یملے جٹ اور بھولے کبوتر میں مکالمہ

naeem-baloch1

’’ میری سمجھ میں تو نہیں آتا کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں حکومت کا نمایندہ علیحدہ پریس کانفرنس کرتا ہے اور فوج کا نمایندہ علیحدہ ، اور پھر مزید ستم یہ کہ ٓیک دوسرے پر تنقید بھی ہوتی ہے !‘‘
’’ تم واقعی بھولے کبوتر ہو، اس میں کیا قباحت ہے ، دنیا میں ہر جگہ دونوں کے علیحدہ علیحدہ ترجمان ہوتے ہیں ، اب جب ترجمان ہوں گے تو ترجمانی نہیں کریں گے تو کیا انڈے دیں گے ؟ ‘‘
’’ بہتر تھا کہ انڈے ہی دے دیتے ۔ یملا جی میرے کہنے کا مطلب یہ تھا فوج کا نمائندہ ، فوجی کارکردگی اور سرحدی سلامتی کے بارے میں بیان دیتا ہے ۔ لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے ۔ دنیا میں حکومت کا ترجمان فوج کو کہتا ہے کہ آپ درست کر رہے ہیں یا غلط ۔ لیکن یہاں فوجی ترجمان حکومتی کاکردگی کا تجزیہ کرکے کہتے ہیں آپ کیا درست کر رہے ہیں اور کیا غلط ۔ اور یہ بھی کہتا ہے ڈریں نہیں ہم آپ کو کچھ نہیں کہتے۔ بس ذرا معیشت ٹھیک کر لیں۔ قرضے بہت ہیں، وغیرہ !‘‘
’’ یہی تو ہمارے آصف غفور صاحب نے فرمایا ہے ، ہم سے نہ ڈریں اپنے کرتوت ٹھیک رکھیں ! اور بھولا جی ، عقل تو آپ کو آنی نہیں ، ہوتی تو ضرور سمجھتے کہ دنیا کی سیاسی حکومتیں ہماری سیاسی حکومتیں کی طرح نہیں کہ سارے نیم خواندہ ، بدکردار ، لالچی ، خود غرض اور بے وقوف سیاست کے میدان کا رخ کرتے ہیں ، شکلیں دیکھی ہیں ا ن کی ؟ پیٹ دیکھے ہیں ؟نخرے اور محل دیکھیں ہیں ان کے ؟ او کون لوگ او تسی ؟ ان لوگوں نے بچپن کی نصابی درسی کتاب کے علاوہ کوئی اور کتاب پڑھی ہے ؟ سنتا ہے میرے منہ سے کچھ اور ۔۔۔‘‘
’’یار ،ایسی بات تو نہ کرو ، اس ملک کو وراثت میں جو سیاسی اور فوجی قیادت ملی تھی وہی سامنے آنی تھی۔فوجی بھائیوں کی تربیت ، ان کی پڑھائی لکھائی کے انتظام، ان کے اعتماد میں اضافے کی مہم ۔۔۔۔کسی چیز میں کبھی کمی آئی ہو تو بتائیں۔ اس کے بالکل برعکس سیاست دانوں کی تربیت اور ان کی نئی کھیپ تیار کرنے کا کوئی انتظام کیا گیا ؟ اس حوالے سے سب سے بڑا ادارہ الیکشن کا نظام ہوتا ہے ۔آپ تو جانتے ہوں گے کہ کیا ہوا اس کے ساتھ؟ پہلا باقاعدہ الیکشن1970میں ہوا ۔ یعنی 23 برس اس ملک کا سیاسی ادارہ معطل رہا۔خدا خدا کرکے الیکشن ہوئے تو اس کے نتائج ہی نہ مانے گئے ۔ اور اس وقت حکومت کس کی تھی ؟ کس نے اس کے نتیجے قبول نہ کیے ؟ نتیجہ ؟پاکستان آدھا رہ گیا۔اس کے بعد الیکشن ہوئے تو سیاست دانوں کی لڑائی کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ثالثی کرانے کے بجائے نظام ہی کی بساط لپیٹ دی ۔ سب سے پاپولر سیاست دان کو پھانسی پر لٹکاکر عبرت کا نشان بنا دیا گیا کہ ہم سے پنگا لینے کا انجام یہ ہو گا ۔ اس کی عوامی مقبولیت ختم کرنے کے لیے اپنے پالتو غنڈے تیار کیے گئے ۔ ان غنڈوں کو سیاست میں شریک کر کے ایک نیا سیاسی کلچر پیدا کیا گیا ۔ یقیناًاس کارنامے پر آپ کی تحسین کی جانی چاہیے ۔( لیکن افسوس آخر میں یہ غنڈے آپ ہی کو پڑ گئے ۔ کیوں ایسا ہو ا ،�آپ کے نمک میں ایسا کیا ہے ، ہر کوئی اسے حرام کر دیتا ہے ، ذرا سوچیے گا !)پھر عالمی برادری کو چپ کرانے کے لیے ہومیو پیتھک قسم کا الیکشن کرایا۔ اس کی ایک ایک چیز خود طے کرنے کے باوجود آپ نے اپنے ہی سلیکٹڈ وزیراعظم کو ٹھڈا مار کر نکال باہر کیا ۔ پھر ایک عالمی طاقتوں سے سیاست کھیلنے کے نتیجے میں ایک خوف ناک حادثہ ہو ا۔ آپ بیک فٹ پر چلے گئے ۔ تب اوپر تلے کئی الیکشن کرائے ۔
اس دو ران آ ئین کا ایسا تیاپانچا کیا کہ حکومت کے پاس اقتدار کے نام پر ایک جنجھنا رہ گیا ۔ اوپر نیچے جتنے بھی انتخابات کرائے گئے ، کسی منتخب حکومت کو پورا وقت نہ دیا گیا ۔اکتا کر چوتھی بار مارشل لاء نافذ کیا یعنی آپ کے الفاظ میں’’ پڑھے لکھے ،عاقل اور محب وطن ‘‘ لوگوں کی حکومت قائم کر دی گئی ۔ ویسے ایک سوال کا جواب تو بتاؤ کہ جمہوری نظام پر اگر اعتماد ہے تو اسے چلنے کیوں نہیں دیا جاتا اور اگر نہیں ہے توالیکشن کیوں کرائے جاتے ہیں؟ پرویز مشرف نے کیوں وردی اتاری ؟ کیوں الیکشن کرایا ؟ کیا ان کی مرضی کے مطابق احتساب ہو گیا تھا؟ کیا جب عوام اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ووٹ دیتے ہیں تو اس وقت ان کی فوج سے محبت ختم ہو جاتی ہے ؟‘‘ ،،یہ صرف عالمی برادری کا پریشر ہے ورنہ واقعی یہ الیکشن والا ڈراما کبھی نہ ہو ، اور آپ لوگوں کی عقل میں یہ بات نہیں آتی کہ ہمیں جب آپ کے منتخب کردہ لوگ پسند نہیں آتے
تو ان کو منتخب ہی کیوں کرتے ہو ؟ ‘‘
’’ کیا مطلب ؟ میں پوچھ رہاہوں کہ آپ الیکشن ہی کیوں کراتے ہیں ؟ آپ اپنی پسند کے لوگ ہوں یاسیاسی پارٹیوں کے ، کسی کو بھی پسند نہیں کرتے تو یہ ڈراما رچاتے ہی کیوں ہو ؟ ’’ا’’اس لئے کہ مجبور ہیں ۔ اور اب سن لو
’’   بتائے دیتا ہوں ، اگر اس دفعہ پھر آپ نے نام نہاد شریفوں کو منتخب کیا تو بس چھٹی اسلعنتی جمہوریت کی ، وہ ہمارے چیتے حسن نثار اور ہمارے لگڑ بگڑاوریا مقبول جان جب یہ کہتے ہیں کہ جمہور ہی جمہوریت کے دشمن ہیں تو اس کا یہی مطلب ہے جب ہر بار آپ ہماری پسند کا خیال نہیں رکھیں گے تو ہم اس جمہور یت ہی کا ٹنٹا ختم کر دیں گے !‘‘
’’ بہت شکریہ ، یہ تم نے ٹھیک بات کی ،لیکن ابھی تو میں نے صرف تمہارے اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ یہ سارے سیاست دان اس طرح کے کیوں ہیں ۔ صرف اس لیے کہ سیاسی ادارے کو تربیت کا موقع نہیں دیا گیا ۔ انھیں بار بار خراب کیا گیا ۔ ان کی مثال تو اس دیہاتی سکول کے بچوں کی ہے ، جنھیں ٹوٹے پھوٹے کمرہ جماعت میں رکھا گیا ، پھر سہولت کے نام پر ان کے کمرہ جماعت بدلتے رہے ، اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق استاد بھی بدلتے رہے ، اور نصاب بھی۔ کبھی جہاد کا سبق دیا تو کبھی امن کا ، کبھی امریکا دوستی کا تو کبھی امریکا دشمنی کا ، کبھی طالبان بنائے تو کبھی ان کو ختم کرنے کا ایڈونچر کیا ، سعودی عرب سے محبت کے زمزمے پلائے تو کبھی پاک چین دوستی کے لڈو کھلائے ۔ کبھی افغان دوست تو کبھی دشمن ۔ اب خود ہی بتاؤ اس طرح کی تعلیم و تربیت کے بعد طالبعلموں سے آپ اچھے نتائج کی کیا امید کر سکتے ہو ؟‘‘
’’ تم اس کھیل کی نزاکتوں کو نہیں جان سکتے ۔ تمہیں کیا معلوم سٹرٹییجک ڈیپتھ کس چڑیا کانام ہے ؟ افسوس تم لوگ وہ نابالغ ہو جن کو نہیں بتایا جاسکتا کہ بچہ کس عمل کے نتیجے میں کیسے پیدا ہوتا ہے !اس لیے تمہاری یہ ساری کتھا جوتے کی ناک پر رکھتا ہوں ۔ ‘‘
’’ تم بیالوجی کے مضمون کی تدریس کے لیے کیمسٹری کے استاد کی خدمات لو گے تو یہی نتائج نکلیں گے ۔ بس ایک بات بتا دو ، کہ کرنا کیا ہے ، اس دفعہ کٹی کٹا نکال ہی دو تو بہتر ہے ۔‘‘
’’ بیٹا جی ابھی تو فلم بہت باقی ہے ، ابھی تو ہمارا پٹھا صرف بڑھکیں لگا رہا ہے ، کسی کوشکل سے ڈاکو بتا رہا ہے کسی کوفراڈیا ،کسی کو آسکر ونر پرفامر، جب وہ تم لوگوں کو الٹا لٹکائے گا ، مزا تو تب آئے گا ‘‘۔
’’ اللہ کرے وہ  خالی پٹھا  ہی رہے ، الو کا نہ بن جائے ْ،نہ بھٹو ثابت ہو یا نواز شریف نہ الطاف حسین ! ‘‘
’’ اوئے مزید بکواس کی تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا، بڑا آیا دانشور !‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *