جب میں آٹھ سال کی تھی تو میرے بھائی نے زیادتی کی

نوٹ : معروف ہالی ووڈ پرڈیوسرز ہاروہن سٹائن کے جنسی سکینڈل کے انکشاف کے بعد دنیا بھر میں ریپ کی متاثرہ خواتین اپنی اپنی کہانیاں شیئر کررہی ہیں ، انہی میں سے ایک درد ناک کہانی یہ بھی ہے ۔

میں آٹھ سال کی تھی اور وہ میرا سوتیلا بھائی مجھ سے چند سال بڑا تھا۔ اس نے مجھے کہا میں 18x6 ad A1اس کے ساتھ چلوں۔ میں اپنی گڑیا کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی ۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے بہت یاد کرتا تھا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ مستقل نہیں رہتا تھا۔ وہ میرے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ میرے ساتھ گڑیا والا کھیل کھیلے لیکن اس نے کہا میں اس کے کمرے میں اس کے ساتھ چلوں۔ مجھے اپنے کمرے میں ٹھہرنا پسند تھا۔ کاش میں اپنے کمرے میں ہی ٹھہری رہتی اور میرے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوتا ۔ میں اس کے کمرے میں چلی گئی اور اس کی گندی سوچ کا اندازہ نہ لگا سکی۔ میں یہی سوچ رہی تھی کہ اپنے بھائی کی درخواست کو کیسے رد کر دوں۔ اس نے مجھے اپنا موبائل دیا اور مجھے گیم کھیلنے میں مگن کیا تا کہ وہ اپنے ارادے پورے کر سکے۔ وہ مجھے ایسے نا مناسب طریقے سے چھونے لگا جیسے کوئی بھائی اپنے 8 سالہ بہن کو نہیں چھونا چاہے گا۔ مجھے معلوم تھا کہ یہ غلط ہے لیکن مجھے ڈر تھا کہ کوئی میرا یقین نہیں کرے گا۔ وہ مجھ سے بڑا تھا۔ میں صرف 8 سال کی تھی۔ اور میں فلمیں بھی دیکھتی تھی اس لیے مجھے لگتا تھا ہر کوئی کہے گا کہ یہ میں نے خود سے کہانی گھڑ لی ہے۔ کوئی کیسے مان لے گا کہ ایک بڑے بھائی نے چھوٹی بہن کی عزت پامال کرنے کی کوشش کی ہو۔ میں وہاں لیٹی رہی اور دعا کرتی رہی کہ کاش کوئی کمرے میں آئے تو میری جان بچ جائے لیکن میری دعا رائیگاں گئی۔ وہ اپنی حرکت سے باز نہیں آیا اور پھر شام کے کھانے کے وقت ماں نے مجھے بلایا تو میں وہاں ایسے دکھانے لگی جیسے کچھ نہ ہوا ہو۔ میں تب رات کو بیڈ پر بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ کیا میری عزت لوٹی گئی ہے؟ کیا کوئی لڑکی 8 سال کی عمر میں اپنے آپ کو اسطرح کے سوال پوچھتی ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔ یہ مضحکہ خیز خیال ہے۔ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنی بہن کے ساتھ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔ یہ لفظ میں نے اسی دن ٹیبل پر دادی اماں سے کہانی سنتے ہوئے سنا تھا۔ میں یہی سوچتی رہی  کہ اسطرح کا واقعہ میرے ساتھ پیش نہیں آ سکتا۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ یہی سوچتے ہوئے کئی سال گزرے گئے۔ میں اپنے آپ کو یوں ہی تسلیاں دیتی رہی کہ ایسا کچھ نہیں ہے  ۔ میں ویسے ہی اسطرح کی چیزیں سوچ رہی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ میں سوچتی کہ اگر کسی کو بتاوں گی تو لوگ مجھے جھوٹا کہیں گے ، میرا بھائی مجھ سے ناراض ہو جائے گا اور مجھے جھوٹا کہے گا۔ اندر سے میں جانتی تھی کہ یہ جھوٹ نہیں ہو گا۔ یہ سوچ مجھے کھائے جا رہی تھی۔ میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھنا چاہتی تھی لیکن یہ خیال میرے تمام راستے بند کر دیتا تھا۔میں سوچتی کہ مجھے اب زندگی بھر اس راز کے ساتھ جینا پڑے گا  اسلئے بہتر ہے کہ میں اس خیال کو اپنے آپ سے جتنا ممکن ہو دور کر دوں۔ میں یہ بھی سوچتی کہ ایک دن میں اپنے والدین کو بتانے کی ہمت دکھا پاوں گی ۔ میں یہ بات انہیں ڈنر ٹیبل پر ہی بتاوں گی اور ایسے دکھاوں گی جیسے مجھے کوئی فرق نہ پڑا ہو لیکن ایسا کیسے ممکن تھا۔ آٹھ سال کی عمر سے میں ایک ایسا بوجھ اٹھائے ہوئے تھی جو ایک بڑی عمر کا شخص بھی کبھی اٹھانا نہیں چاہتا۔ میں آٹھ سال کی عمر میں یہ سوچ رہی تھی کہ کسی نے مجھے لوٹ لیا ہو اور مجھے بے یار ومددگار چھوڑ دیا ہو اور اسے اس پر کوئی شرمندگی بھی نہ ہو۔8 سال کی عمر میں میں وہ  تکلیف محسوس کر رہی تھی جو کوئی دوسرا نہیں  کر سکتا  اور کوئی میرے احساس کو سمجھ نہیں سکتا  کیونکہ کوئی سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔ میں سوچتی کہ اگر میں بتاتی ہوں تو میرے والدین مجھے جھوٹا کہیں گے اور کہیں گے کہ میں اضافی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے واہیات دعوے کر رہی ہوں۔ میں سوچتی کہ اس چیز کو ایک خواب سمجھ کر نظر انداز کروں لیکن یہ خواب نہیں تھا ۔ یہ ایک کھلی حقیقت تھی۔ سات سال بعد بھی میں ان لمحات کو بھلا نہیں پا رہی ۔ مجھے اس کی پکڑ یاد ہے۔ یہ سب میرا قصور تھا۔ وہ اب چلا گیا ہے ،میں پچھلے کئی سال سے محفوظ ہوں ۔ اس واقعہ کی وجہ سے ایسا نہیں ہے کہ میں تقریبات میں نہیں جاتی۔ جب بھی کوئی لڑکا میری طرف دیکھتا ہے تو میں بہت پریشان ہو کر گھبرا جاتی ہوں۔ اب بھی جب کوئی مجھے چھوتا ہے تو  میں اپنی ٹانگوں میں کمزوری اور جسم بھر میں کپکپاہٹ محسوس کرتی ہوں۔ اب کوئی کہے گا کہ میرا لباس پہننے کا انداز، میرا گڑیوں سے کھیلنا، میرا اپنے کمرے میں بیٹھے رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ میں چاہتی تھی کہ وہ لڑکا مجھ سے ایسا سلوک کرے؟ کیا آپ یہ کہیں گے کہ مجھے اپنی ٹانگیں بند کر لینی چاہیے تھیں؟ کیا آپ مجھے کہیں گے کہ میں نے خود اسے پھسلا کر ایسا کرنے پر آمادہ کیا؟ تب میں 8 سال کی تھی۔ میں آج بھی وہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں۔ یہ بات آپ کی سوچ سے بھی زیادہ واضح ہے۔ جاہل مت بنیے۔ غور کیجیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *