’’ چیریٹی ‘‘

اس وقت دنیا بھرdr.lal-khan میں جاری کچھ فلاحی کاموں میں سے ایک خیرات بھی ہے۔ یہ چیز نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں میڈیا اور سماج پر حاوی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی آسرے کا رجحان ہے جس میں محروم اور برباد عوام امیر اور دولتمند ''مخیر‘‘ افراد کی ''سخاوت‘‘ سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں ان مخیر نودولتیوں نے سماجی اور سیاسی اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔ ایک جمود کی حالت سے گزرنے والے سماج میں اس طرح کی دوغلی شخصیات مبالغہ آرائی کی حد تک بڑا ''مقام‘‘ حاصل کر لیتی ہیں۔ خیرات دراصل سماج میں اونچ نیچ کی عکاسی کرتی ہے۔ جیسے جیسے عدم مساوات اور محرومی بڑھتی ہے ویسے ویسے اس کی اہمیت بڑھتی جاتی ہے۔ یہ کوئی قومی یا علاقائی مظہر نہیں بلکہ براعظموں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ سرمایہ دارانہ استحصال اور سماج کی قدر زائد کی لوٹ مار کی ضمنی پیداوار ہے۔
آج کل یہ عموماً حب الوطنی، پرہیزگاری اور نمود و نمائش کے لیے کی جاتی ہے تاکہ سماج پر حکمرانی کرنے والے امیر اور دولتمند افراد اور کارپوریشنوں کی مصنوعی عزت اور شہرت قائم ہو سکے۔سب سے بڑھ کر اس کا مقصد سرمایہ دارانہ بھتہ خوری اور گھنائونی حد تک امیر ''مخیر‘‘ ان داتائوں کی لوٹ مار کو انسانی شکل دینا ہے۔ رسمی اور کالی معیشت کے آقائوں کے ان دھندوں کے لیے کثیرالمقاصد خیراتی ٹرسٹ اور فائونڈیشنز تعمیر کی جاتی ہیں جو ان کے لیے پراپیگنڈا کرتی ہیں۔ ان خیراتی اداروں کی ضمنی شکلیں اور طریقے مختلف ہوسکتے ہیںلیکن آج پاکستان اور ہندوستان جیسے ملکوں میں یہ زیادہ تر مذہبی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک اور کارپوریٹ کمپنیوں میں یہ زیادہ منظم ہیں اور ان کارپوریشنوں کی بنیادی ساخت کا حصہ ہوتے ہیں۔ 
تاہم پچھلی کچھ دہائیوں سے خیرات نے نئی شکلیں اختیار کی ہیں۔ یہ اب ''خیالات کی نگرانی‘‘ (Perception management)سے بہت آگے جا چکی ہے۔ یہ کارپوریٹ خیرات کے نفیس آرٹ میں بدل چکی ہے۔ ہندوستان میں کثیرالجہتی فرموں کے ٹولوں نے اب فلموں، آرٹ کے اداروں اور ادبی تقریبات کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے جبکہ نوے کی دہائی میں وہ صرف خوبصورتی کے مقابلوں تک محدود تھے۔ ودنتا (Vedanta)جو ایک باکسائٹ مائننگ کارپوریشن ہے، نوجوان فلمی اداکاروں کی نمائندگی کے لیے کرییٹنگ ہیپی نیس(Creating Happiness)کو سپانسر کر رہی ہے تاکہ وہ پائیدار ترقی کے لیے فلمیں بنائیں۔جندال گروپ ایک آرٹ میگزین نکالتاہے اورہندوستان کے بڑے آرٹسٹوں کوسپورٹ کرتاہے۔ٹاٹاسٹیل جے پورادبی فیسٹیول کے بڑے سپانسروں میں سے ایک ہے جسے ناقدین ''روئے زمین پر سب سے بڑا ادبی شو‘‘ قرار دیتے ہیں۔دنیا کے بہترین اورروشن لکھاری جے پورمیں ان استحصالی سرمایہ داروں کے خرچے پراکٹھے ہوتے ہیں اورمحبت،ادب،سیاست اورصوفی شاعری پر بحث کرتے ہیں۔ 
درحقیقت کارپوریٹ خیرات کیتھولک مشنریوں اوربرصغیر کی مذہبی خیراتی تنظیموں کی جگہ لے رہی ہے تاکہ محکوم طبقات کوقابومیں لاکرانہیں موجودہ حکمرانی کے تابع کیاجاسکے۔یہ اب سرمایہ دارانہ اورسامراجی مفادات کے لیے عوام کوکنٹرول میں رکھنے کے اوزارہیں۔پچھلی صدی کے آغازپرجان راک فیلر امریکہ کاپہلا اَرب پتی اوردنیا کا امیرترین آدمی تھا۔اس کوپورایقین تھاکہ اسے یہ پیسے خدا نے دیے ہیں۔راک فیلر سٹینڈرڈ آئل کا مالک اور کارپوریٹ خیرات کا بانی تھا۔ خیراتی فائونڈیشنزکاروباری پھیلائو کے لیے ایک جست تھیں۔یہ ٹیکس نہ دینے والے ایسے قانونی ادارے تھے جن کے پاس بے تحاشا دولت تھی اورمکمل طورپرغیرشفاف اورغیرجوابدہ تھے۔معاشی دولت کو سیاسی،سماجی اورثقافتی سرمائے میں تبدیل کرنے کے لیے ان کااستعمال کیاجاتاتھاتاکہ پیسے کوطاقت میں تبدیل کیاجاسکے۔
بل اورمیلنڈا گیٹس دنیا کے سب سے جانے پہچانے مخیر افرادہیں۔ تاہم بل گیٹس کئی سال سے ''بیروزگار‘‘تھالیکن اس کے باوجود وہ کچھ کئے بغیر ہی ایک دفعہ پھردنیاکاسب سے امیر ترین شخص بن گیا۔اس کی دولت میں کچھ کیے بغیر ہی کئی گنااضافہ ہوا۔ اس کا اثرورسوخ اس کے خیراتی کاموں کی شہرت کی وجہ سے قائم ہواہے۔وہ نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا میں تعلیم، صحت اورزراعت کی پالیسیاں تشکیل دیتاہے۔اس کی تمام حکمت عملیاں انسانی نجات کے لیے نہیںبلکہ کارپوریشنز کے لیے ہنر مند مزدوروں کی پیداوار پرمنحصر ہوتی ہیں۔ جبکہ یہاں حکمران طبقات، میڈیا کے دانشور اور سول سوسائٹی اسے بڑا مقدس مانتے ہیں۔
بل گیٹس، وارن بوفے ، جارج سوروس، مارک زرکربرگ اور دوسرے امیر ترین ارب پتی عالمی کارپوریٹ بالادستی کو بالکل اسی انداز میں چلاتے ہیں جس طرح مقامی حکمران ٹولے نوآبادیاتی حکمرانوں کی خدمت کرتے رہے ہیں۔کارپوریشنز کے عطیات سے چلنے والی فائونڈیشنز سماجی سائنسز اور آرٹ کی سب سے بڑے فنڈرز ہیں جو ڈویلمپنٹ سٹڈیز، کمیونٹی سٹڈیز، کلچرل سٹڈیز اور انسانی حقوق کے کورسز کے لیے سکالرشپ دیتی ہیں۔ جیسے ہی امریکی یونیورسٹیوں نے بین الاقوامی طالب علموں کے لیے اپنے دروازے کھولے، تیسری دنیا کے حکمرانوں کے ہزاروں بچے ان میں امڈ آئے۔
ترقی پذیر ملکوں کی اَپر مڈل کلاس کے خاندانوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جن کے بچے امریکہ میں نہ پڑھ رہے ہوں۔ انہی میں سے ہی وزرائے اعظم، وزرائے خزانہ، معیشت دان، کارپوریٹ وکیل، بینکر اور افسر پیدا ہوتے ہیں جو اپنے اپنے ملکوں کی معیشتوں کو عالمی کارپوریشنوں کی لوٹ مار کے لیے کھول دیتے ہیں۔ ان فائونڈیشنوں کی خیرات سے نکلنے والے معاشیات اور پولیٹکل سائنس کے ''ماہرین‘‘ کو فیلوشپ، ریسرچ فنڈ، گرانٹ اور نوکریاں دی جاتی ہیں۔ برداشت اور کثیرالثقافت ہونے کا مصنوعی ڈھونگ رچایا جاتا ہے جسے پلک جھپکتے ہی نسل پرست، مہا قوم پرست، نسلی تعصب یا وحشی مذہبی انتہاپسند بننے میں دیر نہیں لگتی۔
پاکستان میں یہ خیراتی دھندہ کہیں زیادہ متنوع ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لے کر لاتعداد خیراتی کمپنیاں اور افراد ہیں۔ یہ کارپوریشنز اپنی شہرت اور منافع کے لیے کرکٹ ، آرٹ اور فلم سے لے کرتمام تر انٹرٹینمنٹ اور تفریحی سرگرمیوں میں پیسہ لگاتی ہیں۔ ہر تقریب کو سپانسر کرنا اب ایک رسم بن گئی ہے جو 1980ء کی دہائی تک ناپید تھی۔خیرات اور فلاحی کاموں کی آڑ میں ''مذہبی عناصر‘‘ کی پرورش کی جاتی ہے ۔پیسے لگانے والے اپنے انداز میں اپنا منافع نکال لیتے ہیں۔ لبرل خیراتی اداروں کے اپنے کاروباری مقاصد ہوتے ہیں۔ سب سے بڑے مخیر افراد متوازی معیشت کے نودولتیے ہیں جو اس پیسے کو رئیل اسٹیٹ میں لگاتے ہیں۔ صحت کے شعبے میں سب سے زیادہ خیراتی کام ہے لیکن پراپیگنڈے کے برعکس مشکل سے ہی مفت تعلیم یا صحت دی جاتی ہے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور خیراتی سوچ اس ظالمانہ منافع کے نظام کے ہاتھوں بھوک، بربادی اور محرومی سہنے والے محکوم طبقات کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ یہ التجا کی نفسیات پروان چڑھاتی ہے جو نہ صرف محنت کشوں کی تحقیر ہے بلکہ ان کی روحوں اور شعور کو اذیت دیتی ہے۔ ان خیراتی آقائوں کا بنیادی مقصد محنت کش طبقات کو غلام بنانا ہے۔ پہلے مرحلے میں حکمرانوں کی لوٹ مار اور منافع خوری محنت کشوں کو غربت اور محرومی میں دھکیل دیتی ہے۔ پھر خیراتی کاموں کے ذریعے ان کی نفسیات میں جھوٹی شکرگزاری ڈالی جاتی ہے۔ اس سماج میں پھیلی ہوئی یہ مہربانی اور پرہیزگاری دراصل ایک ڈھونگ ہے۔
اسی اثنا میں ریاست خوفناک معاشی بحران کی زد میں ہے جو تعلیم اور دوسری بنیادی اجتماعی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے خیرات کا دروازہ کھلا ہے۔ اس محرومی نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خیرات پر انحصار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ تاہم تاریخ میں کسی بھی سماج کی پوری آبادی کی ضروریات اس طرح سے کبھی بھی پوری نہیں ہوئیں۔ صرف چند افراد ہی اس خیرات سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ سماج کو ترقی دینے میں پاکستا ن کی بوسیدہ سرمایہ داری کی مکمل ناکامی کا یہ واضح ثبوت ہے ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *