جنسی حملوں کا مذاق اڑانے والے بیٹے کو ایک مظلوم ماں کا جواب

وین سٹین کے جنسی سکینڈل کے بعد بہت سی خواتین کھل کر سامنے آئی ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی تکالیف شئیر کر رہی ہیں لیکن ان تکالیف کا مذاق اڑانے والے بھی موجود ہیں۔ ٹویٹر پر ایک لڑکے نے ہراساں کی جانے والی خواتین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا: "میں چاہتا ہوں کہ کچھ خواتین مجھے جنسی طور پر ہراساں کریں۔ کیا ہائی سپرٹ کی طرف سے یہ سہولت میسرہے؟ " لیکن اس کو جواب دینے کےلیے اس کی ماں میدان میں آئیں اور اسے ڈانٹ پلاتے ہوئے کسی کی تکلیف کا مذاق نہ اڑانے کی نصیحت کی۔ دیکھیے ماں کا جواب

میں تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے فخر محسوس کرتی ہوں لیکن تمہارایہ مذاق مجھے کسی صورت اچھا نہیں لگا۔ تقریبا ہر خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے اور میں تمہاری ماں بھی اس تکلیف سے گزر چکی ہوں۔ تم جانتے ہو کہ میں سیاست کی طالبہ ہوں اور کوئی حلقہ سنبھالنے کی بجائے میں کچن سنبھالتی ہوں۔ لیکن یہ 1994 کا واقعہ ہے۔ میں ان خواتین پر فخر محسوس کرتی ہوں جنہوں نے تم مردوں کی حرکات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے  جو میں اپنے اس وقت میں نہیں کر پائی تھی۔ میں تمہاری پوسٹ سے بہت بے عزتی محسوس کر  رہی ہوں ۔ میں احتجاجا ایک ماہ تک تمہیں کھانا بھی پیش نہیں کروں گی۔ میں پرائیویسی میں تم سے اس بارے میں بات کر لیتی لیکن چونکہ تم ہر بار ٹویٹر اور فیس بک پر شئیر کرنا پسند کرتے ہو اس لیے میں نے سوچا تمہیں فیس بک پر ہی جواب دوں۔ اس سے پہلے کہ تم اپنے باپ کے سامنے میری شکایت لگانے کا سوچو میں بتائے دیتی ہوں کہ میں ان کی شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے یہ میسج لکھنے میں مدد فراہم کی۔ گرامر کی غلطیوں پر معذرت خواہ ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *