نواز شریف کے پاس ایک اہم کارڈ باقی ہے

سرل المیڈاcyril-almeida

ایک اور ہفتہ گزرا اور ایک اور بار منہ کی کھانی پڑی۔ یا تو وہ سیکھنا نہیں چاہتے کہ وہ سننا نہیں چاہتا۔ لیکن مسئلہ مزید گھمبیرہوتا جا رہا ہے۔ پہلے نواز کی بات کرتے ہیں۔ آ پ دیکھ سکتے ہو کہ شہباز کیمپ کیا کر رہا ہے۔ شہباز اسلام آباد پہنچنا چاہتے ہیں اور حمزہ نے پارٹی کی وراثت سنبھالنے کے لیے بہت محنت کر رکھی ہے۔ والد پچھلے دس سال سے پنجاب میں ترقیاتی کاموں کے زریعے ووٹرز کا دل جیت رہے ہیں اور بیٹا  پارٹی مینیجمنٹ اور حلقہ کی سیاست کے گر سیکھ چکا ہے۔ قانونی دفاع جو کہ پہلے ہی بہت کمزور ہے  صرف ایک ہی حل سامنے لا سکتا ہے۔ نہ ہی یہ اسلام آباد تک رسائی ہے اور نہ ہی یہ نمبر ایک کی طرف جاتا ہے۔ اس لیے انہیں کوشش تو کرنی ہی تھی۔ معاملہ جو بھی ہو، سیاسی  قتل و غارت اور لڑائی پنجاب کی سیاست کا حصہ ہے۔ یہاں سوال کب کا نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ اب کیوں نہیں ۔ اس کی چھوٹی بڑی وجوہات کو بیان کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ نواز شریف ملک سے باہر تھے اور ان کی توجہ بھی سیاست پر نہیں تھی۔ اگرشیر کوچھیڑنا ہے تو تبھی چھیڑو جب کہ پہنچ سے کافی دور ہو اور فوری جوابی حملہ کے قابل نہ ہو۔ سوچیں کہ اگر نواز شریف لاہور میں ہوتے تو کیا ہوتا۔بڑا بھائی چھوٹے بھائی کواپنے گھر بلاتا اور میڈیا کو بھی بلا لیتا۔ شہباز شریف، کم از کم کیمرہ کے سامنے ہی سہی، اپنے بھائی کے حکم کو ہمیشہ بجا لاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح کے رویہ کو پارٹی کے اندر بغاوت کرنے والے افراد بلکل پسند نہیں کرتے۔ موقع بہت چھوٹا تھا۔ نواز واپس آ کر اداروں کے ساتھ اپنا ٹکراو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کمزور رکن ہمیشہ رہنے والے رکن کےلیے ایک بے معنی شے سے بڑ ھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ نواز اور مریم جو پارٹی کے بڑے چہرے ہیں ان پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ یہ تو معلوم تھا ہی کہ فرد جرم عائد ہو گی لیکن پھر بھی یہ ایک جھٹکے سے کم نہ تھی۔ اب ہم ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ جہاں تک قانونی حکمت عملی کا تعلق ہے تو نواز شریف نے آج تک کچھ نہیں سیکھا۔ سپریم کورٹ کی تمام سنوائیوں میں ایک ہی سوال  اٹھایا جاتا رہا: یہ لوگ کر کیا رہے ہیں؟   اگرچہ نواز شریف کو نا اہل قرار دیے جانے میں بہت وقت لگا لیکن یہ سمجھ نہیں آ پائی کہ نواز شریف کی قانونی حکمت عملی اتنی کمزور اور نامساعد کیوں تھی۔ بہترین اندازہ   تلخی اور کنوکشن ہے  جس کے مطابق یہ سوچا جا رہا تھا کہ ایکسٹرا جوڈیشل فورسز کسی بھی مناسب نتیجہ کو بدل دیں گی۔ اب تک نواز کو یہ سیکھ لینا چاہیے تھا۔ لیکن لگتا نہیں ہے کہ انہوں نے کچھ سیکھا ہے۔ احتساب عدالت نواز شریف کے کیس میں پھرتی دکھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگر اس وقت قانونی دفاع کی حکمت عملی کو بہتر نہ کیا گیا تو صرف ایک ہی نتیجہ نکلے گا۔ مؤرخ یہ  جان پائیں گے کہ مریم اور نواز شریف نے اتنی  بے توجہی کا مظاہرہ کیوں کیا۔ شہباز، حمزہ اینڈ کمپنی کو یہی چیز درکار ہے کہ نواز شریف سستی کا مظاہرہ جاری رکھیں۔

الیکشن بہت قریب آ چکے ہیں۔ 2018 میں تو شہباز شریف کو خواب بھی نہیں دیکھنا چاہیے۔ 2013 میں ان  کا خیال تھا کہ انہیں اسلام آباد حکومت میں آنے کی دعوت دی جائے گی۔ 2018 میں یہ چیز زیاد ہ ممکن ہے اور اب نہیں تو کبھی نہیں والی صورتحال ہے۔ شہباز اور حمزہ کو لڑنا ہو گا۔ساوتھ پنجاب  کو ترقی یافتہ بنانے کا عمل بھی اسی وقت مناسب معلوم ہوتا ہے۔ الیکشن سے قبل ساوتھ پنجاب ہر بار احتجاج کی حالت میں نظر آتا ہے۔ اس بار پہلی بار پنجاب کے اس حصے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ملک کے اسی حصے میں سب سے زیادہ جیت کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔ چونکہ پارٹی لیڈرشپ میں بھی مقابلہ جاری ہے اس لیے ساوتھ پنجاب کےلیے موقع ہے کہ وہ حالات کا فائدہ اٹھائے۔ اس موقع پر زیادہ سے زیادہ مطالبات منوا  کر الیکشن کے بعد کم مطالبات پیش کرنے کا موقع ہو گا۔

ان سب کو جمع کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ شہباز کا حملہ اور نواز کا مسئلہ کیا ہے۔نواز شریف بہت کمزور ہیں۔ ان کے ہاتھ کمزور ہیں اور ان کا جانشین بھی کمزور ہے۔ اگر آپ کے مطابق حملے کا یہ مناسب وقت نہیں تو  پھر آپ سیاست سے نابلد ہیں۔  لیکن اس کا دوسرا رخ بھی ہے۔ یعنی نواز شریف۔ ہم نے پہلے سے دیکھ لیا ہے کہ نواز شریف کسی بھی چیز کو غلط انداز سے لے سکتے ہیں اس لیے  ان کے بارے میں کسی نئے پہلو کا سوچنا عبث ہے۔ اگر وہ اب بھی لڑ رہے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ وہ جیت سکتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟  ایک اندازہ یہ ہے کہ نواز اپنے آپ کو دوبارہ  وزیر اعظم کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتے ۔ وہ چوتھی بار وزیر اعظم بننے کے حق میں نہیں ہیں ۔

اس کی بجائے یہ تھیوری اپنائی جا رہی ہے کہ  اپنی پارٹی میں قائد کی سیٹ سنبھالنے کی کوشش کرکے نواز ایک نئی ایڈجسٹمنٹ کی تیاری میں ہیں : پارٹی ان کی ہی رہے گی، اور مریم ان کی جانشین کہلائیں گی اور اس  کے بدلے فوج کو دور رہنا پڑھے گا۔  نواز کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ فوج نواز شریف اور مریم نواز کو دو الگ لیڈر سمجھتی ہے۔ ضرورت اور بے بسی نواز شریف کوایسا سوچنے پر مجبور کر رہی ہے  لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ مریم ہی قابل قبول متبادل کے طور پر قبول کر لی جائیں گی۔ دوسرا امکان  نواز شریف کےلیے زیادہ  فائدہ مند ہے۔ فوج اقتدا ر پر قبضہ نہ کرے اور نواز شریف کی ن لیگ الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو جائے۔

یہ نواز شریف کی نارمل اپروچ سے ملتا جلتا ہے جو انہوں نے نا اہل قرار دیے جانےسے پہلے اپنا رکھی تھی۔اگر آپ جانتے ہیں کہ آرمی براہ راست اقتدار میں آنے کی خواہش نہیں رکھتی  تو پھر اس سے ڈرنا کیسا؟   ایک اور امکان بھی ہے  جو نیو کلیر آپشن ہے۔ اگر وہ زیادہ دباو ڈالتے ہیں تو نواز بغاوت کر سکتے ہیں۔ سب کو معلوم ہے کہ اگر فوج کو لگا کہ یہ ضروری ہے تو وہ ایسا کر گزریں گے۔ فوج یہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور کر بھی سکتی ہے۔ اگر آپ نواز شریف ہیں ، آپ کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ، بے عزت کر دیا گیا، زخمی کر دیا گیا، اور آپ  اپنے خاندان میں بھی فیصلے کرنے کا حق کھو چکے تو  آپ کے پاس ابھی بھی ایک آپشن باقی ہے۔

انہیں ٹیک اوور کر لینے دیں۔ کیونکہ تب تک سب واپس سکوئیر ون پر پہنچ چکے ہوں گے۔ تب تک اگلے ڈکٹیٹر کے باہر ہونے کےلیے کاونٹ ڈاون شروع ہو چکا ہو گا۔ اور ن لیگ کی واپس طاقت پکڑنے کے دن آ چکے ہوں گے۔ زمینی جنگ کے ساتھ یہی مسئلہ رہتا ہے۔ کوئی بھی کھلاڑی ہارتا نہیں ہے۔ صرف پاکستانی عوام کو شکست ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *