ہالی وڈ ایکٹریس ریس ویدرسپون جنسی حملوں کی اپنی کہانی بیان کرتی ہیں

reeseلیبی ہل

ہالی وڈ کے مشہور پروڈیوسر ہاروے وین سٹین کے خواتین پر جنسی حملوں کے انکشاف کے بعد دنیا بھر سے ہراساں کی جانے والی خواتین ایک سوشل میڈیا ہیش ٹیگ کا سہارا لے کر اپنی تکلیف بیان کر رہی ہیں۔ می ٹو ہیش ٹیگ پر اب تک بہت سی معروف اداکارائیں اور دوسرے شعبہ سے تعلق رکھنے والی خواتین زندگی کے تلخ حقائق بیان کر چکی ہیں۔ تازہ ترین روداد لاس اینجلس میں ہونے والے پروگرام ایلی وومن اِن ہالی وڈ سے تعلق رکھنے والی ریس ودرسپون نے بیان کی ہے۔انہوں نے کہا: ہالی وڈ اور دنیا بھر کی خواتین کے لیے یہ ہفتہ بہت تکلیف دہ تھا۔ انہیں اپنی زندگی کے تلخ تجربات کی یاد ایک بار پھر سے دہرانی پڑی۔ وہ اس موقع پر فلم 'بگ لٹل لائیز' کے دوسرے سٹار کا تعارف کروا رہی تھیں جن کا نام لارا ڈیرن ہے۔  ریس نے اس موقع پر کہا: میری زندگی کے بھی کچھ تلخ  تجربات ہیں جنہیں یاد کر کے میں ایک بار پھر بے چین ہو گئی اور راتوں کو نیند نہیں لے پائی۔ ان تجربات کو بیان کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ مجھے خود کو یہ سمجھ کر کوسنا پڑتا ہے کہ میں وقت پر اپنی آواز کیوں بلند نہ کر پائی۔ 2006 میں آسکر ایوارڈ جیتنے والی اداکارہ نے بتایا کہ انہیں 16 سال کی عمر میں ایک ڈائریکٹر کے نامناسب رویہ کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن ان کی زندگی کا یہ واحد تکلیف دہ تجربہ نہیں تھا۔ وہ کہتی ہیں: مجھے کئی بار ہراساں کیا گیا اور مجھ پر جنسی حملے کیے گئے لیکن میں ان تجربات کو دہرانے میں بہت احتیاط سے کام لیتی ہوں۔ جب پچھلے ہفتے تمام خواتین نے اپنی روداد بیان کرنے کی ہمت دکھائی تو مجھے بھی ہمت ملی کہ میں اپنے دکھ بانٹ کر اپنے اندر کی تکلیف کوکم کر reeseسکوں کیونکہ اب میں اپنے آپ کو اکیلا محسوس نہیں کرتی۔

ودر سپون نے وہاں موجود ہراساں کیے جانے کےواقعات کا سامنا کرنے والی خواتین سے براہ راست ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ہالی وڈ کمیونٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے اور زندگی میں بہتری کے لیے انہیں آگے کی طرف بڑھنے پر توجہ دینا ہو گی ۔ انہوں نے کہا: اگر ہم معاشرتی ضمیر کو جگا کر تبدیلی لانے میں کامیابی حاصل کر لیتی ہیں تو اس سے نہ صرف انڈسٹری بلکہ سوسائٹی میں بھی بہتری آئے گی۔

'لیگلی بلانڈ' فلم کی سٹار انڈسٹری کی بہت سی ایسی اداکاراوں میں سے ہیں جنہوں نے اس ہیش ٹیگ کے زریعے اپنے اوپر ہوئے جنسی حملوں کا اعتراف کیا ہے۔الیسا میلانو کے پیش کردہ اس ہیش ٹیگ سے معلوم ہوا کہ کیسے ہالی وڈ اور دوسری دنیا بھر میں خواتین کو جنسی ہراساں کیا جاتا ہے اور وہ خاموش رہنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔  

منگل کے روز جب ودرسپون کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے دی ٹائمز کی درخواست پر تبصرہ کرنے سے احتراز کیا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *