے قانون کی ترامیم  کو  سمجھنے سے قاصر تھے۔چونکہ وہ مسودہ بہت بڑا تھا اور اس میں پچھلے  8قوانین اور 100 ترامیم شامل تھیں  اس لیے آسان نہیں تھا کہ   ان  میں سے ہر تبدیلی کا ٹریک رکھا جائے  اور اسی لیے ممبران کے نوٹس میں نہ آسکیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ قانون سازی کی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے  کسی نے  کمیٹی سے ڈسکس کیے بغیر انہیں متعارف کرا دیا ہو۔  جو بھی کیس تھا قانون سازی کا عمل بے نقاب ہوا۔  وقت کی ضرور ت یہ ہے کہ  ان ممکنہ  کمزوریوں کو  سمجھا جائے اور کسی تاخیر کے بنا انہیں دور کیا جائے۔   

الیکشن  ایکٹ 2017  یا کسی دوسری  پیچیدہ قانون سازی میں  کسی اور قسم کی  غلطی  کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرا   مسئلہ عمومی طور پر قانون سازی اور  خاص طور پر الیکشن  ایکٹ 2017   میں استعمال کی گئی زبان کا ہے ۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ پارلیمنٹ ممبران اور  دوسرے کمیٹی ممبران کو قانون  کا مسودہ اردو زبان میں فراہم کیاگیا تھا۔

الیکشن ایکٹ 2017 کا ڈرافٹ پارلیمنٹ کے سامنے پی سی ای آر کی طرف سے 21 جولائی کو لایا گیا اور فائنل ووٹنگ 22 ستمبر کو ہوئی۔ اس دوران باسانی اس قانون کے مسودے کا ترجمہ کر کے تمام پارلیمنٹیرینزکو فراہم کیا جا سکتا تھا۔ اگرچہ بہت سے پارلیمان ممبران انگریزی پڑھنا اور لکھنا جانتے ہیں  لیکن بہت سے ایسے ہیں جنہیں اردو زیادہ آسانی سے سمجھ آتی ہے۔ ممکن ہے کہ اس کی بنیادی وجہ دوسری  زبان پر عبور نہ رکھنا ہو۔ اب چونکہ سپریم کورٹ کا حکم آن ریکارڈ ہے  تو دونوں پارلیمنٹ ہاوسز کو چاہیے کہ وہ قانون کا اردو ترجمہ تمام سیاستدانوں کو فراہم کریں۔ 

الیکشن ایکٹ میں پیدا ہونے والا یہ تناازعہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ پارلیمنٹیرین ، سیاسی پارٹی اہلکاروں، الیکشن سٹاف اور عوام  کو اگلے الیکشن سے قبل  قانون سازی کے عمل سے آگاہی دی جائے۔ الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ قانون سے آگاہی کے اس عمل میں اپنا کردار بھر پور طریقے سے ادا کرے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *