عینک والا جن کی ’’بل بتوڑی‘‘ نصرت آرا انتقال کر گئیں

afzaal ahmad logoتحریر: افضال احمد
نصرت آرا کوڑی کوڑی کی محتاج ہو گئی تھیں‘ عینک والا جن کے باقی کردار بھی علیل ہیں اُن کا بہتر علاج کرایا جائے‘ کب تک ہم فنکاروں، موسیقاروں، شاعروں، لکھاریوں کا خوفناک انجام ہوتا رہے گا؟ افضال احمد
حکمران، ملک ریاض (بحریہ ٹاؤن والے) و دیگر مخیر حضرات فنکار، موسیقار، شاعر اور لکھاریوں کی قدر ان کی زندگی میں کریں‘ انہیں بھی پیٹ لگے ہوئے ہیں‘ انہیں بھی رہنے کو گھر چاہئیں‘ ان کے بھی معصوم بچے ہیں: افضال احمد
معروف اداکارہ نصرت آرا طویل عرصے سے بیمار تھیں، طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث انہیں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکیں اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں، نصرت آرا نے ڈرامہ سیریل ’’عینک والا جن‘‘ میں ’’بل بتوڑی‘‘ کا کردار نبھایا تھا،کردار اتنا مقبول ہوا کہ نصرت آرا کی پہچان بن گیا، لوگ انہیں آج تک ان کے اصلی نام سے نہیں بلکہ ’’بل بتوڑی‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، شہرت اور مقبولیت کے باوجود نصرت آرا نے زندگی کے آخری ایام نہایت کسمپرسی میں گزارے، ایک سال قبل ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا جس سے ان کی بائیں ٹانگ شدید متاثر ہوئی تھی، تاہم وسائل نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے علاج کے لئے حکومت سے اپیل بھی کی تھی۔
میری طرح بہت سے لوگوں کا بچپن ’’نصرت آرا، المعروف بل بتوڑی‘‘ کے ساتھ جڑا ہے‘ ان کی موت کی خبر سن کر مجھ سمیت بہت سے لوگ صدمے سے دو چار ہوئے، چند ماہ قبل ٹی وی دیکھ رہا تھا جس پر محترمہ نصرت آرا کا انٹرویو اداکار ’’جان ریمبو‘‘ ان کے گھر جا کر لے رہے تھے، محترمہ کی معاشی حالت بہت کمزور تھی، ٹی وی پروگرام کے ذریعے محترمہ نے گورنمنٹ و دیگر مخیر حضرات سے علاج معالجہ اور زندگی گزارنے کیلئے چھوٹے سے گھر کا مطالبہ کیا تھا، خدا جانے ان کا مطالبہ پورا ہو سکا کہ نہیں، زندگی کے آخری دنوں میں ’’بل بتوڑی‘‘ کوڑی کوڑی کی محتاج ہو گئیں تھیں، ایک عرصے سے مختلف تحریریں لکھ رہا ہوں، مجھے بھی آج تک کچھ حاصل وصول نہیں ہوا، پاکستان میں بہت سے قابل رائٹرز موجود ہیں بہت سے رائٹرز نے لکھ لکھ کر کچھ حاصل وصول نہ ہونے کی وجہ سے اپنے قلم توڑ پھینکے، بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں ما سوائے چند ایک کے باقی تمام فنکار، شاعر، موسیقار اور لکھاری حوصلہ افزائی سے محروم ہیں، چند ایک فنکار، موسیقار، لکھاریوں کو ہر طرح سے نوازا جاتا ہے باقی سب کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
بے شمار فنکار و موسیقار پاکستان سے باہر جا کر اپنے فن کا مظاہرہ کرنے پر مجبور ہیں اور قابل فکر بات یہ ہے کہ جن کی یہاں قدر نہیں کی جاتی وہ دوسرے ممالک میں جا کر اپنے فن اور ٹیلٹ کا لوہا منوا بھی لیتے ہیں، آخر کب تک ہمارے ملک کا ٹیلنٹ ضائع ہوتا رہے گا؟ آخر کب تک فنکار، آرٹسٹ، موسیقار، لکھاری نصرت آرا کی طرح پیسہ نہ ہونے کیوجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں جاتے رہیں گے؟ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ’’عینک والا جن‘‘ کے باقی کردار بھی شدید علیل ہیں، فنکار، موسیقار، شاعر، لکھاری یہ سب ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان بے چاروں کی معاشرے کے سدھار میں بے پناہ خدمات ہیں، حکومت، جناب ملک ریاض (بحریہ ٹاؤن والے) و دیگر مخیر حضرات سے ہاتھ جوڑ کر گزارش ہے کہ وطن عزیز کے فنکار، موسیقار، شاعر اور لکھاریوں کی قدر کریں انہیں بھی پیٹ لگے ہوئے ہیں‘ انہیں بھی رہنے کو گھر چاہئیں، ان بھی معصوم بچے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *