ہارون الرشید کے حالیہ کالم کا پوسٹ مارٹم

نوٹ: ہمارے بہت سےharoon rasheed کالم نگار کالم لکھتے ہوئے تاریخی حقائق کی نفی کرتے ہیں اور ایک خاص طرح کا پراپیگینڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ روزنامہ ’’ دنیا پاکستان نے ایسے کالم نگار حضرات کے کالموں کے پوسٹ مارٹم کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ دوسرا منظر بھی سامنے آ سکے۔ تبصرے کے الفاظ سرخ کر دئیے گئے ہیں۔ آپ کی آرا کا انتظار رہے گا۔ (ایڈیٹر)

پسِ پردہ

ہارون الرشید
فی الحال فقط یہ کہ قومی سیاست ایسی بہرحال نہ رہے گی، جیسی کہ وہ آج ہے۔ ہمہ گیر تبدیلیوں کا در کھلنے والا ہے اور بہت جلد۔ ع
جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا یہی ہے اک حرفِ محرمانہ
سطح زمین پر بھی بہت کچھ نظر آتا ہے لیکن فیصلہ کن واقعات پسِ پردہ رونما ہو ر ہے ہیں۔ شب کی تاریکی میں پیغام رسانی کے سلسلے جاری ہیں ۔(موصوف کو شب کی تاریکی میں ہونےوالے پیغام رسانی کے سلسلے کی معلومات کہاں سے حاصل ہوتی ہیں اور شب کی تاریکی کے پیغامات کے پیغام بر کیوں بنے ہیں) ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ غور کیجیے تو کچھ اشارے ٹیلی ویژن اور اخبارات میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں ۔ میرؔ صاحب نے کہا تھا :
آنکھ ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
حیرت ہوئی، جب ایک وفاقی وزیر کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ شریف خاندان کو خیرباد کہنے کے لیے تیار ہیں ، اگر انہیں تحفظ کی یقین دہانی کرائی جائے۔ بظاہر اپنی پارٹی کی حمایت میں وہ پرجوش نظر آتے ہیں ۔ میاں صاحب کی لندن روانگی سے قبل ان سے موصوف نے ملاقات کی ۔ مشورہ دیا کہ عسکری قیادت سے محاذ آرائی نہ کی جائے ۔ عدالتوں کے باب میں بھی ان کا روّیہ قدرے بدل گیا ہے ۔ کیا نواز شریف وزیرِ اعظم کو انہیں برطرف کرنے کا مشورہ دے سکتے ہیں؟ مشکل ہے ، ایک بار وہ ان سے ناراض ہوئے تھے لیکن پھر گلے لگانا پڑا۔ وہ ایک کائیاں آدمی ہے اور پہلے سے زیادہ با وسیلہ بھی ۔
وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی تنے ہوئے رسے پر چل رہے ہیں ۔ بہت سے موضوعات پر ان کی رائے اس شخص سے مختلف ہے ، جسے جلسہ گاہوں میں وہ اپنا لیڈر کہتے ہیں ۔ ایک دلچسپ وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی نگرانی کی جا رہی ہے ۔ ایوانِ وزیرِ اعظم کے عملے میں ایسے لوگ شامل ہیں ، جو میاں صاحب سے رابطہ رکھتے اور معلومات مہیا کرتے ہیں ۔ شاہد خاقان عباسی ان سے نبھانا چاہیں گے ۔ اس امر کا انحصار مگر میاں صاحب پر ہے اور حالات کے رخ پر بھی ۔ ابھی کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ۔ اس کے سوا کہ میاں صاحب کے پھر سے اقتدار حاصل کرنے کا امکان کم سے کمتر ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسی راہ پر وہ چل پڑے ہیںکہ پارٹی میں اور پارٹی سے باہر ان کی مزاحمت ترک کرنے کا مطلب فوج اور عدلیہ کی پامالی ہے ۔ کیا پاک فوج پنجاب پولیس بن سکتی ہے ؟ اعلیٰ عدالتیں کیا پنجاب کے ایک مجسٹریٹ کا سا روّیہ اختیار کر سکتی ہیں ؟ (موصوف کیا اس طرح سے پاک فوج اور عدلیہ کو اشتعال دلانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں؟)
اسحٰق ڈار کی حالتِ زار سے کچھ اندازے قائم کیے جا سکتے ہیں۔ قریبی اور باخبر لوگوں کے مطابق، خود ان کا اپنا خیال یہ ہے کہ ان کے بچ نکلنے کا امکان کم ہے ۔ ان کی وفاداری کے بارے میں خود شریف خاندان میں شکوک و شبہات پیدا ہو چکے مگر اظہار وہ نہیں کر سکتا ۔ اگر یہ 1999ء ہوتا تو اب تک وہ وعدہ معاف گواہ بن چکے ہوتے ۔ اب بھی بن سکتے ہیں ، اگر کوئی ان کا ہاتھ تھامنے پر آمادہ ہو ۔ اندر سے وہ ٹوٹ چکے ہیں ۔(واہ جو بات اسحاق ڈار کو بذاتِ خودمعلوم نہ ہوئی اور روزانہ وہ بہادری سے عدالت میں اپنے کیس کا سامنا کرنے جاتے ہیں۔۔۔ وہ ان صاحب کو معلوم ہے)
چوہدری نثار علی خان کی تشخیص درست ہے کہ پارٹی کو عدلیہ سے بھی تصادم مول نہ لینا چاہیے ۔ بین السطور ان کا مشورہ یہ لگتا ہے کہ مقدمات کو طول دیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کیا جائے ۔ موقعہ ملنے پر مفاہمت کر لی جائے ۔ نون لیگ کے درجنوں ارکانِ اسمبلی یہی چاہتے ہیں۔ گومگو کا شکار، پریشان اور چہ میگوئیاں کرتے ہوئے۔
ارادے باندھتا ہوں، سوچتا ہوں، توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے، کہیں ویسا نہ ہو جائے
چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ پارٹی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں۔ بجا مگر تا بہ کے؟ ان لوگوں کا مزاج اور اندازِ فکر ہی نہیں کہ عسکری قیادت اور عدالتوں کے خلاف طویل محاذ آرائی کریں ۔ عافیت پسند لوگ ہیں ۔(اچھا اچھا تو کیا مسلم لیگ ن وہ پارٹی نہیں جس نے مشرف کی آمریت سہی اور پھر بھی قائم رہی، شبنم کی طرح دھل کیوں نہ گئی؟ جگہ جگہ ن لیگ کے متوالے نکلتے تھے اور چوراہوں پر ان پہ تشدد کیا جاتا تھا پھر بھی قائم رہی اور جنرل مشرف کی موجودگی میں بھی بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی حالانکہ میاں نواز شریف کو انتخابات لڑنے کے ئے نا اہل کر دیا گیا تھا۔ حضرت اب یہ پارٹی جدوجہد کی آزمائش سے گزری ہوئی آدرشوں سے بھرپور جماعت ہے جو قائم بھی ہے اور مضبوط بھی۔) اسی لیے شریف خاندان سے آ ملے تھے۔ ایک معزز جج کے بقول، جس نے مافیا کا روپ دھار لیا ہے۔(مافیا۔۔۔کون سا مافیا؟ یعنی کالم نگار کو معلوم نہیں کہ اس لفظ کے استعمال پر وہ تنقید ہوئی کہ جج صاحب پھر دوبارہ نہیں بولے) کچھ وہ بھی ہیں ، موہوم امیدوں پر جو تصادم کے حق میں ہیں؛ اگرچہ ان میں سے بھی اکثر آخر کار صلح کے آرزومند ہوں گے ۔ خود شریف خاندان بھی ۔ لوگ بھلا دیتے ہیں ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ جنرل پرویز مشرف سے معاہدہ کر کے ، دس برس کے لیے سیاست ترک کر کے سمندر پار وہ چلے گئے تھے۔ میاں محمد نواز شریف محاذ آرائی کے قائل ہیں‘ مگر اسی وقت تک جب عذابِ جسم و جاں نہ جھیلنا پڑے۔ مجید نظامی مرحوم سے انہوں نے کہا تھا: میں جیل نہیں بھگت سکتا۔(حقائق کو جھٹلانے میں جناب کو ملکہ حاصل ہے۔ جواں مردی سے اڑتیس روز قیدِ تنہائی برداشت کرنیوالے میاں نواز شریف کوجب پستول تان کر استعفیٰ پہ دستخط کرنے کو کہا گیا تو اُن کا جواب کیا تھا۔۔ وہی جواب کالم نگار کے لئے بھی ہے) روایتی لیڈر یہی ہوتا ہے ۔
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ
ان کے حامی اخبار اور اخبار نویس خیال و خواب کی جنت بسائے خواہ مخواہ ہلکا ن ہو رہے ہیں ۔ لین دین کے جس ماحول میں میاں صاحبان کی اٹھان ہوئی، اس میں زندگی کی تلخیوں کو گوارا کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں۔ کسی اعلیٰ مقصد کے لیے قربانی دینے کا سوال ہی نہیں۔ وہ مولانا محمد علی جوہرؔ کے نام لیوا نہیں ۔
عافیت کوش میری فطرتِ پاکیزہ نہ تھی
میں نے شمشیر فروشوں کو سپاہی نہ کہا
اب کی بار عرب ان کا خیر مقدم نہ کریں گے ۔ یمن تنازعے میں پاکستان ریاض کا کچھ زیادہ مددگار نہ ہو سکتا تھا مگر قومی اسمبلی میں شاہی خاندان کی رسوائی کا اہتمام کیا ضروری تھا، جو ان کے ذاتی محسن بھی تھے۔ شریف خاندان اور ملک کے لیے اس کے نتائج ہیں، رفتہ رفتہ جو آشکار ہوں گے۔ یہ امید بہرحال اب نہیں کی جا سکتی کہ بجٹ خسارے کے لیے ڈیڑھ ارب ڈالر وہ عطیہ کرے ، ایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیوں کے شکار پاکستان پر کوئی شرط عائد کیے بغیر مطلوبہ مقدار میں تیل فراہم کر دے۔ موقعہ پا کر سعودی عرب سے تعلقات کی بحالی کا کام بھی شاید اب فوج ہی کو کرنا پڑے۔
امریکہ اور برطانیہ بہرحال میاں صاحب کی امداد پر آماد ہیں ، ترکی بھی۔ ترکیہ کے ساتھ شریف خاندان کے کاروباری مراسم گہرے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مداخلت وہ نہیں کرے گا ۔ دبائو نہ ڈالے گا، صرف درخواست کرے گا یا زیادہ سے زیادہ مشورہ۔
لندن اور واشنگٹن سے کچھ پیغامات موصول ہوئے ہیں ۔ ابھی تفصیل معلوم نہیں اور لب و لہجے کا حتمی اندازہ ممکن نہیں ۔ اطلاعات بڑی حد تک مصدقہ ہیں ۔ پوری طرح متعلق لوگ مہر بہ لب ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسی چیزوں کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ فیصلہ کرنے والوں کا موڈ بہرحال یہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ فرمائش پوری کریں ۔ بدلے ہوئے حالات میں امریکہ اور برطانیہ دبائو ڈالنے کے قابل نہیں ۔
بظاہر عسکری قیادت کا روّیہ اب تک نہایت معقول ہے ۔ نون لیگ کے قابل پرواز پرندوں کی طرف سے فرمائش کے باوجود دانا ڈالنے سے اس نے گریز کیا‘ ورنہ ایک نئی قاف لیگ کا قیام مشکل کام نہ تھا ۔ ماضی سے فوج نے سبق یہ سیکھا ہے کہ سیاستدانوں کی ناکردہ کاری کے باوجود کاروبارِ حکومت اپنے ہاتھ میں لینا کوئی حل نہیں ۔ عسکری قیادت پوری طرح واضح ہے کہ مارشل لا کسی حال میں نافذ نہ کیا جائے ۔ ان کی رائے یہ ہے کہ شریف خاندان کے لیے یہ پسندیدہ چیزوں میں سے ایک ہو گا ۔ اس سے انہی کو فائدہ پہنچے گا۔ پاک فوج کے وقار کو دھچکا لگے گا۔ سیاسی شہادت پانے کی مراد بر آئے گی ۔
زرداری خاندان کے بارے میں عزیر بلوچ کے انکشافات ایک اور اہم واقعہ ہے ، جس پر تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے ۔ فی الحال فقط یہ کہ قومی سیاست ایسی بہرحال نہ رہے گی، جیسی کہ وہ آج ہے۔ ہمہ گیر تبدیلیوں کا در کھلنے والا ہے اور بہت جلد۔ ع(کیا وہ تبدیلیاں جمہوری اور آئینی ہونگی؟ اس کے بارے میں جنابِ والا نے ارشاد نہیں فرمایا کیونکہ جمہوریت اور آئین سے جناب کا کیا تعلق؟ خود کو عسکری ذرائع کا خود ساختہ ترجمان بنائے پھرنے کی خواہش پالنے والے حضرت کو اس سے کیا غرض کہ اس قوم کو آمریت اب کسی بھی انداز میں قبول نہیں۔ کبھی یہ بھی لکھیں کہ فوج کو آئینی حدود اور فرائض کی قیود میں ہی رہنا چاہئیے۔ مگر یہ آرزو خام ہی رہے گی!)
جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہوگا یہی ہے اک حرفِ محرمانہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *