’خطرہ فوج سے نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے ہے

 ڈی جی آئی ایس پی آرDGISPR میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں اور جمہوریت کو اگر کوئی خطرہ ہوسکتا ہے تووہ جمہوریت کے تقاضوں کوپورا نہ کرنے سے ہوسکتا ہے۔

’اب ڈومور کی کوئی گنجائش نہیں‘

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان نے 15 سال میں ملک کی سیکیورٹی کے لیے بہت اقدامات کیے ہیں، اب ملک میں کوئی نوگو ایریا نہیں ہے جب کہ اب ہمارے پاس ڈومور کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک آپریشن کیا جس پر امریکا سے ہمیں انٹیلی جنس معلومات آئیں، 4 بجکر 10 منٹ پر ہمارے پاس انفارمیشن آئی، امریکی سفیر کا ہمارے ساتھ رابطہ ہوا اور انہوں نے ہم سے مدد مانگی۔

آصف غفور نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس پرکرم ایجنسی میں کارروائی کی گئی، ہمارےفوجی اہلکاروں نےگاڑیوں کوالگ کیا، ہماری ترجیح تھی کہ یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لیا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جہاں یہ لوگ پہنچے وہاں قریب افغان مہاجر کیمپ بھی تھا، شروع سے کہہ رہے ہیں کہ افغان مہاجرین کا واپس جانا ضروری ہے، اگر آپ کے پاس کچھ دستاویزات ہیں اور آپ مہاجرین کے کیمپ میں چلے جائیں تو دہشت گرد کی اور آپ کی شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے اعتبار سے امریکا کے ساتھ رابطہ رہتا ہے، آرمی چیف کے گزشتہ دنوں میں اہم رابطے ہوئے اور آگے بھی ہوں گے، سیکیورٹی رابطہ ہونا چاہیے کیونکہ افغانستان کی جنگ پاکستان کے تعاون کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھنا پڑے گا، امریکا کے ساتھ سیکیورٹی تعاون جاری تھا اور آگے بھی رہے گا جس میں بہتری آئے گی۔

’پاکستان میں مشترکہ آپریشن کی کوئی گنجائش نہیں‘

وزیر خارجہ خواجہ آصف کے پاکستان میں مشترکہ آپریشن سے متعلق صحافی کے سوال پر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مشترکہ آپریشن دو ملکوں کے درمیان ہوتا ہے جس میں دونوں ملکوں کی فوجیں ہوتی ہیں لیکن پاکستان کی سرزمین پر کسی مشترکہ آپریشن کی کوئی گنجائش ہے اور نہ آئندہ ہوگی۔

’احسن اقبال کے بیان پر دکھ ہوا‘

احسن اقبال کے بیان پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ احسن اقبال کی بات پر رد عمل نہیں بنتا کیونکہ اس پر سیاسی جماعتوں کا رد عمل آگیا ہے، کہا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیا یہ بات دشمنوں کو کرنی چاہیے ہمیں نہیں، ’بطور سپاہی اور بحیثیت پاکستانی احسن اقبال کے بیان پر دکھ ہوا‘۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں، کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کی معیشت گر گئی ہے، ہم سب نے بہت کام کیا ہے اور کراچی میں سیمینار میں بڑے بڑے معاشی ماہرین آئے تھے، اگر سیمینار صرف فوج کا ہوتا اور ہم معیشت پر بات کرتے تو سوال ہوتا لیکن میں نہیں سمجھتا کہ سوال سیمینار پر ہونا چاہیے بلکہ سوال اس سیمینار کے نتیجے پر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ میری یہ بات کہ معیشت کی صورتحال اگر بری نہیں تو اچھی بھی نہیں، یہ اس لیے تھا کہ ہمیں اسے مزید بہتر کرنا ہے، معیشت اچھی وہ ہے جب ہر آدمی خود کو معاشی طور پر اچھا سمجھے۔

’معیشت بہتر نہیں ہوگی تو سیکیورٹی کیسے بہتر ہوگی‘

ان کا کہنا تھا کہ جب سیکیورٹی اچھی نہیں ہوگی تو معیشت کیسے بہتر ہوگی اور جب معیشت بہتر نہیں ہوگی تو سیکیورٹی کیسے بہتر ہوگی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ جب یہاں بات کرتا ہوں تو کوئی بات ذاتی نہیں ہوتی، فوج کا ترجمان ہوں، جو کچھ کہا وہ سیمینار کے بعد کہا، یہ ایک تجویز دینے کی بات تھی، ملک اس وقت ترقی کرے گا جب سب مل کر کام کریں گے، ہم ہر ادارے کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے، کسی کو کوئی تحفظات نہیں ہونے چاہئیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کا جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں، اگر جمہوریت کو کوئی خطرہ ہوسکتا ہے تو وہ جمہوریت کے جو تقاضے ہیں انہیں پورا نہ ہونے اور عوام کی امنگوں سے ہوسکتا ہے، ہم آئین و قانون کے مطابق اور ملک کے لیے جو بہتر ہو گا کام کریں گے، کوئی ایسا کام نہیں ہوگا جو آئین و قانون سے بالا تر ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک نے ترقی کرنی ہے تو ہر چیز کا استحکام ضروری ہے، حکومت کا چلنا بھی ضروری ہے، یہ ایک منتخب جمہوری حکومت ہے، آرمی چیف کی تقرری بھی منتخب حکومت کرتی ہے اور آپریشنز کی منظوری بھی حکومت ہی دیتی ہے، فوج کوئی فیصلہ خود نہیں کرتی، ریاست کے ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں، فیصلہ حاکم وقت کا ہوتاہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اختلافات نہ ہوں، خواہ وہ ادارے کے درمیان ہی کیوں نہ ہوں، وہ ہوتے ہیں اور رہتے ہیں۔

’فوج نے معیشت پر کوئی بحث شروع نہیں کی‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج نے معیشت پر کوئی بحث شروع نہیں کی، دیگر ملکوں میں بھی اس طرح کے سیمینار ہوتے ہیں، وہاں سب بزنس کمیونٹی تھی، کراچی پاکسان کی معاشی انجن ہے، شہر میں حالات بہتر ہونے سے تاجروں کا اعتماد بڑھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہماری معیشت کا دارومدار قرضوں پر ہوگا تو اندرونی سیکیورٹی کے فیصلے متاثر ہوسکتے ہیں، اگر معشیت بہتر ہوگی تو ہمارے داخلی سیکیورٹی معاملات پر ہمارے آزاد فیصلے ہوں گے، ہم سیکیورٹی اورمعیشت کو الگ نہیں کرسکتے، ملک میں معاشی ایمرجنسی کی ضرورت نہیں ہے، اس وقت کام چل رہا ہے اور آگے بھی اچھا چلے گا، ہم چیلنجز کو سامنے لائے اب جس کی جو ذمہ داری بنتی ہے اسے حل کرنا ہے۔

کینیڈین شہریوں کی بازیابی سے متعلق ایک سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ امریکی حکام نے انٹیلی جنس اطلاعات دیں، انہیں چیزیں نظر آتی ہیں اور بتائی بھی جاتی ہیں، اگر مغویوں کی بازیابی کے لیے کوئی ڈیل ہوتی تو وہ اس طرح سے بازیاب نہیں ہوتے، کچھ قوتیں بہتر تعلقات کو خراب کرتی ہیں اور یہاں بھی یہی پروپیگنڈہ ہے۔

’رضوان اختر کی ریٹائرمنٹ معمول کی بات ہے‘

کیپٹن (ر) صفدر کے بیان پر پوچھے گئے سوال پر آصف غفور نے کہا کہ اس پر بات ہوچکی ہے اس لیے اب کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔

سابق ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ فوج ایک بہت بڑا ادارہ ہے، اس میں ایک نظام چلتا ہے اور سختیاں بھی ہوتی ہیں، رضوان اختر نے ذاتی طور پر ریٹائرمنٹ کی درخواست کی تھی اور یہ ایک معمول کی کارروائی ہے، فوج میں ہر سال افسران ریٹائرڈ ہوتے ہیں، اسے کسی اور تناظر میں نہ دیکھا جائے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ملک میں فیصلہ سازی میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں اگر ہم تجویز دیں وہ نہ مانیں تو ہمیں مسئلہ ہو، قومی سطح کے فیصلوں کا اختیار وزیراعظم کو ہوتا ہے اور وزیراعظم پاکستان فیصلے کررہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے اس ملک کو آگے لے کر چلنا ہے جو چیزیں ہیں انہیں مزید بڑھاوا دینے کے بجائے ٹھنڈا کرنا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *