بارہ سنگھوں کی بیٹیاں

میری عمر کے لوگوں نےafshan huma بچپن میں پاکستانی کتابوں میں ایک کہانی ضرور پڑھی ہو گی۔ اور وہ کہانی تھی ایک بارہ سنگھے کی۔ جس کو اپنے سینگھوں پر بڑا ناز تھا، اور اپنی کمزور ٹانگوں پر شرمندگی محسوس کرتا تھا، کہانی کے آخر میں جب شیر اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا تو انہیں کمزور ٹانگوں نے بہت دور تک اس کی جان بچائی اور اس کے حسین سینگھوں نے ایک جھ ڑی میں پھنس کر اسے مروا دیا۔ ستر اور  اسی کی کی دہائی میں پیدا ہونے والی مڈل کلاس فیملیز کی بہت سی بچیاں ایسے ہی بارہ سنگھوں کی بیٹیاں ہیں۔ جنہیں صرف اس حسرت میں پیدا کیا جاتا رہا کہ ایک بیٹا پیدا ہو جائے۔ ایسے بہت سے گھرانے آپ کے آس پاس موجود رہے ہوں گے جن کی چار یا پانچ بیٹیاں صرف اس لیے ہیں کیونکہ انہیں ایک بیٹے کی خواہش تھی۔ کہیں تو یہ خواہش تکمیل پا گئی اور کہیں چوتھی یا پانچویں بیٹی کی پیدائش پر ماں کو طلاق نامہ موصول ہوا۔ اب یہ بچیاں ان گھروں میں پل کر جوان ہو چکی ہیں جہاں ایک یا دو سپوت جنمے جن پر ماں باپ کو فخر ہے اور رہی یہ سب تو یہ شرمندگی کا باعث ہیں۔ میں نے ان میں سے کچھ بچیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور ان کی کہانی کہیں نہ کہیں اس بارہ سنگھے کی کہانی سے جا ملتی ہے۔ آج میں آپ کو صرف تین کہانیاں سناتی ہوں۔

1۔ میں ایک سرکاری دفتر میں ملازم ہوں۔ میں نے دسویں تک تعلیم حاصل کی اور پھر والدین نے مزید پڑھنے سے روک دیا کیونکہ ہم چار بہنیں تھی اور ایک بھائی۔ اب کہتے تھے کہ بھائی تو پڑھ لکھ کر نوکری کرے گا، ہمارا کیا ہے ہم نے تو چولہا ہانڈی کرنی ہے اس لیے سکول کے بعد اجازت نہ ملی۔ میں نے پرائیویٹ ایف اے کیا اور پھر بی اے کے بھی امتحان دے ڈالے۔ امی نے جو پیسے بچا کر رکھے ہوتے تھے اس سے میری فیس دے دیتیں تھیں۔ اب نے اس لیے اعتراض نہ کیا کہ مجھ سے پہلے انہیں دو بیٹیوں کی شادی کرنا تھی اور میں نے گھر میں ٹیوشن پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ اس لیے انہیں لگا کہ میرے پڑھنے کا نقصان نہیں ہو رہا۔ جب میں نے نوکری کی خواہش کی تو بھائی نے بہت واویلا کیا لیکن میری والدہ کے کہنے پر مان گیا۔ اب میں اور میرے والد نوکری کرتے ہیں۔ چھوٹی بہن اور بھائی بھی بی اے کر چکے ہیں۔ بہن گھر پر ٹیوشن پڑھا رہی ہے۔ بھائی کسی اچھی نوکری کی تلاش میں ہے۔ سارا دن گھر سے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ بتاتا ہے۔ کہتا ہے اسے ایم ایس کرنا ہے۔ اس نے پرائیویٹ یونیسرسٹی سے بی ایس کیا تھا تا کہ اچھی نوکری مل جائے۔ ابھی تک تو نہیں ملی شاید ایم ایس کے بعد مل جائے۔ میں اپنے ماں باپ کی خدمت کر کے بہت خوش ہوں لیکن میرے والد اور میرے بھائی کو میرے کردار پر نہ جانے کیوں شک رہتا ہے۔ وہ مجھے فون پر بھی کسی سے بات کرتا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ لڑکی ہماری ناک کٹوائے گی۔۔۔

2۔ میں ایک نجی سکول میں ٹیچر ہوں۔ میرے والد کی کریانہ کی دکان ہے۔ میری والدہ بھی شادی سے پہلے ٹیچر تھیں۔ میں نے ان کی بدولت ہی بی اے تک تعلیم مکمل کی۔ ورنہ ابا کا تو خیال تھا کہ بیٹیوں کو بس پانچویں جماعت سے آگے نہ پڑھائو۔ بڑی بہن نے آٹھویں تک تعلیم حاصل کی تھی اور میں نے ایف اے کے بعد ایک سکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ ابا نے میری ملازمت پر خوش ہو کر مجھے ایک سوٹ دلوایا جو میں نے آج تک سنبھال کر رکھا ہے۔ میے سے بڑی اور چھوٹی بہنوں کی شادیاں ہو گئی اور اب بھائی کے لیے رشتہ کی تلاش جاری ہے۔ پچھلے دنوں مجھے شدت سے احساس ہوا کہ میں اپنے والدین اور بھائی کے لیے کس قدر ندامت کا باعث ہوں۔ جب ایک گھرانے نے اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انار کرتے ہوئے تو یہ کہا کہ لڑکا خود کچھ نہیں کرتا مگر میرے والد کا خیال ہے کہ میرے گھر میں موجود ہونے کی وجہ اے لوگ اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے گھبراتے ہیں۔ میرے والد نے یہ بھی کہا کہ میری صورت اچھی ہوتی تو کوئی رشتہ لے بھی لیتا، اب تو عمر بھی ذیادہ ہو گئی ہے۔ میں ہمیشہ اپنے والدین کے لیے باعث فخر رہنا چاہتی تھی مگر شاید میرا وجود ان کے لیے اور بھائی کے لیے باعث ندامت ہی رہے گا۔۔۔

3۔ میں ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہوں اور اکیلی رہتی ہوں۔ میرے بہن بھائی اسی شہر میں ہوتے ہیں اور والدین ایک بھائی کے ساتھ رہتے ہیں۔ میں نے بی ایس سی کے بعد سے پی ایچ ڈی تک اپنی تعلیم کا خرچ خود اٹھایا، نوکریاں کی اور گھر والوں کی ہر طرح کی خواہشات پوری کی۔ والد کی ریٹائرمینٹ کے بعد گھر کی کفالت کی بنایدی زمہ داری بھی اٹھا رکھی۔ میری چار بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ سب کی شادیاں ہو چکی ہیں اور سب اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہیں۔ میں نے اکیلے رہنے کا فیصلہ اس دن سے کیا جب میری بھابھیوں کے کہنے ہر میرے والد نے مجھے بد کردار گردانا۔ میرے ناکردہ گناہوں کی سزا کے طور پر مجھے اپنے لیے کلنک کا ٹیکہ قرار دیا۔ میری والدہ نے میری صفائی دینا چاہی تو انہیں طلاق کی دھمکی ملی۔ میرا گناہ یہ ہے کہ میں نے ایک سکالرشپ پر لندن سے پی ایچ ڈی کی اور اپنی زندگی کو اپنے تئیں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ لندن سے واپسی پر تین رشتوں سے انکار کیا جن میں سے ایک میری بھابھی کا بھائی تھا۔ لہزا نتیجہ یہ نکالا گیا کہ میں بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہوں۔ میرے بھائی اپنے بچوں پر میرا اثر نہیں ہونے دینا چاہتے۔ میں نے ایک ورکنگ ومن ہوسٹل میں کمرہ لے رکھا ہے۔ مہینے کی ابتدا میں والدہ کو پیسے دینے جاتی ہوں۔ چند گھنٹے گزارتی ہوں۔ کہیں نہ کہیں سے کان میں آواز پڑتی ہے اب تو خوش ہو نا اپنی پسند کی زندگی مل گئی ہے تمہیں۔۔۔

ان تینوں او ر اس جیسی بہت سی کہانیوں کو سن کر میں ہمیشو سوچتی ہوں یہ سب بچیاں بارہ سنگھوں کی بیٹیاں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *