کاشغر کے دلفریب نظارے

id kah mosque 10013146tmبشکریہ:ڈان
کافی سال پہلے علامہ اقبال نے یہ خوبصورت شعر لکھا تھا کہ
’’ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کا ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر‘‘
جس کا مطلب تھا کہ نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر کی خاک تک تمام مسلم کعبہ کی حفاظت کے لئے اکٹھے ہو جائیں۔
اب کاشغر کے اندر کوئی تو ایسی غیر معمولی بات ہو گی جس نے علامہ اقبال کو متوجہ کیا اور مہم جو ٹیم کے ساتھ تمام بات چیت کے دوران یہی بات میرے دماغ میں بھی گھومتی رہی۔
اس مہم جو ٹیم کے لیڈر کے ایک علی کا کہنا تھا کہ کاشغر خنجراب پاس سے آٹھ گھنٹے کے فاصلے پر موجود ہے اور وہاں ضرور جانا چاہئیے، وہاں کی تاریخ، کلچر، کھانا ، لوگ اور اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لئے شاپنگ کے مواقع سب آپ کو اپنی طرف بلاتے ہیں۔اور سونے پہ سہاگا تو قراقرم ہائی وے کا kashghar 3وہ راستہ ہے جس سے گزر کر کاشغر پہنچا جاتا ہے۔
مس صبیحہ عمر کا کہنا تھا کہ چین کے تمام شہروں کی خاک چھاننے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ کاشغر سب سے سستا شہر ہے۔سب سے بڑھ کر یہ پاکستان کے نزدیک ترین ہے۔ اگر آپ 4سٹار کی سہولیات لیں تو160ڈالر اور2سٹار کی سہولیات لیں تو 70ڈالر روزانہ میں Xinjiangمیں گزارا کر سکتے ہیں جس کے kashghar 4اندر ہوٹل ، ٹرانسپورٹ، داخلہ فیس، کھانا اور گائیڈ شامل ہے۔
ایک اور مہم جو نسیم چوہدری کا خوشی کے ساتھ کہنا تھا کہ اب اُن کے گروپ میں عورتیں زیادہ تھیں اسلئے خریداری تو کرنی ہی تھی۔ اُن کاکہنا تھا کہ خریداری کے لئے ینگی بازار اور Id Kah مسجد کے ساتھ موجود دستکاری کی گلی میں ضرور جائیں۔ وہاں پر کافی اقسام کی تانبے کی کیتلیاں، شادی کے صندوق، Uighurکی ٹوپیاں، موسیقی کے آلات اور رنگ برنگے کپڑے سب ملتا ہے مگر سب سے مزے کی چیز ہے وہاں کی مقامی پیداوار کشمش، سوکھی kashghar 5خوبانی، انجیر، پستہ اور کاغذی بادام ہیں۔ان کوتو آپ چھوڑ ہی نہیں سکتے۔
کاشغر میں اپنے قیام کے دوران ایک دفعہ عمران چودھری واپسی کا راستہ بھول گئے اسلئے اُنہوں نے ایک شخص کو روک کر اس سے مدد مانگی۔اُن شخص کا نام احمد بیگ تھا۔ وہ ایک انگلش کے ٹیچر تھے اسلئے اُن کی عمران صاحب سے جگہ کے بارے میں گپ شپ شروع ہو گئے۔ اُنہوں نے آواز دے کر اپنی بیوی اور بیٹی کو باہر بلایا اور ہم آپس میں بات کرنے لگے کہ کیسے اُن کی بیٹی اُن کے لئے ایک خوبصورت ٹوپی بنا رہی ہے۔ ابھی ہم بات ہی کر رہے تھے کہ اُن کو سڑک کے کنارے لمبے کھمبے پر ایک کیمرہ نظر آیا اور وہ فوراََ اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ گھر کے اندر گھس کیا۔اس بات سے عمران صاحب کو kashaghar 7بہت حیرانی ہوئی۔
ایک عجیب بات یہ کہ کاشغر کیمروں سے اور مسجدوں سے گھرا ہوا ہے۔ کہیں یہ اندر ہی اندر اس بات کی نشاندہی تو نہیں کر رہا کہ Uighurکے لوگوں کو مسلسل مانیٹر کیا جارہا ہے۔پورے چین میں ہی لوگ سیاسی گفتگو کو پسند نہیں کرتے اور موقع ملتے ہی بات کا موضوع بدل دیتے ہیں۔
میں جب اس پوری مہم کی تصویریں دیکھ رہا تھا تو وہاں موجود فوٹوگرافر بابر علی مجھے بار بار Dunhuang میں موجود دو کوہانوں والے اونٹ کی تصویر دکھا رہا تھا۔گوبی صحرا کے اختتام میںDunhuang شہر کی سیر کے دوران پورا گروپ صحرا میں اونٹوں کی سواری کے لئے گیا اور خوبصورت ریت کے ٹیلے اور چاند کی شکل میں موجود جھیل بھی دیکھی۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ دو کوہانوں والے Bactrian اونٹوں کی سواری کراچی کے ساحل پر kashghar 8موجود اونٹوں کی سواری سے زیادہ آسان ہے۔
Dunhuang کے ذکر پر وہاں موجود ایک اور مہم جو لبنیٰ خان کو کھانے کے بارے میں ایک مزیدار واقعہ یاد آگیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ لوگ وہاں موجود ایک اچھے بڑے ہوٹل میں کھانا کھا رہے تھے۔ کیونکہ وہ مسلمان تھے اس لئے اُن کے لئے تمام حلال کھانا ہی پیش کیا گیا تھا۔کھانے میں ہیم برگر بھی شامل تھے۔ جب وہاں موجود سٹاف سے پوچھا گیا کہ برگر میں کون سا گوشت شامل کیا گیا ہے تو وہاں کے سٹاف کا کہنا تھا کہ یہ پورک یا سوٗر کا گوشت نہیں ہےبلکہ ڈریگن میٹ ہے۔ جب مزید معلومات کی گئیں تو پتہ چلا کہ برگر میں گدھے کا گوشت استعمال کیا گیا تھا۔
مہوش خان کا کہناتھا کہ پورے ٹرپ کا سب سے جذباتی لمحہ وہ ہوتا ہے جب آپ کوخنجراب پاس پہ پاکستان کاباڈر نظر آتا ہے۔تمام سیکیورٹی چیکس سے گزرنے کے بعد ٹیم امیگریشن پہ پہنچی ۔ یہ کاؤنٹر بس دو گھنٹے کے لئے ہی کھلتا ہے۔مہوش کا یہ بھی کہنا تھا کہ پورا مہینہ چائنہ میں گزار کر بھی پورے پاکستان کی خوبصورتی کو دیکھنے کی خواہش آپ نہیں دبا سکتے۔پاکستان کا بارڈر دیکھ کر ہمارا اُزبک ڈرائیور بھی زور سے چلایا ’’آزادی‘‘۔ شکر تو یہ ہے کہ ہم اب اپنی زبان میں بات ک ر سکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *