بوڑھا نواز شریف اور جذباتی مریم

بوڑھا نواز شریف اور جذباتی مریم
”مجھے کیوں نکالا “محض نواز شریف کی ایک سیاسی چال نہیں بلکہ اسلام آ بادmir-moeed
میں پیش آنے والی رسوائی اور مستقبل میں ہونے والی جگ ہنسائی کے باعث
اسلام آباد  سے لاہور تک کے اس سفر کے پیچھے ان کی سیاسی تھکاوٹ بھی ظاہر
ہوتی ہے۔ نواز شریف کے دونوں بیٹوں کا ملک میں رہ کر سیاست کرنے سے
انکاراور پھر بادلنخواستہ مریم نواز کو اس مقصد کے لیے ہاوس آف نواز کی
طرف سے جانشین چننا نواز شریف کے لیے جذباتیت سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اگر وہ
اس ملک کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہوتے تو اپنی اگلی نسل کے مستقبل
کے لیے پاکستان کاچناو کرتے مگرانھوں نے اپنی آئندہ نسل کے لیے غیر ملک
میں رکھی خود کی دولت کا چناو کیا ۔ یعنی کہ اپنی آئندہ نسل کو وہ
پاکستان نہیں پاکستان سے مبینہ طور پر لوٹی دولت دے کر جارہے ہیں۔ اور ہر
کوئی اپنی اولاد کے لیے وہی چنتا ہے جو اسے سب سے بہتر لگتا ہے ۔ یہاں سے
آپ پر ان کی سوچ کی گہرائی عیاں ہوتی ہے ۔
مریم نوازکے حق میں دلیل کے طور پر سب سے پہلے بینظیربھٹو کا نام لیا
جاتا ہے کہ وہ بینظیر کی طرح میدان میں اتری ہیں ۔ لیکن اگر آپ تاریخ سے
واسطہ تعلق پیدا کریں تو آپ کومعلوم ہو گا کہ مریم نواز کا موازنہ بینظیر
بھٹو سے کیوں نہیں کیا جا سکتا۔  بینظیر بھٹو زولفقارعلی بھٹو کی سیاسی
جانشین کے طور پرلڑکپن سے بھٹو کا انتخاب تھیں انھیں تاریخ اور سیاسیات
پڑھنے کے لیے ہارورڈ اور آکسفورڈ جیسی یونیورسٹیوں میں بھیجا گیا۔ جبکہ
بھٹو صاحب کا گھراور پارٹی کا ماحول شروع دن سے روشن اور آزاد خیالات کا
حامل تھا۔ بینظیر بھٹو کے سیاست میں آنے پر خود نواز شریف اور ان کی
پارٹی نے ان کی روش خیالی کو گالی بنا کر آوارہ خیالی اور جانے کن کن
ناموں اور نعروں سے تعبیر کیا جس سے نواز شریف صاحب کے گھر اور پارٹی کے
ماحول کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نواز شریف صاحب کی پارٹی ضیا
الحق کی انتہا پسند سوچ کے زیر سایہ پروان چڑھی ۔ عورتوں کے
کاروبارِسیاست سے دور کا واسطہ بھی نہ رکھنے دینے کی ایک تصویر ان کی
حالیہ کابینہ میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہے ۔ سنتالیس سے زائد وزیروں
کی فوج ظفر موج میں کل تین خواتین ہیں ۔ جبکہ بھٹو کی کابینہ سے لیکر
بینظیر کی کابینہ تک آپ کو خواتین سیاسی رہنماوں کی تعداد سے ہی اندازہ
ہو جائے گا کہ بینظیر زولفقار علی بھٹو کا نظریاتی انتخاب تھیں جبکہ مریم
نواز نواز شریف کے مفرور لڑکوں کے باعث پیدا ہونے والی مجبوری کا نام
شکریہ ہیں جس سے ہاوس آف نواز کا سیاسی مستقبل گہنایے ہوئے چاند کی مانند
دکھائی دیتا ہے۔
یہاں قصہ تمام نہیں ہوتا بلکہ ابھی نواز شریف کی سیاسی تھکاوٹ کی سب سے
بڑی وجہ کا تذکرہ باقی ہے اور وہ ہے خود ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف
اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف ۔ قصہ یوں ہے کہ نواز شریف فی زمانہ
اسٹیبلشمنٹ سے چلتے جاتے ناراضگیاں مول لے لینا خود کی مبینہ کرپشن اور
بری کارکردگی سے بچاو کے واحد راستے کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں ۔ انھیں
لگتا ہے کہ فوج اگر ان سے ٹکر لے لے تو عوام کی عدالت میں وہ تمام تر
گناہوں کی سیاہی رودھو کر دھو دیں گے
اب اگر فوج مارشل لا کا ماحول پیدا کر رہی ہو ۔ سیاسی عمل میں رکاوٹ بن
رہی ہو تو اسٹیبلشمنٹ کا حریف بن کر بینظیر اور زرداری کی طرح ووٹ لینا
شائد کارگر ثابت ہو لیکن اگر فوج سرحدوں پر اور ملک کے طول وعرض میں
دھشتگردی کی عفریت سے نبرد آزما ہو انکے جوان شہید ہو رہے ہوں اور
دھشتگردی کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں سے آپ ملک دشمن قوتوں کی طرح
ناخوش دکھائی دیں ، امریکہ کے ڈو مور اور اپنے گھر کی صفائی کے مطالبے
میں تو امریکہ کی آواز میں آواز مالائیں لیکن کلبھوشن یادیو جیسے بڑے بڑے
معاملات پر خامشی عین ترنم کی تصویر بنے رہیں تو پھر آپ کا وہ بھائی جو
معاملہ فہم ہے یا وہ جانثار جو ملکی دفاعی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے
دونوں گھروں کو قریب لانے میں کوشاں رہا ہے یقینا وہ آپ سے اور آپ کے
بچوں سے زیادہ مقبول بھی ہوں گے اور کامیاب بھی۔ اس کامیابی کا فیصلہ
عوام نے نہیں بلکہ ن لیگ کے ان خواص کے ایک ایک فرد نے کرنا ہے جو بڑے دن
سے نقارے بجا رہے ہیں کہ بڑے بھائی سے زیادہ چھوٹا بھائی زیادہ قابل قبول
ہے اور مریم ناقابل قبول ہے۔
اس اضافی تمہید کے بعد قصہ کوتاہ یہ کہ بینظیر کے ڈیڈی کے نہ تو کوئی
بھائی اور نہ کوئی بھائی کے بیٹے ان کے کامیاب سیاسی حریف تھے جو تخت
نشینی میں اپنا حصہ بقدر جسہ مریم کے شریکوں کی طرح مانگ رہے ہوں بلکہ
ثابت کر رہے ہوں کہ ہاوس آف نواز کی یاتو گیم اوور ہے یا پھر ٹیم کا
بیٹنگ آرڈر ہاوس آف شہباز کے مطابق ترتیب دیا جائے ۔ اس کی کئی مثالیں
ہیں ایک بڑی مثال وہ وائرل ویڈیوہے جس میں نواز شریف لاہور میں کارکنوں
کے درمیان ایک ہا ل میں موجود ہیں اور جیسے ہی مریم نواز کی تعریف کا
پہلا پل باندھتے ہیں سارا ہال یک زبان ہوکر  ’حمزہ حمزہ حمزہ حمزہ ‘
کے نعرے لگا نے شروع کر دیتا ہے اور نواز شریف اپنی تمام تر قائدانہ
صلاحیتوں کے باوجود چہرے سے خفت نہیں چھپاسکے ۔ مریم اور حمزہ کی تخت و
تاج کے لیے لڑائی کے قصے پھر سہی نواز شریف کی سیاسی تھکاوٹ اس وقت اپنے
نقطہ عروج پر ہو گی جب فرد جر عائد کئے جانے کے بعد اگلہ مرحلہ آن پہنچے
گا ۔ یعنی انھیں گرفتار کرنے کے لیے اسی پولیس فورس کے چند جوان جن کو
پروٹوکول کے نام پر دوڑیں لگا لگا کر لا اینڈ آرڈر قائم رکھنے کی رمزیں
بھی بھلا دی گئی ہیں نواز شریف کو حصار میں لے کر قطار بنا کر جیل کا رخ
کریں گے اس وقت نواز شریف کے پاس یہی ایک راہ فرار ہوگی کہ تخت شریف کسی
ایک کونے میں مریم کو بٹھا کر پورا تخت شہباز شریف اور ان کے بیٹے
اورانکی نئی نسل میں سے سب سے زیادہ سیاسی تجربہ رکھنے والے حمزہ شہباز
شریف کو تھما کر خود لندن سنیاس لے لیں ورنہ ہارے ہوئے سیاسی بزرگ کی طرح
ایک دن نہ ن لیگ رہے گی اور نہ مریم نواز کا سیاسی مستقبل۔
ایک بات اگرچے سیاسی پنڈت بڑے زور و شور سے کر رہے ہیں کہ دونوں بھائیوں
میں بظاہر ان بن پارٹی کو اکٹھا رکھنے کی کوشش ہے ۔ مگر ان سے سوال ہے کہ
کیا انھیں لاہور شہر کی سیاست کی پر پیچ گلیوں میں کوئی ایک کوچہ بھی
ایسا ملا ہے جہاں حمزہ شہباز کے مریم نواز کےلیے راہ سیاست ناہموار کرنے
کی داستانیں نہ رقم ہوں اور لندن میں کتنے ہی ایسے صحافی و غیر صحافی
حضرات نواز شریف کے دونوں بیٹوں کی زبانی شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کی
چغلیاں سن چکے ہیں ۔ آئندہ سیاست میں مسلم لیگ ن میں کسی کا بھی جو کردار
سامنے آئے وہ وقت بتائے گا ایک بات اظہر من الشمس ہے کہ مریم نواز شریف
فی الحال کسی طور تخت لاہور پر براجمان ہوتی دکھائی نہیں دیتیں اور اگر
براجمان ہوبھی گئیں تو ایک پایا چوہدری نثار کی صورت تو بل کھا چکا دیگر
کم از کم دو پائے کھسکتے بلکے ٹوٹتے دکھائی دیتے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *